عمران خان بھارت اور اسرائیل کا پکا آلہ کار کیسے بنا؟

یہ الزام نہیں، نہ کوئی ایسا مفروضہ ہے جو صرف بغض عمران میں قائم کیا گیا ہو بلکہ عمران خان کا اپنا بیانیہ، اعمال اور رویہ یہ تصدیق کرتا ہے کہ وہ کسی اور کے ایجنڈے پر ہیں۔کیوں ہر وہ خواہش جو بھارت کی خواہش ہے اس کی تکمیل عمران خان کا مقصد اور مشن ہے؟حالات گواہی دیتے ہیں کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد فوجی تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی عمران خان کے ذریعے بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ نے کی تھی کیونکہ عمران خان نے اس ملک کے ساتھ وہ کچھ کیا جو کوئی پاکستانی نہیں بھارتی یا اسرائیلی ہی کر سکتا۔ سینئر صحافی شکیل انجم اپنے ایک سیاسی تجزئیے میں لکھتے ہیں کہ پاکستانی فوج کے ہیڈ کوارٹر جی ایچ کیو پر حملہ اور اس میں گھس کر اس عزت کو پیروں تلے روندنا اور فوجی تنصیبات کو تہس نہس کرکے نذر آتش کرنا بھارت کی جرات نہیں ایک خواب تھا جو عمران خان نے پورا کردیا۔فوج اور فوج کی اعلیٰ قیادت کے خلاف زہریلی مہم چلانا ، دنیا میں اسے بدنام کرنا اور دنیا میں اسے دہشتگرد فوج ثابت کرنا بھارت کی پہلی تمنا تھی جس کے لئے اس نے عالمی سطح پر پروپیگنڈہ کیا لیکن عمران خان نے بھارت کی یہ تمنا بھی پوری کرنے کےلئے فوج کی اعلیٰ قیادت کو قتل کے مقدمات میں نامزد کرکے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستانی فوج ان پر قاتلانہ حملہ میں ملوث ہے. میڈیا کیمپین کے ذریعے فوج کی تقسیم اور اعلیٰ قیادت کی صفوں میں بغاوت کا تاثر پیدا کرکے ملک اور فوج کو کمزور ثابت کرکے قومی سلامتی کے لئے خطرات پیدا کرنے کا بھارتی مشن عمران نے بے دریغ پورا کیا۔ اب تو بھارتی میڈیا تحریک انصاف کی پرتشدد سیاست کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے عمران خان کی طالبان دوستی کا ذکربھی کر رہا ہے کہ عمران دور میں افغانستان سے واپس لائے جانے والے 42ہزار طالبان عمران خان کے ہراول دستے میں شامل ہیں اور پاکستانی افواج کو کمزور کرنے کے بھارتی اور اسرائیلی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے عمران خان کے مشن کو مکمل کرنے میں ان کی مسلح جدوجہد میں ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ شکیل انجم اپنی تحریر میں پوچھتے ہیں کہ کورکمانڈر ہاؤس کو نیست و نابود کر کے فوج کو بے توقیر کیوں کیا گیا؟ کیونکہ یہی بھارت کی خواہش تھی! کیوں پاکستان کے 1965کی جنگ کے ہیرو ایم ایم عالم کے اس لڑاکا طیارے کو نذر آتش کردیا جس نے تن تنہا فضا میں بھارتی طیاروں کا مقابلہ کرتے ہوئے صرف ایک منٹ میں دشمن کے 5 طیارے مار گرائے اور پاکستان کی عزت و توقیر میں اضافہ کیا۔آج ایم ایم عالم کی روح پشیمان ہوگی کہ کیوں وہ اس قدر بے حس قوم کا باشندہ ہے جس نے اس کے احسانات کا بدلہ اس انداز میں دیا کہ اس کی روح کانپ گئی۔ یہی بھارت کی منشاء تھی.تحریک انصاف کے شرپسندوں نے کارگل وار میں جان کا نذرانہ پیش کرکے ملک کی آبرو بچانے اور نشان حیدر پانے والے کیپٹن کرنل شیر خان کا مجسمہ کا سر جسم سے جدا کر کے ریزہ ریزہ کردیا۔یہ وہ شیر خان تھا جس کے بارے میں تاریخ لکھتی ہے کہ انہوں نے جنگ کارگل کے دوران مسلسل 5روز تک بھوکے پیاسے رہ کر کارگل پوسٹ پر انڈین آرمی کی پوری ڈویژن کو روکے رکھا اور انجام کار ملک کی عزت و آبرو بچاتے بچاتے اس قوم پر قربان ہو گئے جس نے انہیں بے آبرو کرنے میں ذرہ برابر شرم محسوس نہیں کی۔یہ وہی شیر خان تھا جس کی بہادری کا اعتراف دشمن فوج کی کمانڈ نے بھی کیا تھا۔ملک اور فوج دشمن سوچ کے حامل اس شرپسند گروہ نے اعلیٰ قیادت کی ہدایت پر بھارتی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے ملک بھر میں تباہی کی انتہا کر دی اور فوج سے جڑی تنصیبات اور شہداء کی یادگاروں کو نشانہ بنایا گیا، اپنی ملک دشمنی کی آگ بجھانے کے لئے چاغی کا ماڈل جلا دیا، سیکڑوں فوجی اور سرکاری گاڑیوں کو آگ میں جھونک دیا اور اعلانیہ فوج کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرنے میں فخر کیا۔ شکیل انجم کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف نے باغیانہ اور نفرت کی سیاست کا آغاز اسٹیبلشمنٹ کی چھتری تلے 2014 کے دھرنے کے دوران کیاتھا جب عمران خان نے کنٹینر پر یوٹیلیٹی بل نذر آتش کر کے سول نافرمانی کا اعلان کیا، تشدد اور انتشار کی سیاست کی بنیاد رکھی، اسی دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کئے اور پاکستان ٹیلیوژن کی مرکزی عمارت پر قبضہ کر لیا اور نشریات رکوانے کی کوشش کی۔ اسی دھرنے کے دوران شیخ رشید نے پر تشدد تحریک کی ترغیب دی اورنفرت، سول نافرمانی اور جلاؤ گھراؤ کے ذریعے اقتدار چھیننے کی پالیسی کی حوصلہ افزائی کی۔
سیاست کے نشیب و فراز اور منفی سیاست کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر نظر رکھنے والے ناقدین دعویٰ کرتے ہیں کہ تحریک انصاف پر خزاں کے آثار نمودار ہو رہے ہیں جب تحریک انصاف کے ہرے بھرے جنگل کے گھنے درختوں کے پتوں کے رنگ تبدیل ہو کر کمزور ہونے لگے ہیں ۔اس قدر کمزور کہ ہواؤں کے تھپیڑوں سے ایک ایک پتہ ٹوٹ کر فضاؤں میں بکھرنے لگے گا تب باغبان کو رعونت، تکبر اور طاقت کے اثر میں کی جانے والی غلطیوں کا احساس ہو گا کہ اس نے اقتدار حاصل کرنے کے لئے اس ملک کی تباہی کے لئے کون کون سی حدود پار نہیں کیں لیکن تب سوچنے کا وقت گزر چکا ہو گا کیونکہ ان گھنے درختوں کے پتے جھڑ چکے ہوں گے۔ان بدلتے ہوئے حالات میں پارٹی کے سیکڑوں "راہنما” اونٹ کے کسی کروٹ بیٹھنے کی بنیاد پر اپنے سیاسی مستقبل فیصلے کے منتظر ہیں۔
