عمران خان نے فوج اور عدلیہ سے بغاوت کی غلط امید کیوں لگائی تھی  ؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان جیل میں تو قید ہیں ہی، لیکن وہ ایک تصوراتی دنیا کے قیدی بھی ہیں۔ اسی لیے نہ تو انہیں حقیقی دنیا میں آنے والی تبدیلیوں کا ادراک ہے اور نہ ہی وہ یہ کوشش کر رہے ہیں کہ ان تبدیلیوں کو سمجھ کر ان کے مطابق اپنی پالیسیاں بنائیں اور غلط مفروضوں پر مبنی فیصلے کرنے سے باز آ جائیں۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ حقیقت سے دوری کی وجہ سے ہی خان صاحب کے سیاسی اندازے مسلسل غلط ثابت ہو رہے ہیں۔

سہیل وڑائچ کے بقول، عمران خان کی توقعات کے برعکس نہ تو فوجی قیادت کے خلاف بغاوت ہوئی، اور نہ ہی عدلیہ نے عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی انقلابی قدم اٹھایا۔ نہ تو کوئی ایسا عوامی جتھا باہر نکلا جو حکومت اور فوج کو پچھاڑ دیتا، اور نہ ہی حکومت سے عدم تعاون کی اپیلوں نے کام کیا۔ پی ٹی آئی والوں کی جانب سے سڑکوں پر احتجاج بھی اتنا موثر ثابت نہ ہوا کہ ملکی حالات بدل جاتے، نہ پارلیمان میں پی ٹی آئی کی بھاری اکثریت حکومت اور فوج کو عمران خان سے مذاکرات پر آمادہ کر سکی اور نہ ہی انہیں کوئی رعایت مل سکی یے۔

سہیل وڑائچ کے بقول، عوامی حمایت کے دعویدار ہونے کے باوجود دنیا کے کسی دارالحکومت نے ابھی تک فوج یا اسلام آباد پر اتنا دباؤ بھی نہیں ڈالا کہ وہ کسی غیر ملکی سفارتکار ہی سے مل سکیں، دوسری جانب یاد رکھیں کہ جب نواز شریف قید ہوئے تھے تو برطانیہ نے دباؤ ڈال کر جنرل مشرف کو مجبور کیا تھا کہ برطانوی رکن پارلیمنٹ چودھری سرور کو نواز شریف سے جیل میں ملوایا جائے اور یوں یہ ملاقات ممکن ہو گئی تھی، اسی طرح تحریک انصاف کے حق میں سوائے چند عدالتی فیصلوں کے کوئی ایسا معجزہ رونما نہیں ہوا جو سیاسی صورتحال کو عمران کے حق میں تبدیل کر دے۔ ایسے میں اب اگر حکومت کی مجوزہ آئینی ترامیم بھی منظور ہوگئیں تو تحریک انصاف کی عدالتی ایوانوں سے رہی سہی امیدیں بھی ٹوٹ جائیں گی۔ بڑا سوال یہ یے کہ بانی پی ٹی آئی اپنی تصوراتی دنیا سے نکل کر حقائق کی دنیا میں کیوں نہیں آتے؟ سوال یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کیوں نہیں کرتی؟ محمود اچکزئی کو مذاکرات کے لیے بااختیار کیوں نہیں بنایا جاتا؟ آئی ایم ایف کا 7 ارب ڈالرز کا پیکیج منظور ہونے کے بعد تحریک انصاف کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں کہ لمبی اور پرامن سیاسی جدوجہد کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا ہے، لہٰذا جتنا جلدی اس راستے پر چل پڑا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں ہر سوچنے والے نے اپنی ایک تصوراتی دنیا بنا رکھی ہوتی ہے، اکثر لوگ اپنی اس تصوراتی دنیا میں اس قدر مگن اور خوش رہتے ہیں کہ اس دنیا سے باہر کی حقیقی دنیا میں جھانکتے تک نہیں، یوں وہ اس اندھے کنویں میں قید ہونے کے باوجود سمجھتے ہیں کہ یہی اصلی دنیا ہے چونکہ حقیقی دنیا کے حقائق تلخ ہوتے ہیں جو نظریات پر ضرب لگاتے ہیں، اور خیالات کو جھنجوڑتے ہیں، حقیقی دنیا کے حقائق دل و دماغ کو تکلیف دیتے ہیں اور جو کچھ آپ نے عمر بھر سوچ کر ذہن میں پختہ کر رکھا ہوتا ہے اسے غلط قرار دیتے ہیں۔ اس لئے ہم سب حقیقی دنیا سے نظریں چرا کر اپنی بنائی ہوئی پرسکون دنیا میں رہنا چاہتے ہیں، یاد رکھیے کہ ہر غیر ترقی یافتہ قوم کا یہی شیوہ رہا ہے کہ وہ اپنی تصوراتی دنیا میں قید رہتی ہے اور باہر سے تازہ ہوا بھی اندر آ جائے تو وہ اسے ناگوار گزرتی ہے۔ آج کے تضادستان کی سیاست بھی دو دنیاؤں میں بٹی ہوئی ہے کوئی بھی تصورات کی دنیا سے حقائق کی دنیا میں آنا نہیں چاہتا۔ تحریک انصاف ہو یا نون لیگ، پیپلزپارٹی ہو یا مولانا فضل الرحمٰن کی پارٹی، سب اپنی اپنی تصوراتی دنیا میں قید ہیں اور تو اور فوج اور نون لیگ اتحادی ہونے کے باوجود بھی بہت سارے اختلافات کا شکار ہیں۔ وجہ یہی ہے کہ دونوں کی الگ الگ تصوراتی دنیائیں ہیں۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف کا پیکج ملنے سے حکومت کو سانس لینے کا موقع مل گیا ہے، اور حکومتی نظام بھی چل پڑا ہے، مگر ترقیاتی اخراجات کےلیے اب بھی کوئی پیسہ موجود نہیں، اس لئے حکومت نہ تو عوام کو کوئی بڑا ریلیف دے سکتی ہے اور نہ ہی اراکین اسمبلی کو ترقیاتی بجٹ دے کر خوش کرسکتی ہے۔ دوسری طرف شہباز حکومت سے دو شکایات ابھی تک گردش میں ہیں، پہلی یہ ہے کہ ان کی جانب سے مکمل ڈیلیوری نہیں ہو رہی اور دوسری یہ کہ وزیر اعظم نہ تو سیاست پر بولتے ہیں اور نہ ہی سیاست کرتے ہیں۔ گلہ یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف سے ٹکرا جانے والی فوج کو بھی لیگی حکومت کی جانب سے کوئی سپورٹ نہیں مل رہی۔ لیکن دوسری جانب وفاقی وزراء ہر اہم فیصلے میں آنے والی عسکتی رکاوٹوں کو ڈیلیوری نہ ہونے کا جواز پیش بنا کرتے ہیں۔  وزیراعظم کے ایک بہت قریبی ساتھی نے بھی آف دی ریکارڈ نوکر شاہی کی پیچیدگیوں کو ڈیلیوری نہ ہونے کی اصل جڑ قرار دیا ہے۔ یہ دونوں خرابیاں ٹھیک ہونے کا فوری امکان بھی موجود نہیں، دوسری طرف فوج کے پاس شہباز شریف سے بہتر فی الحال کوئی چوائس بھی نہیں اس لیے یہ نظام اسی طرح چلے گا۔ نظام کے چوکڑیاں بھرنے کا فی الحال دور دور تک کوئی امکان نہیں۔ موجودہ سسٹم استطاعت سے زیادہ بوجھ سے لدے ہوئے ٹٹو کی اسپیڈ سے چلتا رہے گا، اس کے علاوہ پنجاب حکومت کو اب تک جو فری ہینڈ حاصل تھا وہ اب ختم ہو جائے گا۔ آئی ایس آئی چیف کی تبدیلی کے بعد مریم نواز حکومت کی سخت مانیٹرنگ شروع ہو جائے گی، پہلے پنجاب کئی اداروں اور اشخاص کے دائرہ کار سے باہر تھا لیکن اب ایسا نہیں رہے گا اور اسے جوابدہ بنایا جائے گا۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ آج کل مولانا کی سیاست کا غلغلہ ہے۔ اندرونی حلقے کہتے ہیں کہ ترمیم کےلیے نمبرز تو پورے ہو چکے ہیں لیکن مولانا کی مہر کی ضرورت اس لیے ہے کہ اندرون اور بیرون ملک ترمیم کی قبولیت بہتر طور پر ہو سکے۔ لگتا ہے کہ مولانا کو بھی فوج یا اپوزیشن میں سےکسی ایک کو اپنانا پڑے گا، اگر تو وہ مکمل کپتان کی طرف جھکتے ہیں تو پھر فوجی التفات سے محروم ہو جائیں گے اور اگر فوج کے ساتھ نرم ہو جاتے ہیں تو تحریک انصاف دوبارہ سے ڈیزل کے نعرے لگانا شروع کر دے گی۔ لیکن اگلے چند روز میں ان کی سپورٹ ایک نہ ایک طرف چلی جائے گی۔ بلاول بھٹو فرنٹ فٹ پر کھیل کر آئینی عدالت کی وکالت کر رہے ہیں لہٰذا دیکھنا یہ ہے کہ ان کی یہ نئی سیاسی جارحانہ پالیسی کیا ان کےلیے پنجاب میں جگہ بنا سکے گی یا نہیں؟

نئے ڈی جی ISIسر پھری پی ٹی آئی کو پٹو کیسے ڈالیں گے؟

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ آج کی حقیقی دنیا پر نظر دوڑائیں تو جنگ ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ ایران، اسرائیل امریکہ کے ساتھ جنگ کا بڑا فریق ہے اور ہمارا پڑوسی بھی ہے، دوسرے پڑوسی ملک افغانستان میں بھی تیزی سے بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں، ایک طرف تو افغانستان کی طالبان حکومت لڑکیوں کی تعلیم پر پابندیاں لگا رہی ہے، اور لازمی داڑھی کے حوالے سے قانون بھی بنا دیا گیا ہے، تو دوسری طرف وہاں کی افغان قیادت طالبان کے خلاف اکٹھی ہو رہی ہے، اب یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایران اور افغانستان میں جنگ ہو اور پاکستان اس جنگ سے لاتعلق رہ جائے؟ لیکن ہم ابھی تک اصل صورت حال اور حقیقی دنیا سے آشنائی کے لئے تیار نہیں اور اپنی بنائی ہوئی تصوراتی دنیا کے قیدی بنے بیٹھے ہیں۔

Back to top button