عمرانڈو بن کرلطیف کھوسہ نے بڑھاپے میں ذلت کیسے کمائی؟

دنیا میں متعدد ایسے رہنماگزرے ہیں جنہوں نے ساری عمر جدوجہد کی۔ لیکن انہیں ادھیڑ عمری یا پھر بڑھاپے میں جاکر کامیابی ملی۔ اس کے برعکس پاکستان میں ایسے سیاستدانوں کی کمی نہیں جنہیں قدرت نے جوانی میں ہی نواز نا شروع کردیا تھا۔ لیکن بڑھاپے میں ان رہنماؤں یا سیاستدانوں نے اپنے لئے خود رسوائی خرید لی۔دلچسپ اتفاق یہ ہے کہ بڑھاپے میں رسوائی کمانے والی فہرست میں شامل زیادہ تر سیاستداں وہ ہیں جو عمران خان کے ’’عشق‘‘ میں اندھے ہوگئے یا چیئرمین پی ٹی آئی کی پُر فریب مقبولیت کو کیش کراکے سیاسی کامیابی حاصل کرنے کے چکر میں پڑگئے اور دربدر ہوئے۔
پارٹی پالیسی کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے عمران خان کی وکالت کر کے شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری دکھانے کے چکر میں سردار لطیف کھوسہ نے بڑھاپے میں اپنی عزت کا جنازہ نکال دیا ہے پاکستان پیپلز پارٹی نے ناراض رہنما اور وکیل سردار لطیف کھوسہ کو ’پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پر ’ شو کاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے وضاحت طلب کر لی ہے کہ پارٹی پالیسی کی مسلسل خلاف ورزی پر کیوں نہ آپ کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے؟
پیپلزپارٹی کے سیکریٹری جنرل نیر بخاری کی جانب سے شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن ہونے کے باوجود پارٹی کی اجازت کے بغیر آپ کسی اور جماعت کے سربراہ کا کرپشن کیس میں دفاع کر رہے ہیں، جس میں ان کو سزا دی جاچکی ہے، اسی طرح ان کے خلاف آفیشل سکریٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں بھی دفاع کر رہے ہیں۔مزید کہا گیا ہے کہ سائفر معاملے پربھی آپ نے ریاستی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
اگرچہ خط میں کسی کا نام نہیں لیا گیا لیکن یہ واضح طور پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا حوالہ تھا، جنہیں گزشتہ مہینے توشہ خانہ کیس میں گرفتار کیا گیا تھا، لطیف کھوسہ پی ٹی آئی سربراہ کے خلاف درج کئی مقدمات میں ان کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔سابق وزیر اعظم کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ایک کیس کا بھی سامنا ہے، جو سفارتی دستاویز سے متعلق ہے، یہ مبینہ طور پر عمران خان کے پاس سے غائب ہو گیا تھا۔
پیپلز پارٹی کی جانب سے لطیف کھوسہ کو جاری نوٹس میں پوچھا گیا ہے کہ ’پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پر‘کیوں نہ آپ کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے؟نوٹس میں کہا گیا ہے کہ سات روز میں شوکاز نوٹس کا جواب نہ دینے کی صورت میں آپ کی پارٹی رکنیت ختم کردی جائے گی۔خیال رہے کہ یہ خط اس دن بھیجا گیا ہے، جب لاہور میں سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کا اجلاس متوقع ہے، جس میں پارٹی کے تمام ناراض رہنماؤں کو شرکت کی دعوت دی ہے۔
واضح رہے کہ ماضی قریب میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی قربت اور حمایت کرنے پر پیپلزپارٹی کے 2 مرکزی رہنماؤں سردار لطیف کھوسہ اور اعتزاز احسن سے پارٹی کا اختلاف رہا ہے۔ پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان بازی کرنے اور عمران خان کی کھل کر حمایت کرنے پر پیپلز پارٹی پنجاب کی قیادت کی طرف سے نہ صرف ان پر شدید تنقید کی جاتی رہی ہے بلکہ ایک موقع پر وال آف شیم بنا کر اعتزاز احسن اور سردار لطیف کھوسہ کی تصاویر بھی اس پر آویزاں کی جا چکی ہیں جبکہ پیپلز پارٹی پنجاب کے رہنماؤں کی جانب سے انھیں پارٹی سے نکالنے کا مطالبہ بھی کیا جاتا رہا ہے تاہم اب پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت کی جاب سے پالیسی میں تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ عمرانڈو قرار پانے والے اعتزاز احسن اور سردار لطیف کھوسہ کو پارٹی سے نکالنا تو کجا دونوں رہنماؤں کو پارٹی کے گزشتہ سی ای سی اجلاس میں بھی مدعو کیا گیا تھا، اعتزاز احسن اس اجلاس میں شریک ہوئے تھے جبکہ سردار لطیف کھوسہ نے شرکت سے گریز کیا تھا۔اس حوالے سے پیپلزپارٹی کے ایک سینیئر رہنما نے بتایا کہ لطیف کھوسہ اور اعتزاز احسن کو 14 ستمبر کو ہونے والے سی ای سی اجلاس میں بھی مدعو کیا گیا ہے تاہم یہ ان پر منخصر ہے کہ وہ اجلاس میں شریک ہوتے ہیں یا نہیں۔
خیال رہےکہ سابق گورنر سردار لطیف کھوسہ کو چیئرمین پی ٹی آئی کے حق میں بیان دینے پر شوکاز نوٹس بھی جاری کیا جاچکا ہے لیکن پارٹی رہنماؤں نے بتایا کہ لطیف کھوسہ اب بھی سی ای سی کے رکن ہیں۔اجلاس میں انہیں مدعو ضرور کیا گیا ہے لیکن بظاہر اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ لطیف کھوسہ اجلاس میں شرکت کریں گے، ان کے بیٹے خرم کھوسہ نے بتایا کہ ہمیں دعوت نامہ موصول ہوا ہے لیکن ہم اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے کیونکہ ہم عدالتی کیسز میں مصروف ہوں گے۔خرم کھوسہ نے مزید کہا کہ ہم پیشہ ور وکیل ہیں اور ہماری ترجیح ہمارے کیسز ہیں۔تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ اعتزاز احسن اجلاس میں شرکت کریں گے یا نہیں، تاہم انہوں نے 25 اگست کو ہونے والے پارٹی کے گزشتہ سی ای سی اجلاس میں شرکت کی تھی۔پیپلزپارٹی کے ایک رہنما کے مطابق اعتزاز احسن گزشتہ اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کرنا چاہتے تھے لیکن پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اصرار کیا کہ اگر وہ اجلاس میں شرکت کرنا چاہتے ہیں تو ذاتی طور پر شرکت کریں۔
