عمران خان کی سیاست کو فل سٹاپ لگنے کے امکانات روشن؟

امریکی سائفر سازش کیس میں جہاں عمران خان کا انجام قریب آچکا ہے وہیں مستقبل قریب میں عمران خان کے دوبارہ سیاست میں متحرک ہونے کے امکانات معدوم ہو چکے ہیں۔ یعنی عمران خان پر صرف کراس ہی نہیں لگا بلکہ فل سٹاپ لگا کر ان کا سیاسی سفر ہی روکنے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت قائم خصوصی عدالت نے سابق وزیر اعظم و چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان ر سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس میں فرد جرم عائد کردی ہے جبکہ دونوں ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔عدالت نے ٹرائل کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے 27 اکتوبر کو گواہان کو طلب کرلیا ہے۔

اڈیالہ جیل راولپنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکیوٹر شاہ خاور نے بتایا کہ چالان کی نقول تقسیم کرنے کے حوالے سے آج بھی وکلا کی جانب سے بحث کی گئی۔انہوں نے کہا کہ آج کا دن فرد جرم عائد کرنے کے لیے مقرر تھا، اوپن کورٹ میں فرد جرم پڑھ کر سنائی گئی، فرد جرم سنتے وقت چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی عدالت میں موجود تھے۔ان کا کہنا تھا کہ سائفر کیس کی آئندہ سماعت 27 اکتوبر کے لیے مقرر کی گئی ہے، اگلی سماعت پر استغاثہ کے گواہان کو عدالت نے طلب کرلیا ہے۔

یاد رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے نے 30 ستمبر کو عدالت میں چالان جمع کرایا تھا جس میں مبینہ طور پر عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشنز 5 اور 9 کے تحت سائفر کا خفیہ متن افشا کرنے اور سائفر کھو دینے کے کیس میں مرکزی ملزم قرار دیا تھا۔ایف آئی اے نے چالان میں 27 گواہان کا حوالہ دیا تھا، مرکزی گواہ اعظم خان پہلے ہی عمران خان کے خلاف ایف آئی اے کے سامنے گواہی دے چکے ہیں۔

خیال رہے کہ جب بھی کوئی جرم ہوتا اور ملزم جسمانی ریمانڈ پر ہوتا ہے تو اس دوران اس سے پولیس تفتیش کرتی ہے۔ جسمانی ریمانڈ کی مدت ختم ہونے کے بعد ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جاتا ہے۔عدالتی ریمانڈ کے دوران پولیس اپنی تفتیش کی بنیاد پر ملزم اور گواہان کے بیانات کا چالان تیار کرتی ہے اور عدالت میں جمع کرا دیتی ہے۔چالان جمع کرائے جانے کے بعد عدالت فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کرتی ہے۔فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ پر عدالت پولیس کے چالان کی روشنی الزامات کی فہرست پڑھ کر سناتی ہے اور اس عمل کو فرد جرم عائد کرنا کہا جاتا ہے۔

فرد جرم بنیادی طور پر وہ فرد یا وہ لکھت ہوتی ہے جو متعلقہ جج سماعت کے دوران ملزم کو اپنے نام کے ساتھ خود پڑھ کر سناتا ہے کہ میں بطور جج آپ پر یہ فرد جرم عائد کر رہا ہوں اور آپ پر یہ الزام ہے یعنی اس میں الزامات کی تفصیل ہوتی ہے۔اس کے بعد سوال کیا جاتا ہے کہ کیا ملزم ان الزامات کو قبول کرتا ہے؟ اور اپنا جرم قبول کرتا ہے؟عام طور پر ملزم اپنے اوپر لگائے گئے الزامات سے انکار کرتا ہے تو اسے صحت جرم سے انکار کرنا کہا جاتا ہے۔اگر ملزم اپنا جرم قبول کر لیتا ہے تو اسے قانونی اصطلاح میں قبولیت جرم کہا جاتا ہے۔کوئی بھی عدالت فرد جرم خود سے تخلیق نہیں کر سکتی بلکہ کسی بھی مقدمے کی ایف آئی آر یا ابتدائی اطلاعی رپورٹ کے مندرجات کی بنیاد پر فرد جرم عائد ہوتی ہے۔فرد جرم عائد کیے جانے کے دوران ملزم کی موجودگی ضروری ہوتی ہے تاکہ وہ سن سکے کہ اس پر کیا الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ عمران خان پہلے وزیر اعظم نہیں جن پر فرد جرم عائد کی گئی ہے بلکہ پاکستان کی تاریخ میں سربراہان مملکت ہی نہیں بلکہ سیاستدان اور ایک فوجی سربراہ بھی عدالتی کارروائیوں سے محفوظ نہیں رہے البتہ سیاستدانوں کا پلڑا اس معاملے میں بھاری رہا۔ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر عمران خان تک کوئی بھی سیاستدان بھرپور طریقے سے اقتدار کے مزے نہ لے سکا اور عدالتی کیسز آڑے آ گئے۔

ذولفقار علی بھٹو 1973 سے 1977 تک پاکستان کے وزیراعظم رہے۔ اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف کئی کیسز دائر ہوئے۔ قتل کی سازش کے الزام میں گرفتار ہوئے، فرد جرم عائد ہوئی ٹرائل ہوا اور بالاآخر پھانسی کی سزا سنا دی گئی۔ اقتدار سے ہٹنے کے دو سال بعد انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

اپنے والد کے بعد جب بے نظیر بھٹو پاکستان کی وزیراعظم بنیں۔ اقتدار میں آنے سے پہلے ہی وہ دو مرتبہ گرفتار ہوئیں ایک بار 90 دن کی نظر بندی جبکہ دوسری مرتبہ ریلی سے گرفتاری ہوئی۔دونوں بار حکومت ختم ہونے کے بعد انہیں اپریل 1999 میں کرپشن کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی اور نااہل قرار دے دی گئیں لیکن وہ بیرون ملک ہونے کی وجہ سے گرفتاری سے بچ گئیں۔

نواز شریف اکتوبر 1999 میں طیارہ سازش کیس میں گرفتار ہوئے لیکن بعد ازاں ملک سے باہر 10 سال کے لیے بھجوا دیے گئے۔ دوبارہ 2013 میں اقتدار میں آنے کے بعد بھی حکومتی مدت مکمل نہ کر سکے اور پانامہ کیس کا سامنا کرنا پڑا، فرد جرم لگی، مقدمہ چلا، سزا ہوئی اور نااہل قرار دے دیے گئے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کی سزا ہوئی اور ناہل قرار دے دیے گئے۔ بعد ازاں توشہ خانہ ریفرنس میں احتساب عدالت نے ستمبر 2020 میں فرد جرم بھی عائد کی۔نیب ریفرنس کے مطابق سنہ 2008 میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کسی عوامی عہدے پر بھی تعینات نہیں تھے لیکن اس کے باوجود اس وقت کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اُنہیں توشہ خانے سے گاڑیاں دیں اور بدعنوانی کے مرتکب ٹھہرے۔

پیپلزپارٹی کے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف پر رینٹل پاور پلانٹس میں خرد برد کا الزام تھا جس پر نیب نے ان کے خلاف کارروائی کی۔ ان پر رینٹل پاور کیس میں 2014 میں جبکہ نندی پور ریفرنس میں مارچ 2019 میں فرد جرم عائد ہوئی۔گیپکو سکینڈل جس میں غیر قانونی بھرتیوں کا بھی الزام تھا 2017 میں راجہ پرویز اشرف پر فرد جرم عائد کی گئی۔ ریشما اور گلف پاور پراجیکٹ ریفرنسز میں احتساب عدالت نے راجہ پرویزاشرف پر جولائی 2019 میں فرد جرم عائد کی۔

مسلم لیگ ن کے دور میں پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے قطر سے ایل این جی گیس برآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف نیب نے ایل این جی ریفرنس بنایا کہ ایل این جی منصوبے میں کرپشن کی گئی ہے جس میں شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل ملوث ہیں۔اس کے بعد احتساب عدالت نے نومبر 2020 میں شاہد خاقان عباسی پر فرد جرم عائد کی۔ جبکہ پی ایس او میں غیر قانونی بھرتیوں کے خلاف کیس میں اگست 2020 میں فرد جرم بھی عائد کی گئی۔

سابق وزیراعظم عمران پر اقتدار ختم ہونے کے بعد 100 سے زائد مقدمات بنائے گئے۔ جن میں سنجیدہ نوعیت کے مقدمات میں توشہ خانہ کیس، القادر ٹرسٹ کیس، سائفر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کیس ہے۔ان کے خلاف نو مئی 2023 کے واقعات سے متعلق بھی کیسز درج ہیں۔ توشہ خانہ کیس میں رواں برس 10 مئی کو عمران خان پر فرد جرم عائد کی گئی۔ 23 اکتوبر 2023 کو سرکاری دستاویز امریکی سائفر کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے الزام میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سابق وزیراعظم عمران خان پر فرد جرم عائد کر دی گئی۔

آصف علی زرداری پاکستان کے صدر رہ چکے ہیں اور انہیں بھی اقتدار کے بعد کئی کرپشن کیسز اور نیب ریفرنسز کا سامنا کرنا پڑا۔ اقتدار سے قبل کئی برس جیل بھی کاٹی۔ توشہ خانہ ریفرنس میں کئی بار احتساب عدالت میں پیش ہوئے اور فرد جرم بھی عائد ہوئی۔ٹرائل چلتا رہا جو بعد میں نیب ترامیم کے بعد واپس ہو گیا تھا لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ریفرنس بحال ہو گیا۔ نیب ریفرنس کے مطابق صدر آصف زرداری نے گاڑیوں کی صرف 15 فیصد قیمت ادائیگی کے بعد یہ گاڑیاں ذاتی استعمال کے لیے حاصل کیں۔ ان گاڑیوں کے لیے رقم کی ادائیگی بھی جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے کی گئی تھی۔

سابق فوجی سربراہ اور سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف پر تین نومبر 2007 کی ایمرجنسی اور آئین شکنی کے جرم میں آرٹیکل چھ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں فرد جرم عائد کی گئی اور مقدمہ چلایا گیا تھا۔خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو آرٹیکل چھ کے مقدمے میں پھانسی کی سزا سنائی تھی لیکن پرویز مشرف بیماری کے باعث ملک سے باہر چلے گئے اور موت واقع ہونے کے بعد ان کی میت پاکستان لا کر تدفین کی گئی۔

Back to top button