آزاد کشمیر کی عدالتوں میں چیف جسٹس کی تعیناتی میں تاخیرکیوں؟

آزاد جموں اور کشمیر کی دونوں اعلیٰ عدالتوں میں وزیراعظم پاکستان کی جانب سے چیف جسٹس کی تعیناتی میں مبینہ ‘خلاف دستور’ تاخیر پر قانونی برادری نے تشویش کا اظہار کردیا۔
مستقل چیف جسٹسز کی تعیناتی نہ ہونا نہ صرف آزاد جموں و کشمیر کے آئین کی خلاف ورزی ہے بلکہ اہم عدالتی امور میں بھی رکاوٹ ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے آئین کے آرٹیکل 42(2) کے تحت آزادجموں و کشمیر کونسل کی تجویز پر صدرآزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا تقرر کرتا ہے اور آرٹیکل 43 (2-اے) کونسل کی سفارش سے صدر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی تعیناتی کرتا ہے جس کےلیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت کی جاتی ہے۔
وزیراعظم پاکستان آزاد جموں و کشمیر کونسل کے سربراہ ہیں اور اراکین میں آزاد جموں و کشمیر سے منتخب 6 اراکین اور چیئرمین کے وفاقی کابینہ سے نامزد غیرمنتخب اراکین شامل ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر کے آئین کے مطابق چیف جسٹس کا عہدہ خالی ہونے پر ریاست کے صدر کسی بھی سینئر ترین جج کو چیف جسٹس تعینات کرسکتا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر میں اس وقت دونوں اعلیٰ عدالتوں میں قائم مقام چیف جسٹسز تعینات ہیں۔ جسٹس راجا سعید اکرم خان یکم اپریل2020 سے قائم مقام چیف جسٹس کے فرائض نبھارہے ہیں جو سابق چیف جسٹس چوہدری ابراہیم ضیا کی ریٹائرمنٹ کے بعد یہ فرائض ادا کررہے ہیں۔
ہائی کورٹ میں جسٹس اظہر سلیم بابر گزشتہ برس 16 نومبر سے قائم چیف جسٹس ہیں جنہیں سابق چیف جسٹس تبسم آفتاب علوی کی تعینات کی منسوخی کے بعد قائم مقام چیف جسٹس بنایا گیا تھا جب کہ ان کی ریٹائرمنٹ رواں برس 19 فروری کو ہونا تھی۔ سپریم کورٹ نے جسٹس تبسم آفتاب علوی کی اپیل پر ان کی منسوخی کے حکم کو بھی ختم کردیا تھا۔صدر آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے فروری اور مارچ میں جسٹس اظہر سلیم بابر اور جسٹس سعید اکرم خان کی تعیناتی کےلیے کونسل کے چیئرمین کو سمری بھیج دی گئی ہے لیکن تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
آزاد جموں و کشمیر کی قانونی برادری کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف آزاد جموں و کشمیر کے آئین کی خلاف ورزی ہے بلکہ کئی دیگر عدالتی امور بھی رکے ہوئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button