عبدالرحمن مکی کوعالمی دہشتگرد قرار دینے کی بھارتی تجویز ویٹو

چین نے پاکستان کے مبینہ عسکریت پسند عبدالرحمن مکی کو ”عالمی دہشت گرد‘‘ قرار دینے کی بھارتی تجویز کو ویٹو کر دیا۔
ڈی ڈبلیو کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں چین پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ دنیا کے انتہائی بدنام ترین دہشت گردوں کے خلاف حقیقی اور ناقابل تردید شواہد کے باوجود ان کو بلیک لسٹ کرنے کی تجویز کو التوا میں رکھا گیا ہے۔ اس طرح کا دوہرا معیار کونسل کی معتبریت پر سوالیہ نشان ہے۔
رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے مستقل رکن اور پاکستان کے قریبی اتحادی چین نے جون میں بھارت اور امریکہ کی طرف سے پیش کردہ ایک مشترکہ تجویز کو آخری لمحوں میں ویٹو کر دیا تھا، جس میں مبینہ عسکریت پسند عبدالرحمان مکی کو ایک ”بین الاقوامی دہشت گرد‘‘ قرار دینے کی سفارش کی گئی تھی۔
خیال رہے کہ عبدالرحمان مکی لشکر طیبہ کے سربراہ اور ممبئی بم دھماکوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ حافظ سعید کے برادر نسبتی ہیں۔ امریکہ نے انہیں دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ان کی گرفتاری یا ان کے بارے اطلاع دینے پر 20 لاکھ ڈالر کا انعام رکھا ہے۔
رپورٹ بھارت کی مستقل نمائندہ روچیرا کمبوج نے منگل کے روز بیجنگ کی صدارت میں ہونے والی سلامتی کونسل کی ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شواہد کے باوجود کسی کودہشت گرد قرار دینے کی تجویز کو کوئی مناسب دلیل پیش کیے بغیر التوا میں رکھنے اور اس میں رخنہ ڈالنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ چین پہلے بھی پاکستان میں سرگرم مبینہ دہشت گردوں کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرانے کی بھارت اور اس کے اتحادیوں کی کوششوں کو ناکام بنا چکا ہے۔
