کیا جناح کا پاکستان واقعی صرف فوج کی وجہ سے قائم ہے؟


معروف صحافی اور تجزیہ کار وسعت اللہ خان نے کہا ہے آئین پاکستان کی موجودگی میں جب کوئی کہتا ہے کہ اگر یہ ملک قائم ہے تو صرف فوج کی وجہ سے تو اس ایک جملے سے پاکستان کے پورے آئینی ڈھانچے کی اوقات الف ننگی ہو کر سامنے آ جاتی ہے۔گویا اس ملک کو باہمی رضامندی یا نظریے یا آئین یا وفاقی نظام نے نہیں بلکہ عسکری طاقت نے ایک لڑی میں پرو رکھا ہے اور طاقت ہی وہ سورج ہے کہ جس کے اردگرد باقی ادارے طفیلی سیاروں کی مانند گردش میں ہیں۔

اپنے تازہ ترین سیاسی تجزیے میں وسعت اللہ خان کہتے ہیں ہم اکثر افغانستان کو طعنہ دیتے ہیں کہ اس کا نسلی اور جغرافیائی ڈھانچہ کبھی بھی ایک وفاقی جمہوریت میں ڈھلنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ وہ زیادہ سے زیادہ ایک ایسی ڈھیلی ڈھالی کنفیڈریشن کی صورت میں برقرار رہ سکتا ہے جس میں توازنِ طاقت کا انحصار اس پر ہے کہ کون سا گروہ کن حالات میں کب تک اقتدار پر اپنی گرفت قائم رکھ سکے۔ گویا ایک مسلسل جنگ ہے جس نے افغان سماج کو جکڑ رکھا ہے اور اس جکڑ بندی کے سبب اجتماعی ترقی ممکن نہیں۔

دوسری جانب ہم خود کو ایسی وفاقی ریاست کہتے ہیں جو ایک متفقہ آئین کے تابع ہے، جہاں ایک منتخب پارلیمانی نظام کام کر رہا ہے، عدلیہ کا وجود ہے، ایک مضبوط افسر شاہی اور انتہائی منظم فوج ہے۔ اس ملک کو ایک نظریاتی مملکت بھی کہا جاتا ہے۔ جمہوریت جیسی کیسی سہی چل تو رہی ہے۔ اس اعتبار سے تو اس ریاست کو بہت پہلے ان ممالک کی صف میں آ جانا چاہیے تھا جہاں آئینی ڈھانچہ نہ صرف فعال ہے بلکہ اس کے سہارے سیاسی، معاشی و سماجی ترقی کی رفتار بھی مسلسل ہے اور عام شہری ہر وقت یہ بھی نہیں سوچتا کہ کل کیا ہوگا؟

مگر وسعت اللہ کہتے ہیں ایسا کیوں ہے کہ ہم 75 برس بعد بھی انسانی ترقی کے معیار میں گنے چنے پسماندہ ایشیائی اور بہت سے افریقی و لاطینی ممالک کے ہم پلّہ ہیں، جو یہ دعویٰ بھی نہیں کرتے کہ ان کے ہاں ایک اچھا خاصا قابلِ عمل آئینی نظام ہے جس میں ہر ادارہ اپنے اپنے دائرے میں کمزور سہی مگر فعال ہے۔ ہم نہ صرف ان ممالک سے اپنا تقابل کرتے ہوئے اتراتے ہیں بلکہ بزعمِ خود عالمِ اسلام کے امام بھی ہیں اور اپنے حالات پر کڑھنے کے باوجود ان سے پیچھا چھڑانے کے بجائے خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں اپنے سے بھی کمزور ممالک کے مقابلے میں غنیمت رکھا ہوا ہے۔

ایسا نہیں کہ جب ہم آزاد ہوئے تو قلاش تھے۔ ہمیں ایک فعال جیتا جاگتا نو آبادیاتی ڈھانچہ، بنیادی ادارے، مواصلاتی نیٹ ورک، بہت اہم جغرافیہ اور مباحثے کا کلچر ورثے میں ملا۔ مگر ہم نے اس ڈھانچے کو اور معیاری بنانے کے بجائے محض گنے چنے اداروں اور طبقات کی مضبوطی و پائیداری پر تمام وسائل جھونک دیے اور مملکت کی فلاح کا یہ اصول اپنایا کہ جس ادارے یا وفاقی یونٹ میں جتنا دم ہے وہ اتنے وسائل اڑا لے جائے۔

بقول وسعت اللہ، جن جن ممالک نے آزادی کے بعد ترقی کی ان کی اشرافیہ یا تو خود روشن خیال تھی یا پھر اس سوچ کی مالک تھی کہ جب سب ترقی کریں گے تو ہمارا حصہ بھی بڑھے گا۔ مگر ہماری اشرافیہ نے جتنا میسر ہے اسے سمیٹنے اور دیگر امورِ مملکت رواں رکھنے کے لیے قرض کو آمدنی جانا۔ یوں خود غرضی سکہ رائج الوقت ہوتی گئی اور پھر سب ہی کا جھاکا کھل گیا۔ جس میں جتنا دم تھا اتنا ہی وہ لے اڑا اور پھر ان ہی وسائل کو ملک کی قیمت پر خود کو اور طاقتور بنانے کے لیے استعمال جاری ہے۔

اس ملک میں ایک آئین اور آئینی اداروں کی دعوے داری ہوتے ہوئے جب بھی کوئی کہتا ہے کہ اگر یہ ملک قائم ہے تو صرف فوج کی وجہ سے ورنہ تو یہ ملک افغانستان، شام، لیبیا اور صومالیہ بن چکا ہوتا تو اس ایک جملے سے ہمارے پورے آئینی ڈھانچے کی اوقات الف ننگی ہو کر سامنے آ جاتی ہے۔ گویا اس ملک کو باہمی رضامندی یا نظریے یا آئین یا وفاقی نظام نے نہیں بلکہ طاقت نے ایک لڑی میں پرو رکھا ہے اور طاقت ہی وہ سورج ہے کہ جس کے اردگرد باقی ادارے طفیلی سیاروں کی مانند گردش میں ہیں۔ مگر طاقت کا مذہب یہ ہے کہ یہ کسی ایک گروہ یا ادارے کی گرفت میں مستقل نہیں رہ پاتی، بٹتے بٹتے غیر ریاستی گروہوں اور افراد کے ہاتھوں میں تقسیم در تقسیم ہوتی جاتی ہے۔

وسعت اللہ کے مطابق یہی طوائف الملوکی کہلاتی ہے جس میں جب بھی اور جس بھی طاقتور کا بس چلے تو ریاست اس کے اشاروں پر مجرا شروع کر دیتی ہے اور فیصلے کھلے ایوانوں میں نہیں بلکہ بند کمروں میں اور کھلی شاہراہوں پر ہوتے ہیں مگر بقول وسعت اللہ، اس سب کے باوجود ہمیں اتراتے رہنا چاہیے کیونکہ ہم کوئی افغانستان، صومالیہ یا شام نہیں ہیں۔

Back to top button