عرب ممالک نے فلسطینیوں کی جبری بےدخلی کو مسترد کردیا

مصر کی سربراہی میں منعقدہ قاہرہ امن اجلاس میں سعودی عرب سمیت عرب ممالک نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسرائیل کی غزہ کے لوگوں کو جبری بے دخل کرنے کی کوششوں کو مسترد کر دیا۔اجلاس کے موقع پر فلسطینی صدر محمود عباس نے اپنی سرزمین کبھی نہ چھوڑنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی سرزمین کبھی نہیں چھوڑیں گے اور نہ ہی کوئی ہمیں اپنے سرزمین سے بے دخل کرسکتا ہے۔
اجلاس سے اپنے خطاب میں اردن کے شاہ عبداللہ نے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ عرب دنیا کو اس وقت جو پیغام سنایا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ فلسطینیوں کی زندگیاں اسرائیلیوں کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیل کی جانب سے مظلوم فلسطینیوں پر مقبوضہ فلسطین اور غزہ میں ڈھائے جانے والے مظالم پر شدید رنج اور غصے میں مبتلا ہیں۔
قاہرہ امن اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے یورپی کونسل کے صدر چارلس مائیکل نے کہا کہ اس اجلاس کا مقصد تھا کہ ایک دوسرے کی بات کو سنا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ علاقائی تنازعات، ہیومینیٹرین مسائل اور اسرائیل فلسطین معاملے میں قیام امن کیلئے ہمیں مل کر کام کرنا چاہیے۔
مصر کی جانب سے فلسطین اسرائیل تنازعے سے متعلق بلائے گئے قاہرہ امن اجلاس میں برطانیہ کے وزیر خارجہ جیمز کلیورلی کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت سے بین الاقوامی قانون کا احترام کرنے اور غزہ میں شہریوں کا جانی نقصان بچانے کی ذمہ داری ادا کرنے کا کہا ہے۔
