عمران کی حمایتی عدلیہ ہی فوجی عدالتوں کا سبب بنی؟

سویلین عدالتوں نے 9 مئی کو ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں بلوائیوں کی ضمانتیں لینے میں کافی نرمی دکھائی ہے۔ اتنے بڑے واقعات کے بعد عدالتوں نے حکومت کا ساتھ نہیں دیا۔ سب کو رہائی ملی ہے۔ یہ احساس نہیں کیا گیا کہ اتنے بڑے واقعات ہوئے ہیں، حکومت کے پاس امن و امان بحال کرنے کے لیے تحریک انصاف کے لوگوں کو نقص امن میں بند کرنے کے سوا کیا آپشن تھی۔ یہ کوئی عام صورتحال نہیں تھی۔ لیکن پھر بھی عدالتوں نے اتنے بڑے واقعات کے بعد بھی تحریک انصاف کو غیر معمولی انصاف دیا ہے۔ اس کے بعد تو آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات چلانے کا مزید جواز بھی پیدا ہوگیا ہے۔ کیونکہ عام عدالتوں سے سزائیں ممکن نہیں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور تجزیہ کار مزمل سہروردی نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے .. وہ لکھتے ہیں کہ ایک طر ف شور مچا ہے کہ آرمی ایکٹ کے تحت سویلین کا ٹرائل ممکن ہی نہیں ہے، دوسری طرف رائے ہے کہ یہ ممکن ہے۔ ایک طرف رائے ہے کہ سویلین عدالتیں اس کے خلاف حکم امتناعی دے دیں گی، دوسری طرف رائے ہے کہ سویلین عدالتیں آرمی ایکٹ تحت ملٹری کورٹس میں چلنے والے ٹرائل میں مداخلت نہیں کر سکتیں۔ ایک طرف دلیل ہے کہ دیکھیں! جب آئین میں ترمیم کر کے دہشت گردوں کے لیے خصوصی ملٹری کورٹس بنائی گئی تھیں۔ ان مقدمات کی اپیل بھی بعد میں سویلین ہائی کورٹس میں آئی تھیں۔ اس طرح اگر اب بھی آرمی ایکٹ کے تحت کوئی عدالت سزا دے گی، تب بھی اپیل ہائی کورٹ میں آئے گی اور وہاں جیسے پہلے تمام سزائیں ختم ہوئی ہیں، اب بھی سزائیں ختم ہو جائیں گی۔ایک دلیل یہ بھی دی جا رہی ہے کہ جب ٹرمپ کے حامیوں نے کیپٹل ہل پر حملہ کیا تھا تو ان کے مقدمات بھی عام سویلین عدالتوں میں چلے تھے۔ لیکن یہ کیوں نہیں بتایا جاتا کہ عدالتوں نے کتنی جلدی سزائیں سنائیں۔ کیا ہماری عدالتیں ان ملزمان کو اتنی جلدی سزائیں دینے کے لیے تیار ہیں۔

مزمل سہروردی سوال کرتے ہیں کہ کی کیا چیف جسٹس نے 9 مئی کے واقعات پر کوئی افسوس کا اظہار کیا ہے۔ کیا انھوں نے کہا ہے کہ ان مقدمات کو جلد نبٹانے کے لیے کوئی حکمت عملی بنائی جائے گی۔ کیا چیف جسٹس نے واقعات کی سنگینی کا احساس کیا ہے۔ آپ دیکھیں جب قصور میں ایک بچی کا ریپ ہوا تھا تو اس کے ملزم کو سزا دینے کے لیے ٹرائل چند دن میں مکمل کیا گیا۔ بلکہ اس کی اپیل کا فیصلہ بھی چند دن میں کیا گیا۔ کیا چیف جسٹس یہ اعلان نہیں کر سکتے تھے کہ یہ ایک قومی سانحہ ہے لہذا ان مقدمات کی روزانہ سماعت ہوگی اور دنوں میں معاملے کو نبٹایا جائے گا۔ لیکن ہمیں چیف جسٹس کی طرف سے ایسا کوئی اعلان نہیں ملا ہے۔ جس نے آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات چلانے کو مزید جواز فراہم کیا ہے۔ کیونکہ یہ تو سب کو معلوم ہے پاکستان کی عدالتوں میں مقدمات کئی سال نہیں بلکہ کئی دہائیاں چلتے ہیں۔ پھر ضمانتیں بھی مل جاتی ہیں۔ فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے کے ملزمان آج بچ گئے تو پھر اس اعلان کی بھی کوئی اہمیت نہیں رہے گی کہ ہم دوبارہ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ جب یہ بچ جائیں گے تو دوبارہ حملہ بھی ہوگا۔ اگر آج تمام ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچا دیا جاتا ہے تو پھر دوبارہ کسی کو یہ ہمت نہیں ہوگی۔ آج بچ گئے تو حوصلہ ملے گا۔ جیسے ہر جرم میں ہوتا ہے۔ جب ملزم بچ جاتا ہے تو دوبارہ جرم کرتا ہے۔ مزمل سہروردی کا کہنا ہے کہ عمران خان دو روز پہلے سب کو یہی تسلی دے رہے تھے کہ معاملہ ٹھنڈا ہوگا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ وہ تو اپنے ساتھیوں کو یہ تک کہتے نظر آئے کہ جون میں پنجاب میں انتخابات کی تیاری رکھیں کیوں کہ کہ سپریم کورٹ اور چیف جسٹس پاکستان جون میں انتخابات کا حکم دے دیں گے۔ اس لیے فکر کی کوئی بات نہیں۔ جب انتخابات کا اعلان ہو جائے گا تو یہ معاملہ خودہی پیچھے چلا جائے گا۔ آپ دیکھیں وہ اتنے بڑے واقعہ کے بعد بھی مریدکے میں جلسہ کرنا چاہتے تھے ۔ تا کہ عوام کی توجہ 9مئی سے پنجاب میں انتخابات کی طرف موڑی جا سکے۔ فیصلہ اب ریاست نے کرناہے، اگر آج ان کو معافی دی گئی اور نرمی برتی گئی تو کل کسی کو بھی روکنے کا کوئی جواز نہیں رہے گا۔

Back to top button