عمرانڈو پاکستان دشمنی میں بھارت کے قصیدے کیوں پڑھنے لگے؟

پاکستان کے سابق سفیر، ممتاز ادبی شخصیت اور سینئر کالم نگار عطا الحق قاسمی نے کہا ہے کہ ہندوستان کی معاشی ترقی اور دوسرے شعبوں میں پاکستان سے برتری، شک و شبہ سےباہر ہے ،ہم اس پر شرمندہ بھی ہو سکتے ہیں اور جگت بھی لگا سکتے ہیں مگر اب صورتحال مختلف ہے، پی ٹی آئی کے ’’چیتے‘‘ ان دنوں بالواسطہ طریقے سے ہندوستان کے قصیدے پڑھنے میں مشغول ہیں وہ ہزاروں مسلمانوں کے قاتل مودی کی امریکہ یاترا پر بے پناہ پذیرائی کی ویڈیو اپنا ایک ’’دینی فریضہ‘‘ کی وائرل کرتے رہے اور پاکستان پر ایک دوست کی طرح نہیں بلکہ ایک دشمن کی طرح آواز ے کستے ہیں، بیرون ملک ’’پاکستانی‘‘ آلِ یوتھ نے پاکستانی جھنڈا بھی اتارا اور اسے پائوں تلے بھی روندا. اپنے ایک کالم میں عطا الحق قاسمی لکھتے ہیں کہ بیرون ملک مقیم یوتھیوں کو اگر سر راہ کوئی ایسا پاکستانی مل جائے خواہ وہ مرد ہو یا کوئی معزز خاتون جوان کے سیاسی نظریے سے متعلق نہ ہو تو بدتمیزی کی انتہا کر دیتے ہیں ،بدتمیزی اس جماعت کا کلچر ہے یہ لاکھوں کروڑوں ووٹوں سے عوام کے منتخب سیاست دانوں پر آوازے کستے ہیں ان کے گھروں کے باہر کھڑے ہو کر گالیاں بکتے ہیں اور یہ سب کچھ انہوں نے اپنے لیڈر سے سیکھا ہے. یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے 9مئی کوجی ایچ کیو، کور کمانڈر ہائوس، کینٹ کے علاوہ دوسرے شہروں میں بھی فوجی تنصیبات پر حملے کئے، آگ لگائی، لوٹ مار کی، صرف یہی نہیں انہوں نے اُن شہدا کی یادگاروں پر بھی یلغارکی جنہوں نے ہمارے لئے اپنی جانیں قربان کی تھیں۔ یہ سب کچھ اس کے بعد ہوا ہے جب اسٹیبلشمنٹ نے اپنی ہی بنائی ہوئی حکومت کا مزید ساتھ دینے سے انکار کر دیا ،پہلے یہ اور ان کے لیڈر جنرل باجوہ کے قصیدے پڑھتے تھے اور اس شخص کو اس کی خدمات کے اعتراف میں اس کی مدت ملازمت میں توسیع بھی کی تھی مگر جب مزید تابعداری سے بوجوہ انکار کیاگیا اس کے بعد خود باجوہ پر فرانس کی ایک سڑک پر اسے اور اس کی بیوی کو ہراساں کیا گیا ۔ عطا الحق قاسمی کہتے ہیں کہ یہ کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ اس وقت سے اب تک یہ لوگ پاکستانی فوج پر تابڑ توڑ حملے کر رہے ہیں ۔انڈیا کے سامنے ہتھیار ڈالنا ایک ناقابل فراموش المیہ ہے ،اس سانحہ کے علاوہ بعض جرنیلوں کی کرپشن کو بھی عام کیا جا رہا ہے اور اس طرح کی دوسری تمام حرکات دہرائی جا رہی ہیں جس سے عوام کے دلوں میں فوج کیلئے نفرت پیدا ہو ۔اس نفرت کا نقطہ عروج 9 مئی کو دیکھنے میں آیا جب فوجی تنصیبات اور شہدا کی یادگاریں مسمار کی گئیں ،مجھے اس حوالے سے صرف اس بات پر اعتراض ہے کہ آپ کو یکایک یہ سب باتیں یاد کیوں آئیں ۔قوم کے مختلف طبقات ایک پاکستانی کے طور پر کب سے اپنا نکتہ نظر پیش کرتے چلےآ رہے ہیں۔ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے تو اس موضوع پر ایک پوری دستا ویزی کتاب بھی لکھی مگر جب تک اسٹیبلشمنٹ نے آپ کو کاندھوں پر اٹھائے رکھا عمران خان اس کے قصیدے پڑھتے رہے مگر جب یہ بوجھ اٹھانا ممکن نہ رہا تو آپ کی نظروں میں آپ کا یہ محبوب ولن بن گیا ،صرف یہی نہیں بلکہ اگر آج یا کسی اور موقع پر اسٹیبلشمنٹ آپ کے لیڈر کے شوق ِاقتدار کو پورا کرنے کا سوچے تو آپ دوبارہ اس کے قصیدہ خواں بن جائیں گے۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ آزمائش شرط ہے کیونکہ یہ آزمائش قوم کو ایک دفعہ پھر بڑی آزمائش میں ڈال دے گی۔ عطا الحق قاسمی کے مطابق جب کوئی پاکستانی کسی پاکستانی سفارتخانے سے پاکستان کا جھنڈا اتار کر وہاں پی ٹی آئی کا جھنڈا لگا دے، پاکستانی پاسپورٹ پھاڑ کر اس کے اوراق کوڑے دان میں پھینک دے اور پی ٹی ا ٓئی کی لیڈر شپ تو کیا اس کے حامی بھی اس کی مذمت نہ کریں تو اس پر خاموش نہیں رہا جاسکتا۔ خدا ان کو ہدایت دے ۔یورپ اور امریکہ میں آباد پی ٹی آئی کے چہیتے ہم سے الگ اپنی دنیا بسا چکے ہیں اگر خدانخواستہ پاکستان کو نقصان پہنچا تو زد میں اپنی سرزمین سے پیار کرنے والے آئیں گے انہیں کچھ نہیں ہو گا شاید اسی لئے انڈیا ملک چھوڑنے والوں کے پاسپورٹ کینسل کر دیتا ہے اور یوں انہیں ویزا لیکر انڈیا آنا پڑتا ہے ۔
