صوبے نہیں بن رہے!!

 

 

 

 

تحریر: انصار عباسی

بشکریہ: روزنامہ جنگ

پاکستان میں ان دنوں نئے صوبوں، نئی انتظامی اکائیوں اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے حوالے سے ایک اہم بحث جاری ہے۔ ایک صحافی کی حیثیت سے میں اس بحث کو کچھ عرصے سے قریب سے دیکھ رہا ہوں۔ مختلف ذمہ دار شخصیات سے ہونیوالی گفتگو، ملنے والی معلومات اور ان معلومات کی بنیاد پر ہونیوالی اپنی رپورٹنگ کو سامنے رکھتے ہوئے میرا اپنا اندازہ یہ ہے کہ اس بحث کا عملی نتیجہ نئے صوبوں کی تشکیل کی صورت میں نکلتا دکھائی نہیں دے رہا۔ میری سمجھ کے مطابق اگر یہ معاملہ آگے بڑھتا ہے تو اس کا نتیجہ نئے صوبے بنانے کے بجائے نئی انتظامی اکائیوں کی تشکیل، موجودہ انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی اور ایسا مؤثر بلدیاتی نظام قائم کرنے پر ہوگا جس میں اختیارات بھی منتقل ہوں اور مالی وسائل بھی۔ یہ فرق بہت اہم ہے۔ سیاسی گفتگو میں اس وقت ’’نئے صوبوں‘‘ کا لفظ سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ لیکن جب میں اس معاملے سے واقف لوگوں سے بات کرتا ہوں اور مختلف حکومتی شخصیات کے بیانات کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھتا ہوں تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی مسلسل انتظامی اکائیوں اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی ضرورت کی بات کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال بھی اس بحث میں انتظامی اصلاحات اور بہتر طرز حکمرانی کے پہلو کو اہم قرار دے چکے ہیں، جبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف سمیت دیگر اہم حکومتی شخصیات کی گفتگو سے بھی یہ احساس ہوتاہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی ضرورت پر سنجیدگی سے غور ہو رہا ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مقصد صرف نئے صوبے بنانا نہیں تو پھر آخر کیا ہونے جا رہا ہے؟ میرے خیال میں اس سوال کا جواب اختیارات کی منتقلی میں ہے۔ پاکستان کا بنیادی مسئلہ شاید یہ نہیں کہ ملک میں چار صوبے ہیں یا آٹھ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ فیصلے کہاں ہوتے ہیں، وسائل کہاں سے آتے ہیں اور ان فیصلوں پر عمل درآمد کی طاقت کس کے پاس ہے۔ ایک عام شہری کو اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کہ اس کا علاقہ کس صوبے میں ہے، اگر اسے صاف پانی، اچھی سڑک، مناسب اسپتال، معیاری اسکول، صفائی اور دیگر بنیادی سہولتیں حاصل نہیں تو اس کیلئے ریاست کا اصل چہرہ وہی ادارہ ہے جو اسکے گھر کے قریب موجود ہے۔ اسی لیے اگر موجودہ بحث کا مقصد واقعی حکمرانی کو بہتر بنانا ہے تو اصل تبدیلی صوبائی سرحدوں کی تبدیلی سے زیادہ اختیار کی سمت تبدیل کرنے میں ہونی چاہیے۔ میرا اندازہ ہے کہ ممکنہ طور پر اسی طرف پیشرفت ہوگی۔ ملک کے موجودہ انتظامی ڈھانچے کو سامنے رکھتے ہوئے ڈویژنوں، اضلاع یا کسی مناسب سطح پر ایسی انتظامی اکائیاں تشکیل دی جاسکتی ہیں جو محض نام کی انتظامی اکائیاں نہ ہوں بلکہ انہیں حقیقی اختیارات حاصل ہوں۔ انکے ساتھ ایک مضبوط بلدیاتی نظام قائم کیا جائے جو عوام کے سامنے جواب دہ بھی ہو اور اپنے علاقے کے بارے میں فیصلے کرنے کا اختیار بھی رکھتا ہو۔ یہاں اختیارات کی منتقلی کا مطلب صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ایک فائل صوبائی دارالحکومت سے نکل کر ضلع تک پہنچ جائے۔ اختیارات کی حقیقی منتقلی کا مطلب انتظامی اختیار کی منتقلی بھی ہے اور مالی اختیار کی منتقلی بھی۔ اگر مقامی حکومت کے پاس فیصلہ کرنے کا اختیار ہی نہیں تو اسے اختیار دینابے معنی ہے۔ اور اگر اختیار دے بھی دیا جائے لیکن پیسہ صوبائی دارالحکومت کے پاس رہے تو وہ اختیاربھی عملی طور پر بے اثر ہوجاتا ہے۔ پاکستان میں شاید یہی بنیادی مسئلہ رہا ہے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو اختیارات کی منتقلی ایک بڑی آئینی پیشرفت تھی، لیکن صوبوں سے مزید نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی وہ کامیابی حاصل نہ کرسکی جسکی توقع کی گئی تھی۔ مقامی حکومتوں کے انتخابات کبھی کبھار تو ہوتے رہے، لیکن انہیں مستقل، بااختیار اور مالی طور پر مضبوط بنانے کی نیت کبھی خالص نہ تھی۔ اگر موجودہ بحث اسی تجربے سے سبق لے رہی ہے تو یہ ایک مثبت پیشرفت ہوسکتی ہے۔ کیونکہ ہمیں ایسا بلدیاتی نظام نہیں چاہیے جسے صوبائی حکومت جب چاہے قائم کرے اور جب چاہے ختم کردے، جسکے پاس اپنے فیصلوںکیلئے مناسب وسائل نہ ہوں اور جس کا سربراہ ہر بڑے معاملے کیلئے صوبائی حکومت کی طرف دیکھتا رہے۔ ایک مؤثر نظام میں مقامی سطح پر سیاسی اختیار، انتظامی اختیار اور مالی اختیار تینوں ضروری ہیں۔ یہاں نئی انتظامی اکائیاں ایک اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ مثلاً موجودہ ڈویژنوں کو ایک نئے طرز حکمرانی کے تحت زیادہ بااختیار بنایا جائےیا آبادی، جغرافیہ اور انتظامی ضرورت کے مطابق نئی اکائیاں تشکیل دی جائیں۔ ان اکائیوں میں سرکاری انتظامیہ اور منتخب مقامی نمائندوں کو ایک ایسے نظام کے تحت کام کرنے کا موقع دیا جائے جس میں ذمہ داریاں واضح ہوں، وسائل مختص ہوں اور جواب دہی بھی موجود ہو۔ صوبے ختم کرنے کی ضرورت نہیں۔ صوبوں کا اپنا آئینی اور سیاسی کردار اپنی جگہ برقرار رہ سکتا ہے۔تاہم صوبوں کے اندر حکمرانی کو اس طرح منظم کیا جاسکتا ہے کہ فیصلہ سازی اور وسائل عوام کے قریب منتقل ہوں۔ میرے نزدیک یہی وہ راستہ ہے جس پر موجودہ بحث بالآخر پہنچ سکتی ہے اور شاید یہی راستہ نئے صوبوں کے مقابلے میں زیادہ قابل عمل بھی ہے۔ نئے صوبے بنانا آئینی طور پر ایک پیچیدہ عمل ہے۔ اس کیلئے وسیع سیاسی اتفاق رائے درکار ہوگا، مختلف علاقوں کے مطالبات سامنے آئیں گے، وسائل اور حدود کے سوالات اٹھیں گے اور لازماً یہ بحث سیاسی کشمکش کا شکار بھی ہوسکتی ہے۔ اس کے مقابلے میں انتظامی اصلاحات اور حقیقی اختیارات کی منتقلی کے ذریعے بہت سے مقاصد نسبتاً کم سیاسی پیچیدگی کے ساتھ حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ لیکن شرط صرف ایک ہے کہ یہ اختیارات کی منتقلی حقیقی ہونی چاہیے۔ اگر نئی انتظامی اکائی بنا کر اس کے اوپر صرف ایک نیا افسر بٹھا دیا گیا، چند دفاتر قائم کردیے گئے اور پھر سارا اختیار صوبائی حکومت کے پاس ہی رہا تو اس سے عام آدمی کی زندگی نہیں بدلے گی۔ اصل تبدیلی اس وقت آئیگی جب ایک علاقے کے لوگوں کو اپنے علاقے کے ترقیاتی فیصلوں کا اختیار ملے گا، ان کے منتخب نمائندوں کو وسائل میسر ہوں گے، مقامی انتظامیہ کو کام کرنے کی آزادی ہوگی اور اس پورے نظام کیلئے واضح جواب دہی کا طریقہ موجود ہوگا۔ ایک صحافی کی حیثیت سے میری اب تک کی معلومات اور مختلف ذمہ دار حلقوں سے ہونے والی گفتگو سے مجھے یہی محسوس ہوتا ہے کہ اس بحث کا شور نئے صوبوں کے گرد ضرور ہے، لیکن ممکنہ حل وہاں نہیں ہے۔ ممکنہ حل ایک ایسے نئے انتظامی اور حکمرانی کے نظام میں ہے جس میں پاکستان کے مختلف علاقوں کو اپنے مسائل حل کرنے، اپنے وسائل استعمال کرنے اور اپنی ترجیحات طے کرنے کے زیادہ مواقع ملیں۔ اگر ایسا نظام بن گیا تو شاید پاکستان کو مزید صوبے بنانے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔ اور اگر ایسا نظام نہ بنا تو پھر نئے صوبے بھی شاید اس مسئلے کو حل نہ کرسکیں جسکی بنیادی وجہ اختیارات کا ارتکاز اور کمزور حکمرانی ہے۔ آخرکار سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں کتنے صوبے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کے عام شہری کے پاس اپنے مسائل حل کرنے کا اختیار، اس اختیار کو استعمال کرنے کیلئے وسائل اور اپنے حکمرانوں سے جواب طلب کرنے کی طاقت کتنی ہے۔ میرے خیال میں موجودہ بحث کا اصل رخ اسی سوال کی طرف جاتا دکھائی دے رہا ہے۔ صوبے شاید نہ بڑھیں، لیکن اگر اختیارات واقعی نچلی سطح تک منتقل ہوگئے تو پاکستان میں حکمرانی کا نقشہ ضرور بدل سکتا ہے۔

 

Check Also
Close
Back to top button