عمران خان کے جنرل فیصل نصیر پر الزامات جھوٹے نکلے

سنی سنائی باتوں پر یقین کرکے جھوٹے الزامات لگانے والے عمران خان کا ایک اور جھوٹ بے نقاب ہو گیا۔اقتدار سے بے دخلی کے بعد آئی ایس آئی کے حاضر سروس آفیسر میجر جنرل فیصل نصیر پر اپنے قتل کی سازش کا الزام عائد کرنے اور اس قتل سازش کے ٹھوس شواہد اپنی جیب میں بتانے والا عمران خان جے آئی ٹی کے سامنے الزامات کا ثبوت دینے سے قاصر رہاتاہم چئیرمین تحریک انصاف نے جے آئی ٹی کے سامنے اعلی فوجی افسران کیخلاف اپنے سنگین الزامات والے ویڈیو کلپس کوتسلیم کرلیا۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد کے آفس میں غداری کیس کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوگئے ہیں ذرائع کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف کے خلاف تھانہ رمنا میں درج مقدمہ نمبر 255/23 میں تحقیق کی گئی اور انہیں ایف آئی آر پڑھ کر سنائی گئی جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی کو حساس ادارے کے سینئر افسر میجر جنرل فیصل نصیرکا نام لےکربے بنیاد الزامات لگانے والے ان کےکلپ دکھائےگئے، انہوں نے جے آئی ٹی کے سوال پر ویڈیو کلپس کی ذمہ داری قبول کی۔
ذرائع کے مطابق چئیرمین پی ٹی آئی کو اعلیٰ فوجی افسران پر ان کی جانب سے عائد الزامات پر مبنی ایف آئی آر بتائی گئی۔جے آئی ٹی نے چئیرمین پی ٹی آئی سے استفسار کیا کہ کیا ان کے پاس ویڈیو کلپس میں لگائے گئے الزامات کا کوئی ثبوت ہے جس پر چئیرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں۔چئیرمین پی ٹی آئی سے سوال کیا گیا کہ کیا جنرل فیصل نے آپ کو براہ راست دھمکی دی تو انہوں نے کہا کہ مجھے کوئی دھمکی نہیں دی گئی۔ذرائع کے مطابق جب پی ٹی آئی چئیرمین سے پوچھا گیا کہ پھر آپ نے الزامات کیوں لگائے تو انہوں نے کہا کہ مجھے کسی نے بتایا تھا۔ میرے پاس اس کا کوئی ثبوت یا گواہ موجود نہیں۔
عمران خان نے جے آئی ٹی کو بتایا کسی الزام کا کوئی ثبوت یا شواہد نہیں ہیں، انہوں نے سوال کےجواب میں کہا کہ حساس ادارے کے سربراہ کی پریس کانفرنس پر ان پر الزامات لگائے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے جے آئی ٹی کے سوال پرکہا کہ حساس ادارے کے سینئر افسر سے کبھی ملاقات نہیں کی۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے جے آئی ٹی نے پوچھا ڈرٹی ہیری کسےکہتے ہیں اس پر عمران خان نے بتایا کہ عسکری حساس ادارےکے سینئر افسرکو ڈرٹی ہیری کہتا ہوں۔چیئرمین پی ٹی آئی نے جے آئی ٹی کو کہا کہ تمام ویڈیو کلپ کی ذمہ داری قبول کرتاہوں چئیرمین پی ٹی آئی نے جے آئی ٹی سے کہا کہ اپنے تما م کلپس کو مانتا ہوں اب جانا چاہتا ہوں۔ جے آئی ٹی کی تمام کارروائی دستاویزی طور پر قلم بند کی گئی۔ جس کے بعد جےآئی ٹی حکام نے تمام سوالات اور ان کے جوابات پرچیئرمین تحریک انصاف سے دستخط کرائے۔۔
خیال رہے کہ فوجی افسر فیصل نصیر کو میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی جس کے بعد وہ اگست میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی میں تعینات ہوئے تھے۔وہ آئی ایس آئی کے انٹرنل ونگ جسے عام طور پر ’پولیٹیکل ونگ‘ یا صرف ’سی‘ بھی کہا جاتا ہے، کی سربراہی کر رہے ہیں۔ اس عہدے کو عام طور پر ’ڈی جی سی‘ کہا جاتا ہے۔
میجر جنرل فیصل نصیر نے فوج کی پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ اپنے کیریئر کے ابتدائی حصے میں ہی وہ کور آف ملٹری انٹیلیجنس میں چلے گئے جس کے بعد ان کا کیریئر انٹیلجنس اسائنمنٹس تک رہا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان سے متعلق زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ وہ اپنے کیریئر کے دوران شورش زدہ علاقوں میں تعینات رہے اور اہم انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کا حصہ رہے ہیں۔ انھوں نے گذشتہ دو دہائیوں کے دوران انتہائی مطلوب دہشتگردوں کو گرفتار کیا یا کیفر کردار تک پہنچایا۔وہ اپنے کیرئیر کے دوران بلوچستان اور سندھ میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے لیے بھی شہرت رکھتے ہیں۔انہیں اب تک تمغہ بسالت اور بہادری کے دیگر اعزازات کے علاوہ ایڈمنسٹریٹو اعزازات بھی دیے جا چکے ہیں۔
