طالبان حکومت سے روابط رکھنے کے سوا چارہ نہیں

پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے دنیا کو خبر دار کیا ہے کہ  افغانستان میں قیام امن کیلئے طالبان حکومت سے روابط رکھنے کے لیے کوئی چارہ نہیں ہے ، اگر افغانستان کے ساتھ تعلقات نہ بنائے گئے تو دنیا کو ایک پھر افغانستان سے دہشت گردی کے خطرے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اسلام آباد میں غیر ملکی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے معید یوسف نے واضح کیا کہ پاکستان کے پاس افغانستان کے ساتھ روابط رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

انہوں نے پاکستان کی طرف سے افغانستان کی نئی حکومت کے ساتھ تعلقات چھ وجوہات بتائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو افغانستان سے دنیا بھر کے شہریوں کے انخلا کے علاوہ ، انسانی بحران کے خدشے سے بچنے، دہشت گردی سے بچنے، بارڈر مینجمنٹ، مہاجرین کے بحران سے نمٹنے اور علاقائی معیشت کے لیے تعلقات بنانا ضروری ہیں۔

انہوں نے دنیا بھر کے ممالک سے اپیل کی کہ وہ افغانستان  سے تعلقات قائم کریں تاکہ خطے کو نئے بحران سے بچایا جائے اور ماضی کی غلطیوں کا اعادہ نہ ہو۔معید یوسف کا کہنا تھا کہ یہ دنیا کے اپنے مفاد میں ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات قائم کرے۔انہوں نے کہا کہ اگر دنیا نے ماضی کی طرح افغانستان کو چھوڑا تو داعش، القاعدہ اور ٹی ٹی پی جیسی تنظیموں کے پنپنے کا خطرہ رہے گ  جو کہ پاکستان اور دنیا کی دشمن ہیں۔

Back to top button