عمران جنرل باجوہ کو فارغ کریں گے یا آرمی چیف عمران کو؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے معاملے پر فوجی قیادت کے ساتھ پھڈا ڈال کر وزیر اعظم عمران خان نہ صرف اسٹیبلشمنٹ کا اعتماد کھوچکے ہیں بلکہ انکے مابین تلخی بھی پیدا ہو چکی ہے۔ ایسے میں اب اسٹیبلشمنٹ کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا سوائے اس کے کہ وہ اپنی ساکھ کی بحالی کے لیے جنرل قمر باجوہ کے پیچھے کھڑی ہو جائے اور فیض حمید کو ایک طرف کرتے ہوئے عمران کو چلتا کر دے۔ لیکن قبل اسکے کہ جنرل باجوہ ان کی رخصت کا اہتمام کریں، عمران خان اُنہیں برطرف کرتے ہوئے کسی سینئر جنرل کو اگلا آرمی چیف نامزد کرسکتے ہیں۔
فرائیڈے ٹائمز کے لیے اپنے تازہ ایڈیٹوریل میں سیٹھی کہتے ہیں کہ کئی ہفتوں تک پس وپیش کے بعد بالآخر وزیراعظم عمران خان نے آئی ایس آئی کے نئے ڈی جی کا نوٹیفکیشن تو جاری کر دیا لیکن یہ بات واضح نہیں ہو پائی کہ وہ جی ایچ کیو کے مطالبے کو ماننے سے انکاری کیوں رہے اور پھر اسے تسلیم کیوں کر لیا؟ اگر اُنہوں نے اب بھی جنرل ندیم احمد انجم کا نوٹیفکیشن بادل نخواستہ جاری کیا ہے کیونکہ اُن کے فوجی قیادت سے تعلقات ٹوٹنے کے قریب تھے تو پھر اُنہوں نے پہلے ایسا کیوں نہ کیا جب اُن کے تعلقات بے حد خوش گوار تھے؟
بقول نجم سیٹھی اس واقعے کے بعد اب عمران خان نہ صرف اسٹیبلشمنٹ کا اعتماد کھوچکے بلکہ ان کے درمیان تلخی بھی پیداہو چکی ہے۔ یہ صورت حال اسٹیبلشمنٹ کو مجبور کرسکتی ہے کہ وہ اپنے متبادل امکانات پر غور کرے اور انہیں چھوڑ کر آگے بڑھ جائے۔ ایسا کرتے ہوئے عمران خان نے ایک ناقابل یقین کام کردکھایا ہے۔ اُنہوں نے تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے ”ایک صفحے“ پر ہونے کے بیانیے والا ورق پھاڑ دیا جس کے بل بوتے پر وہ حزب اختلاف کو ایک عشرہ تک دبائے رکھنے کی دھمکی دے رہے تھے۔ حزب اختلاف کا جمہوری الائنس دو برسوں میں ایسا کرنے میں ناکام رہا تھا۔
نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ سلیکٹرز اور سلیکٹڈ کے شروع سے ہی ”ایک صفحے“ پر ہونے کا بیانیہ دو عوامل پر مشتمل تھا۔ پہلا اسٹیبلشمنٹ کی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اور ان کے قائدین، نواز شریف اور آصف زرداری کے خلاف ادارہ جاتی دشمنی تھی جسکی وجہ سے تیسرے آپشن کی ضرورت پڑی، اور اس کی وجہ سے ہی تحریک انصاف اور عمران خان کو اقتدار ملا۔ دوسرا عامل حالات و واقعات پر گرفت رکھنے والے تینوں اہم کھلاڑیوں یعنی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید اور وزیراعظم عمران خان کے ذاتی اغراض و مقاصد اور مفاد پرستی تھی جس نے ان تینوں کو یک جان کر کے رکھا تھا۔ لیکن جب سلیکٹر اور سلیکٹڈ کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی نفرت کی وجہ سے ان عوامل کے غبارے سے ہوا نکلنے لگی، اور مرکزی کھلاڑیوں کے درمیان کشمکش کی فضا بن گئی تو منصوبے کے بے نقاب ہونے کا وقت آن پہنچا۔ سیٹھی کہتے ہیں کہ پہلے دونوں عسکری کھلاڑیوں نے عمران کو اقتدار میں لانے کے لیے خفیہ ہاتھ دکھایا جس کے انعام کے طور پر جنرل باجوہ کو تین سال کی توسیع مل گئی اور بعد ازاں جنرل فیض حمید کو آئی ایس آئی کا سربراہ بنا دیا گیا۔ اس دوران یہ بھی توقع کی جارہی تھی کہ عمران خان اچھی گورننس کے ذریعے عوام کا دل جیتیں گے اور یوں اسٹیبلشمنٹ کی مہرہ سازی کا جواز نکل آئے گا۔ لیکن سلیکٹڈ کی شرم ناک حد تک ناقص کارکردگی اسٹیبلشمنٹ کی ساکھ کو زک پہنچانے لگی، یہاں تک کہ وہ عوام کی تنقید کا براہ راست ہدف بن گئی۔ نواز شریف اور اُن کی بیٹی، مریم نے اس بیانیے میں جان ڈال دی اور اسے آگے بڑھایا۔ اُن کے بیانات نے اسٹیبلشمنٹ کی نمائندگی کرنے والے جنرل باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور عمران خان کے تعلقات بگاڑ دیے۔
بقول نجم سیٹھی،اس صورت حال میں جنرل باجوہ اور فیض حمید الزامات اور تنقید کی زد میں آ گے کہ اُنہوں نے اسٹیبلشمنٹ اور ملک کے مفاد کو پس پشت ڈال کر محض اپنا مفاد دیکھا۔ اب فوجی اسٹیبلشمنٹ کے پاس کوئی آپشن نہیں بچا سوائے اسکے کہ وہ اپنی ساکھ کی بحالی کے لیے جنرل قمر باجوہ کے پیچھے کھڑی ہو جائے اور فیض حمید کو ایک طرف کرتے ہوئے عمران کو چلتا کر دے۔ سیٹھی کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اگلے سال شفاف انتخابات کے انعقاد کے ذریعے پرانی اور مقبول عام جماعت اور اسکے نئے وزیر اعظم شہباز شریف کو آگے آنے اور ملک کو ہونے والے نقصان کی تلافی کا موقع دے سکتی ہے۔ لیخن بے شک عمران اب بھی اس پیش رفت کو سبوتاژ کرسکتے ہیں۔ بقول سیٹھی، قبل اس کے کہ جنرل باجوہ ان کی رخصت کا اہتمام کریں، عمران اُنہیں برطرف کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل فیض کی بجائے کسی سینئر جنرل کو اگلا آرمی چیف نامزد کرسکتے ہیں۔ یہ اقدام ادارے کے اندر پھوٹنے والے معاندانہ جذبات کی حدت کم کرسکتا ہے۔ اگر جنرل باجوہ کا طرز عمل وہی ہوتا ہے جو 1998 ء میں جنرل جہانگیر کرامت کا تھااور وہ خاموشی سے گھر چلے جاتے ہیں تو عمران خان محفوظ اور پرسکون رہیں گے۔ لیکن اگر اسٹیبلشمنٹ جنرل باجوہ کو جنرل پرویز مشرف کا 1999 کا راستہ اختیارکرنے کی شہ دیتی ہے پھر وہ عمران خان کو انہی حالات کا سامنا کرنا پڑے گا جن کا نواز شریف نے کیا تھا۔ ایسے میں سیٹھی سوال کرتے ہیں کہ کیا عمران اس کا خطرہ مول لیں گے کیونکہ غیر مقبول راہنما اتنی آسانی سے شہادت کا رتبہ حاصل نہیں کرتے۔ بقول سیٹھی، جنرل فیض حمید اگلے ماہ پشاور میں گیارویں کورکی کمان سنبھال لیں گے۔اس کے بعد آئی ایس آئی جنرل باجوہ کے کنٹرول میں آ جائے گی۔ اب جیسا کہ دکھائی دیتا ہے، جنرل فیض پہلے ہی ایجنسی پر کنٹرول کھو چکے ہیں کیوں کہ اس کے اعلیٰ افسران نے نوشتہ دیوار پڑھ لیا ہے۔ درحقیقت لگنے والے سنگین الزامات نے جنرل فیض حمید کے مستقبل کے امکانات کو بھی شدید زک پہنچائی ہے۔ ان حالات میں سیٹھی کے مطابق عمران خان کو گھر بھیجنے کے کئی ایک راستے بنائے جا سکتے ہیں۔ ان میں سے تیزترین پارٹی فنڈ کی خورد برد پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کا فیصلہ ہوگا جو عمران خان کے ساتھ تحریک انصاف کا بھی دھڑن تختہ کرسکتا ہے۔ اگرچہ فنڈز کی خورد برد کے ثبوت کی بہتات ہے لیکن یہ جواز اتنا ہی بودا ہوگا جتنا اقامہ جس نے نواز شریف کے اقتدار کا خاتمہ کردیا تھا۔ ایک اور طریقہ پنجاب میں حکومت کو تبدیل کرتے ہوئے اسلام آباد میں تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کے زوال کا راستہ ہموار کرنا ہے جسکے نتیجے میں گھیرے میں آئی ہوئی بے اختیار حکومت خود ہی اسمبلیاں تحلیل کرکے گھر چلی جائے گی۔ اس کے بعد نگران حکومت قائم ہوگی، منصفانہ اور شفاف انتخابات ہوں گے اور مسلم لیگ ن اقتدار میں آجائے گی۔ وقت آنے پر نئی منتخب شدہ حکومت یا تو جنرل باجوہ کی مدت کو ایک سال اور بڑھا دے گی یا اُنہیں ریٹائرمنٹ لے کر گھر جانے کے لیے محفوظ راستہ دے دیا جائے گا۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ایک اور صورت میں عمران خان خود ہی اسمبلیاں تحلیل کر کے شفاف انتخابات کرا دیں گے۔ یہ جمہوری طریقہ ہے جس میں بحران حل کرنے کے لیے عوام سے رائے لی جاتی ہے۔ عوام فیصلہ کریں کہ کسے منتخب یا مسترد کسے کرنا ہے۔ لیکن عمران خان لڑے بغیر ہار ماننے والوں میں سے نہیں۔ نہ ہی وہ کوئی جمہور پرست ہیں۔ اس لیے ہم آنے والے چند ایک ماہ میں سیاسی موسم کو طوفانی ہوتا دیکھیں گے۔
سیٹھی کے بقول یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اوراسکے مفاد پرست افسران نے ملک کو اس نہج تک پہنچا دیا۔ اُس وقت عدلیہ والے بھی اُن کے حاشیہ نشین تھے۔ لیکن اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔ ملک کی خاطر، اس درماندہ قوم کی خاطر وہی ادارہ غلطیوں کا ازالہ بھی کرسکتا ہے۔
