صدر علوی کی عدلیہ کو سیاست زدہ کرنے کی ایک اور کوشش؟

عمرانڈو صدر عارف علوی نے شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری دکھانے کے چکر میں ایسی ایسی آئین شکنیاں کی ہیں جن کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اب صدر علوی نے الیکشن کمیشن، وزارت قانون اور قانونی ماہرین کی آراء کے برعکس عمران خان سے وفاداری دکھانے کیلئے الیکشن کیلئے 6 نومبر کی تاریخ تجویز کر دی ہے۔ صدر عارف علوی کی جانب سے انتخابات کیلئے 6 نومبر کی تاریخ دینے کے بعد ملک کے سیاسی اور صحافتی یہ بحث ہورہی ہے کہ آیا صدر کو الیکشن کی حتمی تاریخ دینے کا اختیار ہے یا وہ صرف مشورہ دے سکتے ہیں اور الیکشن کی تاریخ مقرر کرنے کی بجائے صرف تجویز کرنے کا ان کا اصل مقصد کیا ہے؟
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر نے براہ راست تاریخ کا اعلان کرنے کے بجائے 6 نومبر کی تاریخ تجویز کرکے اور پھر اس حوالے سے اعلی عدلیہ سے رائے لینے کا کہہ کے ایک طرح سے گیند عدلیہ کے کورٹ میں بھی پھینک کر سپریم کورٹ کو سیاست زدہ کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ صدر علوی بھی جانتے ہیں کہ آئینی ترمیم کے بعد الیکشن کی تاریخ مقرر کرنے کا ان کے پاس کوئی اختیار نہیں۔
سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کے مطابق انتخابات کی تاریخ دینا صدر مملکت کے اختیار میں نہیں آتا، جب الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ کا فیصلہ کر لیتا ہے تو وہ صدر کے نام سے ایک تاریخ کا اعلان کر دیتے ہیں، صدر کا صرف نام استعمال ہوتا ہے۔عرفان قادر نے کہا کہ پاکستان میں پہلے گورنر جنرل اور صدر مملکت بھی سربراہان مملکت رہے ہیں لیکن انہوں نے کبھی بھی ایسی کوئی تجویز نہیں دی اور ایسا پہلی بار ہوا ہے، صدر نے اپنے قانونی مشیروں کے کہنے پر ایسا کردیا ہے لیکن صدر کا یہ کام ہی نہیں ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات میں خود کو الجھائیں۔90 دن میں انتخابات کے انعقاد کی قدغن کے حوالے سے سوال پر ماہر قانون نے کہا کہ اگر یہ پتا چل جائے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کسی سیاسی دھڑے سے مل گیا ہے اور جان بوجھ کر انتخابات ملتوی کررہا ہے اور اس کے شواہد صدر کے سامنے آ جائیں تو صدر مملکت معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج سکتے ہیں اور پھر اگر سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس جان بوجھ کر انتخابات ملتوی کرنے کا ثبوت موجود ہو تو چیف الیکشن کمشنر کے ساتھ ساتھ کمیشن کے اراکین کو بھی نکالا جا سکتا ہے لیکن اگر اس طرح کے شواہد سامنے نہیں آتے تو پھر صدر کوئی زبردستی نہیں کر سکتے۔سابق اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ صدر مملکت کو اس حوالے سے گمراہ کیا جا رہا ہے اور ان کے آئینی مشیروں کو بھی آئین کا صحیح ادراک نہیں ہے، شاید انہوں نے اس حوالے سے کام نہیں کیا اور سپریم کورٹ بھی یہ غلطی کر چکی ہے جہاں انہوں نے 14 مئی کی تاریخ دے دی تھی اور انہوں نے اسی لئے عملدرآمد نہیں کرایا کیونکہ انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ ہم ایک غلط چیز پر کیسے عملدرآمد کرا سکتے ہیں۔
سینیئر تجزیہ کار زاہد حسین نے صدر عارف علوی کے چیف الیکشن کمشنر کے نام اس تازہ خط کے سیاسی و آئینی اثرات سے متعلق سوال کے جواب میں بتایا کہ ’صدر عارف علوی کے اس بیان کے بعد ایک نئی بحث ضرور شروع ہو گی کہ آیا وہ صرف مشورہ دے سکتے ہیں یا پھر الیکشن کی حتمی تاریخ بھی دے سکتے ہیں؟‘زاہد حسین نے کہا کہ ’ابھی کچھ عرصہ قبل ایک ترمیم بھی ہوئی تھی جس میں انتخابات سے متعلق اختیارات الیکشن کمیشن کو دے دیے گئے تھے۔ میرا خیال ہے کہ صدر عارف علوی کے خط میں 90 دن میں الیکشن کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔‘’یہ ساری چیزیں ایک تسلسل میں ہو رہی ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ دو ماہ میں الیکشن کرانا ممکن نہیں ہے۔‘فروری 2024 میں الیکشن ہونے یا نہ ہونے سے متعلق سوال پر زاہد حسین نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن کے اقدامات کی جانب دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ الیکشن ہوں گے لیکن دوسری طرف جو معاملات چل رہے ہیں، انہیں دیکھ کر بہت سے لوگ کہتے کہ شاید نگراں سیٹ اَپ ذرا طویل چلے گا۔ ابھی منظر بہت واضح نہیں ہے۔‘
ماہر قانون اشتر اوصاف نے کہا کہ تجویز دینا اور بات ہے اور تاریخ کا تقرر کرنا اور بات ہے۔ میں تو پہلے دن سے کہہ رہا ہوں صدر مملکت نے الیکشن کمیشن کوجو خط لکھا تھا کہ آیئے مشاورت کرتے ہیں تو بہت خوش آئند بات تھی ۔انہوں نے جو تجویز دی ہے اس میں انہوں نے یہی کہا ہے کہ الیکشن کمیشن تمام لوگوں کے ساتھ مشاورت کرکے اس کے اوپر اپنا رد عمل دے اس کی کیا وجہ ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ صدر مملکت کے پاس کوئی ایگزیکٹو اختیار نہیں کہ وہ الیکشن کا انعقاد کرسکیں۔الیکشن کا انعقاد کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے یہی اختیار ہم آئین پڑھیں تو گورنرز کا ہے ۔ صدر مملکت کے پاس کوئی ایگزیکٹو اختیار نہیں ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کو ہدایات دیں وہ ہدایات نہیں دے سکتے ۔
اشتر اوصاف نے مزید کہا کہ صدر مملکت کے خط سے ہیجان پیدا ہوگیا ہے، خط ان کے سرکاری منصب کے مطابق نہیں ہے، اس خط سے آئینی بحران نہیں ہیجان پیدا ہوگا، خط کا ایک ہی مقصد سیاسی و معاشی عدم استحکام پیدا کرنا ہے، صدرمملکت کا مقصد تو حل ہوگیا ہے، یہ سیاسی عدم استحکام ہے، آئینی بحران نہیں ہے، کیا سیاسی قیادت کو خوش کرنے کے لئے ملکی سالمیت کو داؤ پرلگا دیا جائے؟ یہ صدر مملکت نہیں پی ٹی آئی کے ایک کارکن کا لکھا خط ہے۔
ماہر قانون،حافظ احسان ایڈووکیٹ نے کہا کہ صدر پاکستان نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو نومبر کی ایک ایڈوائس بھجوائی ہے۔آئینی اور قانونی طور پر آئین کے برعکس ہے ان کا کوئی مینڈیٹ نہیں ہے کہ اس طرح کی کوئی ہدایات الیکشن کمیشن آف پاکستان کو دیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل اگست کے آخری ہفتے میں بھی صدر نے عام انتخابات کی تاریخ دینے کے لیے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ تھا اور انھیں ملاقات کی دعوت دی تھی جس میں ملک میں عام انتخابات کے لیے تاریخ کے اعلان کے لیے مشاورت کا کہا گیا تھا۔
صدر کے خط کے جواب میں چیف الیکشن کمشنر جوابی خط میں کہا تھا کہ قومی اسمبلی آئین کے آرٹیکل 58 ون کے تحت وزیراعظم کی سفارش پر صدر نے 9 اگست کو تحلیل کی تھی۔’اب الیکشن ایکٹ کی سیکشن 57 میں 26 جون کو ترمیم کردی گئی ہے، اس ترمیم سے قبل صدر الیکشن کی تاریخ کے لیے کمیشن سے مشاورت کرتا تھا، اب سیکشن 57 میں ترمیم کے بعد الیکشن کمیشن کو تاریخ یا تاریخیں دینے کا اختیار ہے۔
