عمران حکومت نے صدارتی آرڈیننس کا تماشا کیوں لگا رکھا ہے؟

گزشتہ 3 برسوں کے دوران وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے صدارتی آرڈیننسز کے اجراء کو ایک تماشا بنا کر رکھ دیا ہے جس سے پارلیمنٹ کی وقعت مزید کم ہوگئی ہے اور یوں لگتا ہے جیسے اب تمام تر ملکی معاملات کا حل آرڈیننسز میں تلاش کیا جا رہا ہے۔
اپنے تازہ ترین سیاسی تجزیے میں سینئر صحافی اور اینکر پرسن نسیم زہرہ کہتی ہیں کہ کہ پچھلے دنوں جب عوام تحریک لبیک کے احتجاج پر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھے تو پرائم منسٹر کے کسی ارسطو نے ایک ایسی تجویز دے ڈالی جسکے نتیجے میں حکومت کے لیے ایک اور بری مصیبت پیدا ہو چکی ہے۔ اپوزیشن میں رہتے ہوئے پرائم منسٹر اداروں کو مضبوط کرنے کی بات اور ان کو صاف شفاف اور آزادانہ طریقے سے چلانے کا عزم کیے ہوئے تھے لیکن نیب کی ترامیم نے اس عزم کو خوب ڈھیر کیا ہے۔ نسیم کہتی ہیں کہ یہ ترامیم جیسے ہی کوئی عدالت میں لے کر جائے گا، عدالت انہیں غیر قانونی قرار دے کر رد کرے گی، سوال تو یہ ہے کہ پرائم منسٹر یہ ترامیم کیا کل کی سیاسی مقابلے کی تیاری میں کر رہے ہیں؟ کیونکہ ان کا تعلق آئینی طور پر صاف اور شفاف حساب سے ہر گز نہیں۔
بقول نسیم زہرہ، دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مصیبت صرف سیاسی مخالفین کے ردعمل کے نتیجہ میں ہی نہیں بلکہ عمران خان حکومت کے اہم عہدیداران کی مخالفت اور تنقید کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔
31 اکتوبر کو جب حکومت نے آرڈیننس میں تیسری ترمیم کی تو وزیر قانون فروغ نسیم نے وجہ یہ بیان کی کہ چھ اکتوبر کی ترمیم کے بعد بہت سے سوالات اٹھے جس کا جواب اب تیسری ترمیم میں شامل کر دیا گیا ہے! یہ عجب منطق تھی کیوں کہ اس تیسری ترمیم میں نئے اقدام کیے گئے تھے۔ نمبر ایک سپریم جوڈیشل کونسل سے نئے چیئرمین کو ہٹانے کا اختیار لے لیا گیا اور وہ اختیار صدر پاکستان کو سونپ دیا گیا۔ بقول نسیم زہرہ، یہ تو قانونی نکتہ ہے، حقیقت میں چیئرمین نیب کو ہٹانا پرائم منسٹر کا صوابدیدی اختیار ہو گا۔ دوسرا یہ کہ 6 اکتوبر سے پہلے کے تمام نیب کیسز کے چارجز برقرار رہیں گے۔ اس ترمیم میں فراڈ دھوکا اور مضاربہ کے کیسز، نیب کے دائرہ کارسے نکالے ہوئے کیسز واپس نیب کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔
وزیر قانون کی لفاظی اپنی جگہ لیکن اس تیسری ترمیم نے نئے سوال اٹھائے ہیں نہ کہ پرانوں کا جواب دیا ہے۔ 6 اکتوبر کی ترمیم میں بڑا سوال چیئرمین کی تعیناتی کا تھا کہ کیا چیئرمین چار سال کی مدت کے بعد فوری طور پر ہٹائے جائیں گے اور ایک نیا چیئرمین تعینات ہوگا؟ لیکن اس سوال کا جواب اس ترمیم میں بھی موجود نہیں بلکہ چیئرمین نیب، جن کے پاس بہت سے صوابدیدی اختیار ہیں اور جن پر بہت سے سوالات اٹھے، تیسری ترمیم میں نہ تو ان سوالوں کا جواب موجود ہے اور نہ ہی انکی تعیناتی کے حوالے سے صاف اور سیدھا جواب دیا گیا ہے۔ یہ اور معاملہ ہے کہ حکومت نے وقت پر نئے چیئرمین کی تعیناتی کا عمل نہیں شروع کیا اور موجودہ چیئرمین کو اپنی چار سال کی مدت مکمل کرنے کے بعد بھی عہدے سے نہیں ہٹایا۔
آخر یہ سب معاملات کو دیکھتے ہوئے ہی حکومت کے دو قانونی ماہر اٹارنی جنرل اور چیئرمین سینیٹ کمیٹی برائے قانون اور انصاف نے نیب آرڈیننس کی تیسری ترمیم کی مخالفت کی ہے۔ اٹانی جنرل خالد جاوید نے پرائم منسٹر کو اس ترمیم کو پارلیمان میں لے جانے کی تجویز دی ہے اور کہا ہے کہ چئیرمین نیب کو ہٹانے کا اختیار سپریم جوڈیشل کے پاس ہی رہے تو بہتر ہے۔ حکومتی پارٹی سے تعلق رکھنے والے چیئرمین سینیٹ کمیٹی علی ظفر نے بھی ہم ٹی وی کے شو میں تیسرے ترمیمی آرڈیننس پر تنقید کی ہے۔ بقول نسیم زہرہ، یہ دونوں حضرات پرائم منسٹر کی 27 اکتوبر کی میٹنگ، جس میں تیسری ترمیم کا فیصلہ لیا گیا تھا، موجود نہیں تھے۔ پرائم منسٹر کے قانونی جادوگر فروغ نسیم اور احتساب جادوگر شہزاد اکبر البتہ حاضر تھے۔ علی ظفر اور خالد جاوید چیئرمین نیب کے ہٹانے کے حوالے سے اس تیسری ترمیم میں دیے گئے طریقے سے اتفاق نہیں کرتے جس کے تحت چیئرمین نیب کو ایک فورم یعنی جوڈیشل کونسل کے ذریعے سے ہٹانے کی بجائے حکومت یعنی ایگزیکٹو ہٹائی گئی۔ یہ تو سراسر نیب چئیرمین کو ایک کابینہ کے منسٹر کی طرح ہٹا دیا جا سکتا ہے۔ اس عمل میں یقیناً پرائم منسٹر اور ان کے مشاورتی گروہ کی کوئی نیک نیتی نظر نہیں آتی۔ سپریم جوڈیشل کونسل سے اختیارات لے کر کہنے کو تو صدر کے ہاتھ دینا لیکن حقیقتاً ایگزیکٹو کو یعنی پرائم منسٹر کو تھما دینا اس بات کی دلیل ہے کہ پرائم منسٹر نیب چئیرمین کو زیادہ رول کرنا چاہتے ہیں ان کو اپنے قابو میں رکھنا چاہتے ہیں۔
نسیم زہرہ کا کہنا ہے کہ نیتوں کا حال تو اللہ ہی جانتا ہے کہ پرائم منسٹر اس کنٹرول سے کرنا کیا چاہتے ہیں لیکن جو معاملہ سب سے اہم ہے وہ ہے پرائم منسٹر اور آئین کا، اور پرائم منسٹر اور قانون کا۔ یہ معاملہ پرائم منسٹر اور عوام کے درمیان بھی ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ آخر اس حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے نیب بحیثیت ادارہ احتساب کے معاملے میں کتنی شفافیت سے آگے بڑھ رہا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ عملی طور پر نیب کی کارروائیوں پر لاتعداد سوال اٹھتے ہیں۔ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ نیب کے کردار پر تواتر سے تنقید کر رہی ہے۔ یہی تنقید غیر جانبدار قانونی ماہرین کی بھی ہے۔ اسی طرح نیب کیسز کی ایک لمبی لسٹ ہے جس کا ذکر کر کے ناقدین کہتے ہیں کہ ان کو نیب پس پردہ رکھے ہوئے ہے اور انکوائری نہیں شروع کرواتی۔ اس سب سے بڑھ کر نیب کے بلند و بانگ دعوؤں کے جواب میں وزارت خزانہ نے حال ہی میں یہ واضح کیا ہے کہ قومی احتساب بیورو نے اب تک اسے صرف پانچ ارب روپے کی رقم اکٹھی کرکے دی ہے جبکہ 820 ارب روپے کی ریکوری کا دعوی جھوٹ پر مبنی ہے۔
