عمران اپنے احتسابی آلے نیب پر حملہ آور کیوں ہوئے؟


وزیراعظم عمران خان نے نیب کے ذریعے تین برس مسلسل اپوزیشن رہنمائوں کا رگڑا لگانے کے بعد اب خود نیب کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو ملک میں کرپشن روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ کپتان کے اس بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حکومت اور قومی احتساب بیورو کے مابین معاملات میں دراڑ آ گئی ہے لہذا عمران خان کے نیب مخالف بیان پر ان کے یس مین نیب چئیرمین جسٹس جاوید اقبال بھی حیران پریشان ہیں۔ جاوید اقبال کے قریب ذرائع کا کہنا ہے جب وزیر اعظم نے اپنی حکومت کی کارکردگی بتانی ہو تو وہ قومی احتساب بیورو کی جانب سے ریکور کیے گئے اربوں روپے اپنی پرفارمنس کے کھاتے میں ڈال لیتے ہیں اور جب نیب کو دباؤ میں لانا ہو تو اسے ایک ناکام ادارہ قرار دے دیتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کار کپتان کے نیب مخالف ریمارکس کی تعبیر کرتے ہوئے کہتے ہی کہ اب شاید نیب کو اپوزیشن رہنمائوں کے ساتھ ساتھ حکومتی اراکین پر ہاتھ ڈالنے کی اجازت بھی مل گئی ہے جس کے باعث عمران خان پریشانی کا شکار ہو کر نیب مخالف گفتگو کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ حال ہی میں قومی احتساب بیورو نے رنگ روڈ اسکینڈل کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جس میں وزیراعظم عمران خان، وزیر اعلی پنجاب، اور دو وفاقی وزرا زلفی بخاری اور غلام سرور خان کے نام آرہے ہیں۔ دوسری جانب کپتان نے وزیراعلی پنجاب کے ذریعے رنگ روڈ سکینڈل کی تحقیقات محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب کو سونپ دی ہیں حالانکہ نیب کی جانب سے کاروائی شروع کیے جانے کے بعد اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
سنیئر صحافی عارف نظامی اپنے تازہ سیاسی تجزیئے میں کہتے ہیں کہ نئے پاکستان میں پرانے پاکستان والے ہتھکنڈے ہی استعمال کیے جا رہے ہیں۔ انکے مطابق اپوزیشن ہمیشہ نیب پر یہ تنقید کرتی ہے کہ یہ حکومت وقت کا آلہ کار ہے اور انتقامی کارروائیوں پر احتساب کا ملمع چڑھا کر ہر حکومت کے مفادات کی آبیاری کرتا ہے۔ اس کے علاوہ تاجر اور صنعت کار بھی نیب کیمکارروائیون سے شاکی رہتے ہیں، تاہم اب اس طویل فہرست میں خود وزیراعظم عمران خان بھی شامل ہو گئے ہیں جن کا تازہ ارشاد ہے کہ نیب 23 سال سے کام کر رہا ہے لیکن کرپشن روکنے میں مکمل ناکام رہا ہے جس کی بنیادی وجہ صرف چھوٹے چوروں کی گرفت کرنا ہے جبکہ بڑے لوگ صاف بچ نکلتے ہیں، عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر طاقتور کو ہاتھ ڈالا جاتا تو کرپشن ختم ہو جاتی۔ انہوں نے اس ضمن میں چین کا فارمولہ اپنانے پر زور دیا جہاں بڑی مچھلیوں کے خلاف کارروائی کی گئی اور 425 حکومتی وزیروں کو کرپشن پر سزائیں دی گئیں۔ نظامی کے بقول خان صاحب احتساب کے حوالے سے اکثر چین کی ہی مثالیں دیتے ہیں حالانکہ اس کی ترقی کے ماڈل کو فالو کرنے کی ضرورت ہے۔
بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جب سے حکومت برسراقتدار آئی ہے نیب کو اپوزیشن رہنماؤں کے علاوہ کسی اور کا احتساب کرنے کی اجازت ہی نہیں دی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے تین برسوں میں کرپشن اور نااہلی کے الزامات پر کپتان کی کابینہ سے نکالے جانے والے درجن بھر وفاقی وزرا کے خلاف نیب کو کسی قسم کی کوئی کارروائی کرنے کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ ان میں سے چھ کو دوبارہ سے وفاقی کابینہ میں شامل بھی کر لیا گیا۔ کچھ ایسا ہی معاملہ کابینہ سے باہر بیٹھے کپتان کے ساتھیوں کا ہے جن میں جہانگیر ترین کا نام سر فہرست ہے۔
دوسری طرف عمران خان کے نیب مخالف ریمارکس کے بعد چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال سے بھی نہیں رہا گیا اور انہوں نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے خلاف بلاجواز، جارحانہ اور منظم پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب نے انکی زیر قیادت پچھلے تین برس میں کئی سو ارب روپے ریکور کیے ہیں اس لیے یہ کہنا غلط ہوگا کہ احتساب بیورو اپنے فرائض انجام دینے میں ناکام رہا ہے۔ خیال رہے کہ پچھلے تین برسوں سے چئیرمین نیب کے بارے میں عمومی تاثر یہی ہے کہ وہ دراصل عمران خان کی ہداہات پر ہی اپوزیشن رہنمائوں کو تختہ مشق بناتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جاوید اقبال اس لئے عمران کے ایسے احکامات کی بلا چوں چراں تعمیل کرتے ہیں کیونکہ وزیر اعظم کے پاس ان کی چند نازیبا ویڈیوز موجود ہیں۔ بہرحال اس مرحلے پر خان صاحب کے ریمارکس خاصے معنی خیز ہیں اور چیئرمین نیب کا جواب آں غزل کے طور پر یہ کہنا کہ ہمارے خلاف جارحانہ اور منظم پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ چیئرمین نے مصلحتاً نیب کے خلاف مہم چلانے والے کا نام نہیں لیا ہے۔ ظاہر ہے چیئرمین نیب، خان صاحب کا نام تو نہیں لے سکتے تھے لیکن انہوں نے یہ سوال بھی نہیں کیا کہ آخر اس وقت یہ پراپیگنڈا کیوں شروع کیا گیا ہے۔
عارف نظامی کہتے ہیں کہ اب تک تو نیب کے لمبے ہاتھ اپوزیشن رہنماؤں کی گردنوں تک ہی پہنچے ہیں اور بالعموم حکومتی ارکان بے لاگ احتساب کرنے والے ادارے کی دسترس سے باہر ہی رہے ہیں۔ تاہم اب ترین کی قیادت میں بننے والے ہم خیال گروپ کو بھی غالباً نکیل ڈالنے کا وقت آ گیا ہے۔ تاحال حکومت ترین گروپ سے نرمی اور صلح جوئی سے کام لے رہی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اس گروپ کے چیدہ افراد کو ظہرانے پر مدعو کیا اور ان کے گلے شکوے سنے جو میڈیا کے ایک حصے کے مطابق کوئی خاص نہیں تھے، دوسری طرف اس گروپ کے چند ارکان کی وزیراعظم سے بھی ملاقات ہوئی تھی جس میں انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جہانگیر ترین سمیت کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں ہوگی لیکن سابق دست راست کے بارے میں یہ واضح کر دیا کہ ترین صاحب بھی قانون سے بالاتر نہیں ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ نیب کے بارے میں اس نئی لائن سے کئی معانی اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ زیادہ تر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ خان صاحب کی طرف سے یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ اب نیب کا استعمال پارٹی کی بعض بڑی مچھلیوں کے خلاف بھی ہوسکتا ہے جن کے خلاف اب تک تو غالباً خان صاحب کے اشارے پر ہی کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی، ویسے اب تک وزیراعظم اپنی پارٹی میں اٹھنے والی بغاوت سے انتقامی ہتھکنڈوں کے بجائے سیاسی انداز میں ہی نبردآزما ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر شوگر بحران کی انکوائری سے نیب کو دور رکھا گیا ہے اور اس حوالے سے ایف آئی اے سرگرم عمل ہے۔ اس طرح جہانگیر ترین کا بنیادی مطالبہ بظاہر مان لیا گیا ہے۔
بہرحال عمران خان پاکستانی سیاست کی دیرینہ روایت کہ مخالفین کے خلاف ڈنڈے اور گاجر دونوں استعمال کی جائیں کو بروئے کار لا رہے ہیں۔ گویا کہ ان کے نئے پاکستان میں پرانے پاکستان والے ہتھکنڈے ہی استعمال کیے جا رہے ہیں۔

Back to top button