کیس کا فیصلہ دے کر میری زندگی آسان کردیں،

اداکار و گلوکار علی ظفر نے لاہور کی مقامی عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان کی جانب سے میشا شفیع، علی گل پیر اور عفت عمر سمیت دیگر افراد کے سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہم چلانے کے کیس کا فیصلہ سنا کر ان کی زندگی آسان کی جائے۔

علی ظفر کی جانب سے نومبر 2018 میں میشا شفیع، علی گل پیر، عفت عمر اور حمنہ رضا سمیت دیگر 9 افراد کے خلاف سوشل میڈیا پر جھوٹی مہم چلانے کے دائر کیے گئے کیس کی سماعت ہوئی۔

عدالت نے علی ظفر کی درخواست کا نوٹس لیتے ہوئے علی گل پیر کے میڈیکل سرٹیفکیٹ سے متعلق نوٹسز جاری کیے۔

عدالت نے ملزمہ فریحہ ایوب کی ذاتی پیشی سے استثنیٰ کی درخواست کی بھی منظوری دی۔

میجسٹریٹ نے اسی کیس میں علی گل پیر کی جانب سے دائر کی گئی اپنی گرفتاری کے احکامات کو منسوخ کرنے کی درخواست بھی منظور کی۔

عدالت نے علی گل پیر کے وارنٹ گرفتاری ان کی مسلسل عدالت پیشی سے مشروط کردیے۔

عدالت نے میشا شفیع اور ماہم جاوید کی استثنیٰ کی درخواست مسترد کی اور دونوں کو آئندہ ماہ 8 نومبر کو پیش ہونے کا حکم دیا۔

دوران سماعت علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ وہ اسلام آباد جا رہے تھے کہ انہیں وکیل نے بتایا کہ آج سماعت ہونی ہے اور وہ ایک گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش ہوئے جب کہ دوسری پارٹی تین سال سے عدالت پیش نہیں ہو رہی۔

علی ظفر نے عدالت میں بیان دیا کہ تاحال میشا شفیع پیش نہیں ہوئیں اور اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ وہ آئندہ بھی پیش نہیں ہوں گی، اس لیے مذکورہ کیس کا فیصلہ سنا کر ان کی زندگی آسان بنائی جائے۔

گلوکار و اداکار نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کی جانب سے میشا شفیع، علی گل پیر اور عفت عمر سمیت دیگر ملزمان کے خلاف دائر کی گئی درخواست کا فیصلہ سنا کر معاملے کو حل کیا جائے۔

علی ظفر نے نومبر 2018 میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں شکایت درج کروائی تھی جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس ان کے خلاف ‘توہین آمیز اور دھمکی آمیز مواد’ پوسٹ کررہے ہیں۔

علی ظفر نے الزام لگایا تھا کہ اپریل 2018 میں میشا شفیع کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزام سے ہفتوں قبل کئی جعلی اکاؤنٹس نے گلوکار کے خلاف مذموم مہم کا آغاز کیا تھا۔

Back to top button