حُسنِ صوبہ ساز

 

 

 

 

تحریر: حماد غزنوی

بشکریہ: روزنامہ جنگ

ہم بھی چاہتے ہیں قصصِ شکنِ زلفِ عنبریں چھیڑیں، حکایاتِ مُشکِ غُنچہ دہاں گنگنائیں، غمزہء خنجر گزار کی باتیں کریں، رمِ غزالاں کا تذکرہ کریں، مگر سرکار مہلت ہی نہیں دیتی، تازیانے پہ تازیانہ، درے پہ درہ۔ "میں جا رہا ہوں اپنے بیابانِ حال میں…دامان الوداع! گریبان الوداع”۔

 

پاکستان میں بجلی کے ایک یونٹ کی کیا قیمت ہے؟ اس کا جواب آئین سٹائن بھی نہیں دے سکتا۔ دس پندرہ سلیبز ہیں، دن کے مختلف اوقات میں قیمتیں بدلتی ہیں، جغرافیے کیساتھ قیمت اوپر نیچے ہوتی ہے، طرح طرح کے ٹیکس شامل ہوتے ہیں، وَن سوّنی ’’ایڈجسٹمنٹس‘‘بِل میں راہ پاتی ہیں، کبھی فیول کوسٹ ایڈجسٹمنٹ،کبھی نیپرا کی خصوصی ایڈجسٹمنٹ۔ ہم نہیں جانتے یہ ایڈجسٹمنٹ کون سا جانور ہے؟ ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ جس نام سے بھی پکاریں بھیڑیا بھیڑیا ہی رہتا ہے۔ یہ سب پیسے یونٹ کی قیمت میں ہی شامل ہیں، یہ سب پیسے عوام کی جیب سے ہی نکلتے ہیں۔ اب فرمائیں، پاکستان میں بجلی کے یونٹ کی کیا قیمت ہے، 37 روپے، 50 روپے یا 70 روپے؟ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔

 

پچھلے ہفتے بجلی کے یونٹ کی قیمت میں 85۔2 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے جو ستمبر کے بل میں طمطراق سے شامل ہو گا۔ اس اضافے کے بعد آپ کے بجلی کے یونٹ کی قیمت کیا ہو گئی ہے؟ اس سوال کا جواب بارہویں صدی کے سنت گرو گورکھ ناتھ ہی دے سکتے تھے جو اپنے مریدین کی تربیت پیچیدہ فکری پہیلیوں سے کیا کرتے تھے۔ گورکھ دھندا کی اصطلاح گرو گورکھ ناتھ سے ہی منسوب ہے۔پہلے بجلی کے یونٹ کی قیمت بڑھنا ایک واقعہ ہوا کرتا تھا، کہرام بپا ہو جاتا تھا، عوام تلملاتے تھے، ہاہا کار مچاتے تھے۔ اب ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ اب یہ اضافے روزمرہ بن چکے ہیں، عوام مسلسل کراہتے ہی رہتے ہیں، درد "نارملائز” ہو گیا ہے، وہ پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیالِ روزِ جزا گیا۔ یہی معاملہ پٹرول کی دہشت ناک قیمتوں کا ہے، روز نئی قیمت، آئے روز پٹرول مہنگا ہوتا ہے، قریباً 350 روپے لٹر ہو چکاہے، اگر امریکا میں بھی پٹرول کی قیمت میں روز ردوبدل ہوتا ہے تو وہاں یہ قیمت حکومت طے نہیں کرتی، مارکیٹ کی قوتیں طے کرتی ہیں، پٹرول کا نظام سرکاری کنٹرول میں ہو اور قیمتیں روز بدلی جاتی ہوں، ایسا کہیں نہیں ہوتا۔ ابھی کچھ دن پہلے تک ہمارے ہاں پٹرول کی قیمت ہر 15 دن بعد "ایڈجسٹ” ہوتی تھی، پھر ہر ہفتے ہونے لگی، اب ہر روز ہوتی ہے، یعنی "کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے…روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے۔” اور اگر روز کسی نئے صدمے کا سامنا ہو تو اوسان شل ہو جاتے ہیں، واویلا کرنے کی طاقت بھی نہیں رہتی۔ جماعتِ اسلامی کی طرزِ سیاست سے سو اختلاف کیے جاتے ہیں، مگر اس وقت تو ہم ان کے احتجاج کے دل سے حامی ہیں، پٹرول پر سے لیوی کے نام پر 100 روپے کے لگ بھگ بھتہ لینا بند کیا جائے۔ بھارت میں سنگل پوائنٹ ایجنڈے پر کاکروچوں نے حکومت کی ناک خاک آلود کر دی ہے، سیدھا ایجنڈا، سیدھی بات جو سب کی سمجھ میں آتی ہے۔ہمارے یہاں پٹرول اور بجلی کی ہوش ربا قیمتیں عوام کی ایذا رسانی کا سب سے بڑا منبع بن چکی ہیں۔ پچھلے 11 مہینے میں آئی پی پیز کو قریباً 12 کھرب روپے بجلی کی قیمت ادا کی گئی، اور لگ بھگ 16 ارب روپے کپیسے ٹی چارجز کی مد میں دان کئے گئے، اس دیوانگی سے نجات کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا، دور دور تک نظر نہیں آتا۔ حکومتیں عوام پر بوجھ ڈالتی چلی جاتی ہیں، ڈالتی چلی جاتی ہیں۔ کئی بار ہم نے ایک منظر دیکھا ہے کہ گدھا گاڑی پر اتنا بوجھ لاد دیا جاتا ہے کہ گدھا ہوا میں معلق ہو جاتا ہے۔ عوام بھی یونہی معلق ہو چکے ہیں۔ ہم غریب ملک ہیں، پیسہ نہیں ہے، ٹیکس تو دینا پڑئیگا، ملک بھی چلانا ہے، وغیرہ وغیرہ سب درست ہے، مگر صرف ہمیں یہ بتا دیجیے کہ آپ غریبوں، مزدوروں، کسانوں، دیہاڑی داروں، عام شہریوں پر جنرل سیلز ٹیکس لگا کر جو پیسے اکٹھے کرتے ہیں وہ امراء میں کیوں بانٹ دیتے ہیں؟ یہ ریاست سالانہ 25 ارب ڈالر(جی، 25 ارب یو ایس ڈالرز) اشرافیہ میں سب سڈیز کے نام پر بانٹتی ہے۔ یہ اعداد و شمار خنجر کی طرح دل میں پیوست ہو جاتے ہیں۔ 25 ارب ڈالر سے 25 کروڑ عوام کو سال بھر مفت پٹرول اور مفت بجلی فراہم کی جا سکتی ہے۔ ہم عوام کیلئے مفت پٹرول اور بجلی نہیں مانگ رہے، فقط 25 ارب ڈالر کا حجم بتا رہے ہیں جو مٹھی بھر اشرافیہ ہڑپ کر جاتی ہے۔یہ ہیں چکی کے دو پاٹ، پٹرول اور بجلی، جن کے درمیان عوام باریک پِس رہے ہیں۔ اب آپ ہی بتائیں اس میں یہ صوبوں کا مسئلہ کہاں سے آ گیا؟ ہمارے مرض کی یہ تشخیص کس نے کی ہے؟ ہاں، اگر صوبوں کی توڑ پھوڑ سے بجلی گھروں کو کپے سٹی پیمنٹ کا مسئلہ حل ہوتا ہے تو اتوار والے دن دفتر کھول کر یہ ملی فریضہ انجام دیا جائے، بجلی کی ہوش ربا قیمتیں اگر 101 صوبے بنا کر کم ہو سکتی ہیں تو ابھی بسم اللہ کیجیے، اگر صوبے بنانے سے پٹرول سستا ہو جائیگا تو اس نیک کام میں ایک لمحے کی تاخیر بھی قومی جرم تصور ہو گا۔ بجلی پٹرول سے ہٹ کر بھی دیکھ لیں، کیا وہ مسائل جو اس آن ہمارے سینے پر سوار ہیں وہ صوبوں کی کثرت حل کر سکتی ہے؟ ہمارا مسئلہ کے پی اور بلوچستان میں دہشت گردی ہے، زیادہ صوبے ان علاقوں میں امن و امان کی ضمانت فراہم کرینگے؟ جتنے زیادہ صوبے ہوں گے اتنی زیادہ فورن انویسٹ منٹ آئیگی، اتنی زیادہ برآمدات بڑھیں گی؟ صوبوں کی فراوانی سے آبادی میں اضافے کی شرح قابو میں آجائیگی؟ہمارے مسائل نہ ون یونٹ حل کر سکا نہ کوتر سو صوبے کر سکتے ہیں، نہ پارلے مانی نظام سلجھا سکا نہ صدارتی نظام۔ ان نظاموں میں کوئی خرابی نہیں تھی، نہ آج صوبوں کی تعداد میں ہے۔ خرابی ہماری نیت کے ٹیڑھ میں ہے۔

 

Check Also
Close
Back to top button