نگران حکومت نے عوام کا تیل نکالنے کا فیصلہ کر لیا

نگران حکومت نے ایک بار پھر بجلی کے بھاری بلوں اور مہنگائی سے پریشان عوام پرپٹرول بم گرانے کافیصلہ کر لیا۔روپے کی قدر میں کمی اور تیل کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اضافے کی وجہ سے رواں ہفتے کے آخر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کیے جانے کا خدشہ ہے۔ 16 ستمبر سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ متوقع ہے ‘ پیٹرول کی قیمت میں 12 روپے فی لیٹر ‘ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافہ کا امکان ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابقگلف مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت88 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 93 ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ ایک ہفتے کے دوران عالمی مارکیٹ میں خام تیل 5 ڈالر فی بیرل مہنگا ہو چکا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی بلند ہوتی قیمتیں پاکستان میں مہنگائی کے نئے طوفان کے خدشات کو جنم دے رہی ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں بڑھنے کے بعد دونوں بڑی پیٹرولیم مصنوعات پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتیں بالترتیب 10سے 14 روپے اور 14سے 16 روپے فی لیٹر تک بڑھائی جا سکتی ہیں جب کہ مٹی کے تیل کی قیمت بھی تقریباً 10 روپے فی لیٹر تک بڑھ سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق رواں ماہ کے ابتدائی 10 روز میں روپے کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں 4 روپے 50 پیسے تک کمی ہوئی لیکن اس دوران ستمبر کے پہلے ہفتے میں عالمی سطح پر برینٹ کی قیمتیں 88 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 92 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں۔اس کے علاوہ حکومت پیٹرولیم ڈیلرز اور مارکیٹنگ کمپنیوں کے سیل مارجن میں اضافے کے تقریباً 88 پیسے فی لیٹر کے بوجھ کو بھی عوام پر منتقل کرے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ یکم ستمبر سے پاکستان اسٹیٹ آئل کی جانب سے درآمدات کردہ پیٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی درآمدی قیمتوں میں بالترتیب تقریباً 13 روپے، 14 روپے اور 10 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہوا ہے جبکہ قیمت فروخت میں 13 روپے، 16 روپے اور 10 روپے فی لیٹر سے زائد اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جیٹ فیول بھی 10 روپے تک فی لیٹر مہنگا ہونے کا اندازہ ہے۔اس طرح اضافے کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بالترتیب 320 روپے اور 325 روپے فی لیٹر سے تجاوز کرنے کا اندازہ لگایا گیا ہے، مٹی کے تیل کی قیمت 240 روپے فی لیٹر سے زیادہ ہوگی۔

واضح رہے کہ 31 اگست کو نگران حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا اعلان کردیا تھا جس کے بعد ملکی تاریخ میں پہلی بار پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت 300 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی تھی۔

یاد رہے کہ 31 اگست کو نگران حکومت کو آئے ابھی ایک ماہ کا بھی عرصہ نہیں ہوا تھا لیکن اس کے باوجود لگاتار دوسری مرتبہ قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا اور اس عرصے میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 35 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہو چکا تھا۔اس سے قبل 16 اگست کو بھی نگران حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں بالترتیب 17 روپے 50 پیسے اور 20 روپے کا اضافہ کردیا تھا۔

پیٹرولیم مصنوعات میں پے درپے اضافے سے ہوشربا مہنگائی میں مزید اضافے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے جہاں روپے کی قدر میں مسلسل کمی کی وجہ سے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

Back to top button