بدمزہ صورتحال

تحریر: ایاز میر
بشکریہ: روزنامہ دنیا
کیا بوریت ہر طرف چھائی ہوئی ہے۔ جسے صحافت کہا جاتا تھا اُس کا حشر ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا کا دور ہے‘ٹی وی چینلوں پر ویرانی چھائی ہوئی ہے۔ اخبارات کو کوئی پڑھتا نہیں اور ایسے میں کالم نویسی میں کہاں جان رہے۔ سیاست کا جنازہ نکل چکا ہے۔ فارم 47 کا ذکر اتنا ہو چکا کہ مزید ذکر سے شرم آنے لگتی ہے۔ لیکن جن حکومتوں کے ناٹک قوم کو دیکھنے پڑ رہے ہیں وہ اسی کی پیداوار ہیں۔ ہاتھ میں ان کے کچھ نہیں لیکن کمال ڈھٹائی سے اس بانجھ قسم کی حکمرانی سے جڑے ہوئے ہیں۔ شاعر نے کیا کہا تھا کہ شرم تم کو مگر نہیں آتی۔
اس کے برعکس امریکہ کی صورتحال دیکھیں‘ کتنی دلچسپ ہے۔ روز کوئی نہ کوئی شگوفہ چھوڑا جاتا ہے اور پھر پوڈ کاسٹ کرنے والے ٹرمپ انتظامیہ کے ایسے لتے لیتے ہیں کہ سُن کر مزہ آ جائے۔ فی الحال تو نیٹلی ہارپ (Natalie Harp) کا قصہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ خاتون ہے بڑی جاذب نظر‘ بلانڈ زلفیں‘ اچھی شکل اور جسامت پُرکشش۔ صدر ٹرمپ کی یوں سمجھیے گیٹ کیپر یا رکھوالی بنی ہوئی ہیں۔ جہاں صدر بیٹھے ہوں جہاں صدر جائیں نیٹلی ساتھ ہوتی ہے۔ لیپ ٹاپ اُن کے ہاتھ میں ہوتا ہے‘ صدر کے بارے میں کوئی تعریفانہ کلمہ کہیں سے آئے فوراً سامنے رکھ دیتی ہے اور صدر ٹرمپ ٹروتھ سوشل (Truth Social) پر کچھ لکھنا چاہیں تو نیٹلی فوراً ڈکٹیشن لیتی ہیں۔ بات تو یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ کسی کو صدر ٹرمپ تک رسائی حاصل کرنی ہو تو نیٹلی کے ذریعے جانا پڑتا ہے۔ ہم فارم 47 کے وزیراعظم یا وزیرخارجہ ہوتے تو اب تک نیٹلی ہارپ کا راستہ نکال لینا تھا۔ اور اُسی کے ذریعے پھر اوول آفس تک ہماری رسائی ہو جاتی۔
صدر ٹرمپ کے دو اسٹیٹ ہیں؛ ایک تو ماراے لاگو (Mar-a-Lago)جو کہ جنوبی فلوریڈا میں ہے‘ دوسرا بیڈمنسٹر (Bedminster) جو کہ واشنگٹن کے نسبتاً قریب ورجینیا میں ہے۔ کہا جاتا ہے ایک دفعہ بیڈ منسٹر میں صدر ٹرمپ گالف کھیل رہے تھے اور پیچھے پیچھے لیپ ٹاپ پکڑے نیٹلی ہارپ تھی۔ ٹرمپ شاٹ لگاتے اور گالف کارٹ میں بیٹھتے تو نیٹلی کارٹ کے پیچھے بھاگ پڑتی۔ اسے کہتے ہیں لگن اور ڈیووشن (devotion)۔
یہ بات ماننی پڑے گی کہ اس وقت امریکہ میں جس قسم کے پوڈ کاسٹ چلتے ہیں بڑے اعلیٰ معیار کے ہیں۔ ان میں ایسے بھی ہیں جہاں صدر ٹرمپ کا باقاعدہ نفسیاتی تجزیہ کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ ٹرمپ ہیں تو صدرِ امریکہ لیکن بڑے اکیلے ہیں۔ میلانیا ٹرمپ جو اُن کی بیوی ہیں اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب سے ڈونلڈ ٹرمپ دوسری بار صدر بنے ہیں ایک رات بھی میلانیا وائٹ ہاؤس میں نہیں رہیں۔ آتی جاتی رہی ہیں وہ بھی اتنا زیادہ نہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ میلانیا نے نیٹلی ہارپ کے بارے میں کہا ہے کہ جب تک یہ عورت وائٹ ہاؤس میں ہے تو میں نے وہاں نہیں جانا حالانکہ جہاں اور باتیں بہت ہو رہی ہیں صدر ٹرمپ اور نیٹلی ہارپ کے تعلقات کا ذکر نہیں آتا۔ ایک اور بات یاد آئی کہ یہ جو حالیہ نیٹو سربراہی کانفرنس کے اختتام پر صدر ٹرمپ نے جہاز بدلا اور کیٹرنگ ٹرک میں چھپ کر ایک دوسرے جہاز میں منتقل ہوئے تو جو چند لوگ صدر ٹرمپ کے ساتھ تھے اُن میں ایک نیٹلی ہارپ بھی تھی۔ سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو اور دیگر اعلیٰ عہدیدار پہلے جہاز میں بیٹھے رہے لیکن نیٹلی کا سٹیٹس تو الگ ہے۔
ایسے تمام حقائق اور ان پر مزیدار قسم کی گفتگو اور بحث امریکن میڈیا میں ہو رہی ہے۔ کسی لگی لپٹی کے بغیر۔ وہ اس لیے کہ وہاں مکمل آزادیٔ اظہار موجود ہے۔ آپ جو چاہیں میڈیا پر کہہ سکتے ہیں اور رات گئے آپ کے دروازے پر کوئی دستک نہیں ہو گی اور کوئی آپ کو کسی نامعلوم مقام پر نہیں پہنچا دے گا۔ کھلی گفتگو یہاں ہو تو اگلے حشر نہ کر دیں۔ کسی کا ذکر کرنا تو دور کی بات ہے نام تک لینا دشوار ہو جاتا ہے۔ ہماری دوست شیریں مزاری کی بیٹی ایمان اور اُس کا خاوند ہادی علی چٹھہ سال کے شروع سے اڈیالہ کے مہمان ہیں۔ جرم کیا ہے‘ کوئی اُنہوں نے ٹویٹ لکھ دی جو نازک مزاجوں پر بھاری پڑی۔ بس ٹویٹ ہی‘ اُس سے زیادہ کچھ نہیں۔ لیکن اندر ہیں اور انصاف کے پہیے بھی کیا خوب چلتے ہیں کہ نہ ضمانت نہ کسی اور قسم کی شنوائی ہو رہی ہے۔ امریکن پوڈ کاسٹوں کا میں تو رسیا ہو گیا ہوں۔ سونے بھی لگوں تو کوئی نہ کوئی پوڈ کاسٹ سننے لگتا ہوں اور اُسی میں نیند کا غلبہ آ جاتا ہے۔ ہمارا اور وہاں کا ماحول صرف مختلف نہیں یہ دو الگ جہاں ہیں۔ اُن کا جہاں اور ہمارا اور۔ اور ہم بات کرتے ہیں آگے بڑھنے کی‘ ترقی کی اور پاکستان کو پتا نہیں کیا بنانے کی۔ ذہنی معیار تو دیکھیں اپنی استعداد تو دیکھیں۔ وہ دنیا ویسے ہی ہم سے آگے نہیں‘ اس کے کچھ اسباب ہیں۔
ایران جنگ کے بارے میں بھی سب سے اچھے تبصرے امریکہ میں ہو رہے ہیں۔ کیا اُن لوگوں کی معلومات‘ کیا بولنے کی روانی‘ کیا موضوع پر دسترس۔ لیکن کوئی تالہ بندی نہیں‘ کوئی چھاپہ نہیں‘ کوئی گمشدگی نہیں۔ کھل کے باتیں ہو رہی ہیں اور معاشرہ بھی قائم ہے۔ ریاست کے ہاتھ پاؤں ایسے تبصروں سے کانپ نہیں اُٹھتے۔ یہاں ذرا سی بات پر قانون حرکت میں آ جاتا ہے اور اس انداز سے کہ انصاف کے پہیے بالکل جام ہو جاتے ہیں۔ انصاف کے دروازوں پر زور سے دستک دیں تو اندر آواز نہیں جاتی۔
سیاست کا میدان وہاں اتنا گرم ہے کیونکہ تیاری نومبر کے الیکشنوں کی ہو رہی ہے۔ کوئی نواز شریف یا آصف زرداری امیدوار نہیں چن رہا۔ امیدوار چننے کیلئے ڈیمو کریٹک اور ریپبلکن پارٹی میں باقاعدہ الیکشن ہوتے ہیں۔ یعنی پارٹی ممبر ووٹ ڈالتے ہیں کہ نومبر میں ہمارا امیدوار کس کو بننا ہے۔ کوئی جاتی امرا یا بلاول ہاؤس کے چکر نہیں لگانے پڑتے۔ صوابدید پارٹی کے ممبران کی ہوتی ہے۔ سوشلزم کا لفظ امریکہ میں تقریباً گالی سمجھا جاتا ہے لیکن پھر بھی اس الیکشن میں کئی اعلانیہ ڈیمو کریٹک سوشلسٹ ڈیمو کریٹک پارٹی کے امیدوار چنے گئے ہیں۔ کیا مقابلے ہوئے ہیں کس قسم کا زور لگایا گیا ہے۔ جو اپنے آپ کو ڈیمو کریٹک سوشلسٹ کہتے ہیں عموماً اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہودی لابی کی تنظیم امریکن اسرائیلی پبلک افیئرز کمیٹی (AIPAC) جس کے بے پناہ مالی وسائل ہیں ان امیدواروں کے خلاف ہے۔ لاکھوں کیا ملینز آف ڈالرز اس کمیٹی نے ناپسندیدہ امیدواروں کو ہرانے کیلئے مہموں میں پھینکے ہیں۔ لیکن پھر بھی امریکی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ سیاسی لوگ اسرائیل پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔ اب بھی کئی تگڑے امیدوار اس کمیٹی کی وجہ سے اپنی مہمات ہار چکے ہیں۔ لیکن بات تو وہاں ہوتی ہے‘ مخالفانہ آرا اُٹھتی ہیں‘ کوئی رات گئے اٹھانے والی بات تو نہیں ہوتی۔
یہاں کی صحافت اور ہماری سیاست میں کوئی مزہ نہیں رہا۔ چسکا نام کی چیز تو اس دور میں ختم ہو گئی ہے۔ بڑے ادوار دیکھے ہیں لیکن ایسا بدمزہ موسم شاذ ہی دیکھنے کو ملا ہے۔ دوست ملک چین میں امریکہ والی سیاسی آزادی نہیں لیکن معاشی بہتری اور ترقی تو ہے۔ ہمارا حال عجیب ہے‘ تھانیداری بھی اور مفلسی اور جہالت کے لمبے سفر بھی۔
