عارف علوی کے اندر کا عمرانڈو دوبارہ کیوں جاگ اٹھا؟

عمرانڈو صدر عارف علوی ایک بار پھر آئیں شکنی کرتے ہوئے متعینہ تاریخ پر اجلاس نہ بلانے کا فیصلہ کرکے حلف اٹھانے والے اراکین اور حکومت سازی کیلئے شدت سے منتظر اتحادی جماعتوں کیلئے ایک صبرآزما اور اضطراری صورتحال پیدا کردی ہےجبکہ دوسری طرف ایوان صدر سے اس بارے میں مکمل خاموشی ہے اور ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس کب بلایا جائے گا۔ اس صورتحال پر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ صدر علوی ایوان صدر کے ’’نئے مکیں‘‘ بننے کی خواہش رکھنے والے امیدوار اور اس کے اتحادی رفقاء کی بے چینی اور اضطراب سے محظوظ ہو رہے ہیں۔
دوسری طرف صدر کے اس اقدام کو غیرآئینی اور غیرقانونی قرار دیتے ہوئے اتحادی جماعتوں کے درمیان اتوار کو ہونے والی مشاورت کے مختلف مراحل رات گئے تک جاری رہے کیونکہ یہ بات پہلے ہی واضح ہوچکی تھی کہ صدر مملکت اجلاس بلانے کیلئے آمادہ نہیں جس کے بعد ن لیگ کے نامزد وزیراعظم شہباز شریف نے کامیاب ہونے والے اپنی جماعت کے تمام اراکین کو ہدایت کردی کہ وہ پیر کی شام اسلام آباد میں موجود رہیں۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ صدر علوی کی جانب سے اجلاس نہ بلائے جانے پر زیادہ اضطراب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حلقوں میں دیکھا گیا جبکہ دوسری بڑی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے چند رہنماؤں نے دھمیے انداز میں روایتی سے بیانات دیکر اس صورتحال کی مذمت کی اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔
خیال رہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے آئین کے تحت دی گئی ڈیڈ لائن میں صرف تین دن رہ گئے ہیں، اب تک اجلاس نہ بلانے سے متعلق صدر عارف علوی کو سیاسی جماعتوں بالخصوص پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی جانب سے تاخیری حربے اختیار کرنے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔
واضح رہے کہ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے سمری صدر مملک عارف علوی کو ارسال کر دی ہے لیکن ایوان صدر سے اس حوالے سےتاحال احکامات جاری نہیں ہو سکے اور نہ ہی اس کی وجوہات سامنے آ سکی ہیں تاہم قانونی ماہرین کے مطابق اگر صدر عارف علوی اجلاس نہیں بلاتے تو 29 فروری کو اجلاس از خود طلب ہو جائے گا۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ صدر 21 دن کے اندر اجلاس بلانے کے پابند تھے اور اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے تو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ انہیں نظرانداز کر کے آئین کے آرٹیکل 91(2) کے تحت اجلاس طلب کر سکتا ہے۔عہدیدار نے بتایا کہ سیکرٹریٹ نے نئی اسمبلی کے اجلاس کے لیے پہلے ہی ضروری انتظامات کر لیے ہیں۔کچھ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں پر خواتین قانون سازوں کے نوٹیفکیشن تک اجلاس نہیں بلائیں گے، تاہم ایوان صدر کے ذرائع سمری پر فیصلے کے بارے میں لاعلم ہیں۔
خیال رہے کہ اس وقت الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خواتین کے لیے 20 مخصوص نشستوں اور غیر مسلم قانون سازوں کے لیے 3 نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری کرنا ہے۔پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد، جو سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئے، اب قومی اسمبلی میں 92 نشستیں رکھتے ہیں، دوسری جانب مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن میں تاخیر کے بارے میں بات کرتے ہوئے، عہدیدار نے کہا کہ اس عمل میں کچھ وقت درکار ہے اور اس وجہ سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تاخیر نہیں ہو سکتی۔عہدیدار نے بتایا کہ ماضی میں بھی ایسے ہی حالات پیش آچکے ہیں، جہاں متعدد حلقوں سے انتخاب لڑنے والے امیدواروں کی خالی کردہ نشستوں پر ضمنی انتخابات کرائے بغیر بھی قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔عہدیدار نے 1988 میں 10 نومبر کو ہونے والے عام انتخابات کا حوالہ دیا، جب بینظیر بھٹو 22 دسمبر کو وزیر اعظم بنی تھیں۔ اس دوران 16 نشستیں خالی ہونے کے باوجود اجلاس بلایا گیا۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی حکومت کے دوران قومی اسمبلی نے 150 ارکان کے ساتھ 16 ماہ تک فعال رہی کیونکہ پی ٹی آئی قومی اسمبلی کا حصہ نہیں تھی۔
مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے اجلاس نہ بلانے پر صدر کو تنقید کا نشانہ بنایا، ان کا کہنا ہے کہ صدر اپنے آئینی اختیارات کا غلط استعمال نہ کریں۔صدر عارف علوی کو کسی فرد کا نہیں بلکہ آئین کا وفادار ہونا چاہیے، انہوں نے مزید کہا کہ اگر صدر نے مقررہ مدت میں اجلاس نہیں بلایا تو ان کا نام آئین کی خلاف ورزی کرنے والوں میں یاد رکھا جائے گا۔ آئین کے تحت قومی اسمبلی کا اجلاس 29 فروری تک طلب کرنا لازمی ہے۔ صدرمملکت وزیراعظم کی ایڈوائس کے پابند ہیں،آئین میں درج ہے21دن کےاندراجلاس بلانالازم ہے،دوسرےعوامل کارفرمانہ ہوئے توحکومت چل سکتی ہے
اطلاعات کے مطابق پاکستان کے صدر عارف علوی آٹھ فروری کے انتخابات کے نتیجے میں وجود آنے والی قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کو اس بنیاد پر موخر کر رہے ہیں کہ اسمبلی کی تمام مخصوص نشستوں کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا اور اس لیے ایوان تاحال نامکمل ہے۔دوسری طرف ایوان صدر سے اس بارے میں مکمل خاموشی ہے اور ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس کب بلایا جائے گا یا کیوں موخر کیا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان کے آئین کے مطابق صدر پر لازم ہے کہ وہ انتخابات کے انعقاد کے 21 روز بعد قومی اسمبلی کا اجلاس بلائے۔ آئین کی شق اڑتالیس کے مطابق صدر پر لازم ہے کہ وہ اسمبلی کا اجلاس بلانے کی تجویز پر عمل کرے اور اس کے پاس کوئی قانونی راستہ نہیں ہے کہ وہ اس عمل کو موخر کر سکے یا اس تجویز سے ہٹ جائے۔
قانونی ماہرین کے مطابق صدر اسمبلی کا اجلاس بلانے کی تجویز واپس نہیں بھیج سکتا اور آئین کا آرٹیکل 91 اس سلسلے میں صدر کو کوئی اختیار نہیں دیتا۔ تاہم اگر صدر اسمبلی کا اجلاس بلانے کی تجویز پر دستخط کرنے سے انکار کر دیتا ہے تو پھر قومی اسمبلی کا سیکریٹری اجلاس بلانے اور اس کا گزٹ نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا مجاز ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر کو یہ اجلاس بلانا ہی پڑے گا اور وہ اس کو موخر نہیں کر سکتے۔
خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ صدر عارف علوی آئینی امور کی انجام دہی پر تنقید کی زد میں ہیں بلکہ اس سے پہلے انہوں نے 2022 میں اس وقت نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف سے بھی حلف لینے سے انکار کیا تھا جب عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد قومی اسمبلی سے وہ نئے قائد ایوان منتخب ہوئے تھے۔صدر علوی کے آئینی امور سے متعلق فیصلوں کے حوالے سے مسلم لیگ نواز، پیپلز پارٹی اور ان کی اتحادی جماعتیں اکثر ان کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں اور انہیں صدر مملکت سے زیادہ پاکستان تحریک انصاف کا ورکر بننے کا طعنہ بھی دیتی رہی ہیں۔
