عدنان سمیع خان کے لیے چوتھے درجے کا بھارتی ایوارڈ

گلوکاری میں اپنا کیریئر بنانے کے لیے پاکستان چھوڑ کر بھارت جا بسنے والے عدنان سمیع خان کو مودی حکومت نے چوتھے درجے کے اعلیٰ ترین ایوارڈ پدما شری سے نواز دیا ہے۔
2016 میں بھارتی شہریت حاصل کرنے والے گلوکار عدنان سمیع خان کو دہلی میں ایوان صدر میں ہونے والی تقریب کے دوران ان کی خدمات کے اعتراف میں پدما شری ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یاد رہے کہ جنوری میں پدما شری ایوارڈ کے لیے منتخب ہونے کے بعد عدنان سمیع کو انڈیا میں کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ قوم پرست کانگریس پارٹی نے انکی انتخاب کو 130 کروڑ بھارتیوں کی توہین قرار دیا تھا جس کے جواب میں عدنان سمیع خان نے کہا تھا کہ مجھ پر تنقید کرنے والے معمولی سیاست دان ہیں اور وہ یہ سب محض اس لیے کر رہے ہیں کہ ان کا سیاسی ایجنڈا ہے اور اس سب کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔
پدما شری ایوارڈ وصول کرنے کے بعد عدنان سمیع نے کہا کہ بعض اوقات آپ کو جذبات کے اظہار کے لیے الفاظ نہیں ملتے، میں اپنی حکومت کا اور بھارتی لوگوں کا شکر گزار ہوں کیونکہ ان کے بغیر ایسا کچھ بھی ممکن نہیں تھا۔ پدما شری ایوارڈ کو اپنے والد اور والدہ کے نام کرتے ہوئے کہا عدنان سمیع خان نے کہا کہ یہ صرف اعزاز نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے جس کو میں نبھانے کی مکمل کوشش کروں گا۔ان کے علاوہ فن کی دنیا سے اداکارہ کنگنا رناوت، فلم ساز کرن جوہر، ایکتا کپور اور مرحوم گلوکار ایس پی بالا سبرامنیم بھی ایوارڈ لینے والوں میں شامل تھے۔
بھارتی صدر رام ناتھ کووند نے 8 نومبر کو صدارتی محل میں ہونے والی تقریب میں 73 شخصیات کو اعلیٰ ترین ایوارڈ پدما شری سے نوازا۔ بھارتی صدر نے 4 شخصیات کو دوسرے اعلیٰ ترین ایوارڈ پدما وبھوشن سے نوازا، 8 کو تیسرا اعلیٰ ترین ایوارڈ پدما بھشن دیا اور 61 شخصیات کو چوتھے اعلیٰ ترین ایوارڈ ’پدما شری‘ سے نوازا گیا جن میں ایک نام عدنان سمیع کا بھی تھا۔ تقریب میں عدنان کی تیسری اہلیہ بھی موجود تھیں۔ اس دوران عدنان سمیع نے سیاہ رنگ کا لباس پہن رکھا تھا جس پر سنہری رنگ کی کڑھائی ہوئی تھی۔ انہیں موسیقی کی دنیا میں بیش قدر خدمات انجام دینے پر اعلیٰ ترین سول ایوارڈ سے نوازا گیا۔
یاد رہے کہ ’پدما شری‘ ایوارڈ ایک طرح پاکستانی حکومت کی جانب سے دیئے جانے والے ’تمغہ امتیاز‘ کے لیول کا ایوارڈ ہے اور ہر سال فنون لطیفہ کی 2 سے 3 درجن شخصیات کو دیا جاتا ہے۔ عدنان سمیع کو ایوارڈ دینے پر بھارت میں ہونے والی تنقید کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ بھارت کے کئی سینئر گلوکار، موسیقار اور اداکار ابھی تک ’پدما شری‘ ایوارڈ حاصل نہیں کر سکے تاہم عدنان کو بھارتی شہریت ملنے کے 5 سال بعد ہی اس ایوارڈ سے نوازا دیا گیا۔
عدنان کو بھارتی حکومت نے یکم جنوری 2016 میں شہریت دی تھی، وہ شوبز میں کام کے لیے ابتدائی طور پر 2001 میں پاکستان سے بھارتی ویزے پر گئے تھے۔بھارت میں قیام کے دوران ان کے ویزا کی مدت بڑھائی جاتی رہہ جبکہ 2016 میں انہیں شہریت دے دی گئی جسکے بعد انہوں نے پاکستانی شہریت چھوڑ دی تھی۔ پاکستانی شہریت چھوڑنے پر انہیں تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا اور انہیں ’غدار‘ تک کہا گیا مگر دوسری جانب ان پر بھارت میں بھی الزامات لگائے گئے اور وہاں کے لوگ انہیں پاکستانی ایجنٹ قرار دیتے رہے۔
یاد رہے کہ عدنان سمیع خان نے تین شادیاں کیں، پہلی شادی پاکستانی اداکارہ زیبا بختیار سے 1993 میں کی جن سے ایک بیٹا اذان سمیع خان ہے۔ بعد ازاں ان دونوں کے درمیان طلاق ہوگئی۔عدنان نے دوسری شادی 2001 میں ایک عرب خاتون صباح گلادری سے کی جو زیادہ عرصہ نہ چل سکی اور طلاق پر ختم ہوئی۔ عدنان نے تیسری شادی 2010 میں جرمن نژاد رویا علی خان سے کی جن سے انہیں مئی 2017 میں ایک بیٹی ہوئی اور اب وہ اہل خانہ کے ہمراہ ممبئی میں مقیم ہیں۔
