عثمان کاکڑ عدالتی کمیشن کیوں ختم کیا گیا؟


سابق سینیٹر عثمان کاکڑ کی پراسرار موت کی تحقیقات کے لیے قائم کیا جانے والا بلوچستان ہائیکورٹ کا دو رکنی عدالتی کمیشن کسی نتیجے پر پہنچے بغیر اس لیےبختم کرنا پڑا کہ مقتول کے خاندان نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ججوں کا تحقیقاتی کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا جو کہ تسلیم نہیں کیا گیا۔ لہٰذا پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما سینیٹر عثمان خان کاکڑ کی موت کی وجوہات جاننے کے لیے بنایا جانے والا عدالتی کمیشن ختم کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عثمان کاکڑ کے خاندان کی جانب سے اس عدالتی کمیشن کا بائیکاٹ کیا گیا تھا اور سپریم کورٹ کا تحقیقاتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا جو صوبائی حکومت کے لیے پورا کرنا ممکن نہیں تھا لہٰذا اس کمیشن کو ختم کر دیا گیا ہے۔
کمیشن کے خاتمے کے بارے میں بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کو باقاعدہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ایک عدالتی کمیشن کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوا ہے۔ پشتون خواہ میپ اور عثمان کاکڑ کے رشتہ داروں کا دعویٰ ہے کہ عثمان کاکڑ کی موت طبعی نہیں تھی بلکہ ان کو قتل کیا گیا۔ لہازا انھوں نے عدالتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔ بلوچستان حکومت کی جانب سے کمیشن قائم کیا گیا لیکن پارٹی کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جاتا رہا کہ عثمان کاکڑ کی موت کی وجوہات کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں عدالتی کمیشن قائم کیا جائے یا پھر تحقیقات اقوام متحدہ سے کرائی جائیں۔
پشتونخواملی عوامی پارٹی نے کوئٹہ میں عثمان کاکڑ کی چہلم کی مناسبت سے ایک بڑے جلسہ عام میں اس مطالبے کو ایک مرتبہ پھر دہرایا۔
بلوچستان ہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل عدالتی کمیشن کو رپورٹ پیش کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت دیا گیا تھا۔سابق سینیٹر عثمان خان کاکڑ 17جون کو اپنے گھر میں سر پر چوٹ کی وجہ سے بے ہوش ہوئے تھے۔کوئٹہ میں علاج کے بعد ان کو کراچی منتقل کیا گیا تھا جہاں 21 جون کو ان کا انتقال ہوگیا تھا۔عثمان کاکڑ کے خاندان کے افراد اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی جانب سے عثمان کاکڑ کی موت کو قتل قرار دیا گیا۔ان کا یہ کہنا تھا کہ ان کے گھر میں نامعلوم افراد آئے اور ان کو حملے نشانہ بنایا۔پشتونخواملی عوامی پارٹی اور عثمان کاکڑ کے خاندان کی موت کی وجوہات کی تحقیقات کے مطالبے کے پیش نظر محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان نے ہائیکورٹ کے دو ججوں کے نام ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو بھیجتے ہوئے یہ درخواست کی تھی کہ ان پر مشتمل کمیشن قائم کیا جائے۔
یہ پہلا موقع تھا کہ حکومت کی جانب سے ہائیکورٹ کے دو ججوں کی نامزدگی کے ساتھ چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ سے ان ججوں پر مشتمل کمیشن قائم کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔تاہم ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس جمال خان مندوخیل نے جن دو ججوں کی نامزدگی کی ان میں ایک جج کا نام وہی تھی جس کی نامزدگی کی درخواست حکومت کی چٹھی میں کی گئی تھی لیکن دوسرے جج کے طور پر کسی اور جج کو شامل کیا گیا تھا۔
اس کمیشن نے ایک ماہ میں تحقیقات مکمل کر کے حکومت کو رپورٹ دینی تھی لیکن اس کمیشن کے سامنے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور عثمان کاکڑ کے خاندان کا کوئی فرد پیش نہیں ہوا۔عثمان کاکڑ کی تدفین کے بعد پشتونخواملی عوامی پارٹی نے ان کے مبینہ قتل کے خلاف مختلف علاقوں میں احتجاجی جلسوں کا سلسلہ شروع کیا۔
ان جلسوں میں پشتونخواملی عوامی پارٹی اور عثمان کاکڑ کے صاحبزادے خوشحال خان کاکڑ کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جاتا رہا کہ قتل کی تحقیقات جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں عدالتی کمیشن یا اس کے لیے اقوام متحدہ کی کمیٹی بنائی جائے۔
سینیچر کو کوئٹہ کے سائنس کالج میں عثمان کاکڑ کی چہلم کی مناسبت سے جو جلسہ ہوا اس میں بھی ایک اہم مطالبہ یہی تھا۔جب اس مطالبے اور بلوچستان حکومت کی قائم کردہ عدالتی کمیشن کے سامنے پیش نہ ہونے کے بارے میں عثمان کاکڑ کے صاحبزادے خوشحال خان کاکڑ سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ‘بلوچستان حکومت کی کمیشن کو ہم نے پہلے ہی مسترد کیا تھا کیونکہ حکومت کا یہ اقدام بدنیتی پر مبنی تھی’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘حکومت کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ ججوں کی نامزدگی کرے لیکن حکومت کی جانب سے چیف جسٹس کو کمیشن قائم کرنے کی جو درخواست کی گئی اس درخواست میں پہلے ہی حکومت نے ججوں کی نامزدگی کی تھی’۔
خوشحال خان کاکڑ کے بقول حکومت کی نیت خراب تھی اور صحیح معنوں میں انکوائری نہیں نہیں کرانا چاہتی تھی اس لیے ہماری پارٹی اور ہمارے خاندان دونوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم بلوچستان حکومت کی قائم کردہ اس کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔اس عدالتی کمیشن کو ایک ماہ میں حکومت کو رپورٹ پیش کرنی تھی لیکن اخبارات میں اشتہارات کے اجرا کے باوجود اس کے سامنے کوئی بھی پیش نہیں ہوا۔
ماضی میں عدالتی کمیشنوں کے رپورٹس آنے کے بعد ان پر بعض فریقین کی جانب سے اعتراضات کیے جاتے رہے ہیں لیکن یہ پہلا موقع تھا کہ کوئی کمیشن رپورٹ جاری کیے بغیر ختم ہوا۔بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کو وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے باقاعدہ طور پر آگاہ کیا کہ اس کمیشن کو ختم کیا گیا ہے۔ بلوچستان اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ عثمان لالہ کے موت کا واقعہ ہوا تو اخبارات میں ان کی پارٹی اور لواحقین کی جانب سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ عدالتی کمیشن بنایا جائے۔اس اخباری مطالبے پر ہم نے عدالتی کمیشن بنادیا۔ ‘کمیشن کی رپورٹ مجھے آئی کہ ایک مہینے اخبارات میں اشتہارات دیے گئے لیکن کوئی بھی سامنے نہیں آیا’۔وزیر داخلہ نے کہا کہ کمیشن کے ساتھ پارٹی اور لواحقین میں سے کسی نے تعاون نہیں کیا جس پر اسے ختم کردیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ‘جب کمیشن کا مطالبہ کرتے ہو تو اس کے ساتھ تعاون کریں اور ثبوت بھی دیں۔’انھوں نے کہا کہ پشتونخوا میپ کے رہنماﺅں نے کہا تھا کہ ان کے ساتھ ثبوت ہیں لیکن تعاون کا یہ عالم تھا کہ جس چیز کا مطالبہ کیا گیا اس کے سامنے کوئی پیش ہی نہیں ہوا۔

Back to top button