ضرورت سے زیادہ پیداوار کے باوجود بجلی مہنگی کیوں ہے؟

https://youtu.be/CixpJnkqQXc
نیپرا کی تازہ رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ ملک میں بجلی کی وافر پیداوار کے باوجود اسکے صنعتی اور گھریلو نرخ بنگلہ دیش، سری لنکا اور بھارت کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسکے مہنگا ہونے کی سب سے بڑی وجہ وہ بجلی ہے جو بجلی گھروں میں پیدا تو ہوتی ہے لیکن اسے استعمال نہیں کیا جاتا البتہ اس کی قیمت کی ادائیگی انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز کے ساتھ حکومت پاکستان کے معاہدوں کی وجہ سے لازمی ہے۔
ماہر معاشیات اور سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں 26 فیصد، صنعتی صارفین کے لیے 45 فیصد جب کہ کمرشل صارفین کے لیے 42 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو کہ ایک نیا ریکارڈ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی ایک وجہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ ہونے والے معاہدے ہیں۔ جس کے تحت حکومت کو توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے کو کم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کی شرح میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق نیپرا کی رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ بجلی کی نصب شدہ استعداد میں چار سال میں 39 فی صد اضافہ ہوا جب کہ کرونا کی صورتِ حال میں ملک میں بجلی کا مجموعی استعمال ایک فی صد گرا جو بہت کم ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں بجلی کی مجموعی کھپت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ تاہم دیگر صوبوں کے مقابلے میں بلوچستان میں بجلی کا استعمال نہ بڑھنا تشویش کی بات ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں بجلی کے نگراں ادارے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی یعنی نیپرا کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بجلی مہنگی ہونے کی سب سے بڑی وجہ وہ بجلی ہے جو بجلی گھروں میں پیدا تو ہوتی ہے لیکن اسے استعمال نہیں کیا جاتا البتہ اس کی ادائیگی لازمی ہے جسے کیپیسٹی پیمنٹ بھی کہا جاتا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ صرف یہی نہیں بلکہ پرانے اور ناکارہ پاور پلانٹس، گردشی قرضوں کا پہاڑ، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نظام کی خرابیاں، نامناسب منصوبہ بندی، بے انتظامی بھی بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمت کے اسباب میں شامل ہیں۔ پاکستان میں ایک جانب بجلی کی کھپت مختلف ممالک کی اوسط کھپت سے کہیں کم بتائی جاتی ہے تو دوسری جانب اس سے معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔
توانائی امور کے ماہر فرحان محمود کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس وقت بجلی پیدا کرنے کے بڑے ذریعوں میں پن بجلی، آر ایل این جی، کوئلہ، جوہری بجلی گھر، فرنس آئل، گیس اور دیگر شامل ہیں۔ ان ذریعوں میں سستی بجلی کا بڑا ذریعہ پن بجلی ہے۔ لیکن اس میں مشکل یہ ہے کہ یہ صعف طویل مدت منصوبے کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔ فرحان کا کہنا ہے کہ پن بجلی کی پیداوار میں اضافے کے لیے حکومت 4500 میگاواٹ نصب شدہ صلاحیت کے حامل دیامیر بھاشا ڈیم اور 800 میگا واٹ کے مہمند ڈیم جیسے دیگر منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ لیکن ان کی تعمیر مکمل ہونے میں آٹھ سے 10 برس کا وقت لگ سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پن بجلی کے منصوبے اس رفتار سے بڑھانے ہوں گے کہ ہماری سالانہ پانچ سے چھ فی صد طلب پوری کی جاسکے۔انہوں نے بتایا کہ قدرتی گیس بھی سستا ذریعہ ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ملک میں گیس کے کم ذخائر ہونے کی وجہ سے اب بمشکل گھریلو ضروریات ہی پوری ہو پا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ تیسرا سستا ذریعہ متبادل توانائی ہے جس میں شمسی توانائی، ہوا اور بائیو گیس سے بجلی کا حصول شامل ہے۔ ان منصوبوں پر کام ہو سکتا ہے لیکن اب تک متبادل توانائی سے چھوٹے پیمانے پر ہی بجلی پیدا کی جارہی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ طلب کو پورا نہیں کر پا رہے ہیں اور ملک میں بجلی کی مجموعی قیمت پر اس کا کوئی خاص اثر نہیں پڑ رہا ہے۔
نیپرا رپورٹ کے مطابق بجلی مہنگی ہونے کی ایک اور وجہ گردشی قرضے بھی ہیں۔ بجلی گھروں کو اس بجلی کی بھی ادائیگی کی جاتی ہے جنہیں ان بجلی گھروں سے نکالا یا استعمال نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ سابق حکومتوں کے معاہدوں کی پاسداری کرتے ہوئے ان بجلی گھروں کو بھی جنکا استعمال کم ہے، ادائیگیاں لازم ہوتی ہیں۔ ان ادائیگیوں میں تاخیر پر حکومت کو سود کی مد میں مزید ادائیگیاں کرنا پڑتی ہیں اور صرف اس مد میں 611 ارب روپے ادا کرنے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حکومت کی بجلی کی مد میں دی جانے والی سبسڈیز کو بروقت ادائیگی نہ کرنے سے ‘ٹی اینڈ ڈی لاسز’ پر بھی گردشی قرضوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ اور اب یہ مجموعی گردشی قرضہ بڑھ کر 2 ہزار 280 ارب روپے سے بھی تجاوز کر چکا ہے جو اس سے قبل جون 2020 میں دو ہزار 150 ارب روپے تھا۔

Back to top button