عمران خان کے حمایتی اینکرز ایک دوراہے پر کیوں کھڑے ہیں؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے مابین بیانیے کی جنگ کا شکار ہونے والے صحافی ارشد شریف کے قتل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے عمران کے سر سے دست شفقت ہٹائے جانے کے بعد ارشد جیسے بہت سارے اینکر حضرات اب بھی ایک دوراہے پر کھڑے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے ماضی کے مشترکہ بیانیے پر یقین کرنے والے کچھ اینکرز تو حسب سابق نئے بیانیے کے ساتھ چل پڑے لیکن بعض نے آنکھیں دکھانا شروع کر دیں۔ ان میں بعض کے مالی مفادات بھی عمران سے وابستہ تھے چنانچہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے سامنے اسی طرح کھڑے ہوگئے جیسے عمران خان کھڑے ہوئے اور یہی وہ المیہ ہے جس سے اس وقت پاکستانی میڈیا دوچار ہے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ میڈیا صرف اینکرز کا نام نہیں۔ جب ہم میڈیا کی بات کرتے ہیں تو اس میں مالکان، ایڈیٹرز، رپورٹرز، کیمرہ مین اور ٹیکنیکل سٹاف سب شامل ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ان میں کوئی مجرم ہیں تو سب سے زیادہ مالکان ہیں جنہوں نے اسٹیبلشمنٹ، عمران خان یا نواز شریف کی خاطر میڈیا کو تقسیم کیا۔دوسرے نمبر پر اینکرز ذمہ دار ہیں، خاص طور پر وہ جو اسٹیبلشمنٹ، یا کسی جماعت کے آلہ کار بن گئے، بدقسمتی سے گزشتہ آٹھ دس سال میں الیکٹرانک میڈیا کو اسٹیبلشمنٹ نے سیاسی انجینرنگ کیلئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ جنہوں نے میڈیا کو استعمال کیا ، وہ تو پردے کے پیچھے رہے لیکن ان اینکرز نے تو عوام کے سامنے سٹینڈ لیا تھا۔ وہ اگر اسٹیبلشمنٹ اور عمران کی آنکھوں کے تارے بنے تھے تو ایسا کرتے ہوئے انہوں نے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ، پی ٹی ایم ،اور قوم پرست جماعتوں کو اپنا دشمن بھی بنا لیا۔

ان احمق اینکرز نے اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدانوں کی لڑائی میں فریق بن کر اپنے ساتھی میڈیا پرسنز اور مالکان کو غدار، انڈین ایجنٹ، امریکی ایجنٹ اور نہ جانے کن کن فتووں سے نوازا۔ اب جب عمران نے اسٹیبلشمنٹ کو مجبور کر دیا کہ وہ اپنا پرانا نواز اور زردری مخالف بیانیہ بدلے اور پی ٹی آئی کی سرپرستی سے ہاتھ اٹھا لے تو یہ اینکر حضرات ایک دوراہے پر آ کر کھڑے ہو گئے۔انہیں مسئلہ یہ درپیش ہے کہ وہ ماضی کے بیانیے پر یقین کریں یا نئے بیانیے کے ساتھ چلیں، یہی وہ المیہ ہے جس سے اس وقت پاکستانی میڈیا دوچار ہے۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ گزشتہ پندرہ بیس سال میں اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے اتحاد کے خلاف آواز بلند کرنے والے مالکان اور اینکرز نے بڑی سختیاں برداشت کیں لیکن سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ رپورٹرز اس دوران کئی آزمائش سے دوچار رہے جو میڈیا کا سب سے اہم جزو ہیں اور جن کی تنخواہیں اور سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہی رپورٹرز اکثر جگہوں پر شہید ہوتے ہیں لیکن نہ تو اہل صحافت اور نہ ہی اہل سیاست ان کے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔ نہ تو شہید ہونے والے کسی رپورٹر کے قاتل پکڑے گئے اور نہ کسی کے قتل کے لئے عدالتی کمیشن بنے۔ نہ تو کسی نے ان کے یتیم بچوں کا پوچھا اور نہ کسی نے ان کی برسیاں منائیں۔ذرا ملاحظہ کیجئے کہ گزشتہ برسوں میں کتنے صحافی حملوں کا نشانہ بنے۔ کتنے قتل ہوئے اور پھر خود ہی فیصلہ کر لیجئے کہ میڈیا ظالم ہے یا مظلوم ؟۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ میں 2006 سے پیچھے نہیں جاتا۔11 نومبر 2006ء میں شمالی وزیرستان میں حیات اللہ خان قتل ہوئے جس کے کچھ عرصہ بعد کیس کی پیروی پر انکی اہلیہ کو بھی قتل کردیا گیا۔ 23 نومبر 2007ءکو زبیر احمد مجاہد اور 9 فروری 2008ء کو عبدالصمد چشتی مجاہد مارے گئے۔ 22مئی 2008ء کو باجوڑ میں محمد ابراہیم، 3 نومبر 2008 کو عبدالرزاق جوہڑہ اور 8 نومبر 2008 کو ہی قاری محمد ابراہیم مارے گئے۔

26 مارچ 2009 کو راجہ اسد حمید اور 14 اگست 2009ء کو صدیق باچا مارے گئے ۔صرف دس دن بعد یعنی 24 اگست کو پاکستانی سرزمین پر ایک افغان صحافی اور ہمارے دوست جان اللّٰہ ہاشم زادہ مارے گئے، 17فروری 2010 کو عاشق علی منگی، 28 مئی 2010ء کو اعجاز الحق، 27 جون کو فیض محمد خان اور 14 ستمبر 2010 کو مصری خان قتل ہوئے۔ اسکے دو دن بعد 16 ستمبر کو عبدالحمید عرف لالہ حمید بلوچ مارے گئے۔ 6 دسمبر 2010ء وہ منحوس دن تھا کہ ایک دن میں تین صحافی یعنی پرویز خان، الطاف چانڈیو اور عبد الوہاب قتل کئے گئے۔

اسکے چار دن بعد محمد خان ساسولی قتل کئے گئے ۔18 فروری 2011ء کو بلوچستان میں ابدوست رند مارے گئے اور 10 مئی 2011ء کو ہمارے ایک اور دوست نصراللہ آفریدی قتل کئے گئے ۔ 14اگست 2011ء کو یوم آزادی کے دن منیر شاکر اور 7 اکتوبر 2011ء کو فیصل قریشی نامی صحافی قتل ہوئے۔ 2012 کے سال کا آغاز ایک صحافی کے قتل سے ہوا اور جنوری کے مہینے میں ہمارے ایک اور عزیز دوست مکرم خان عاطف قتل کئے گئے۔ 19 اپریل کو مرتضی رضوی، 5 مئی کو طارق کمال، 11 مئی کو اورنگزیب تونیو، 19 مئی کو عبدالرزاق گل، 28 مئی کو عبدالقادر حجازی، 29 مئی کو عبدالخالق عرف عبدالحق بلوچ، 7 اکتوبر کو مشتاق خان، 18 نومبر کو رحمت اللہ عابد اور 22 نومبر کو ثاقب خان مقتولین کے اس قافلے میں شامل کر دیئے گئے۔

سلیم صافی بتاتے ہیں کہ 2013 میں سیف الرحمان، محمد اقبال، محمود جان آفریدی ، احمد علی جویا، عبدالرزاق بلوچ اور ایوب خان خٹک قتل کئے گئے۔2014 میں وقاص عزیز خان، خالد خان اور ارشد یوسف کو زندگی سے محروم کر دیا گیا۔2015 میں آفتاب عالم، حفیظ الرحمان اور محمد عمر مارے گئے۔
2016 میں خرم ذکی، شہزاد احمد اور محمود خان کے بچوں کو یتیم کیا گیا۔ 2017 میں محمد جان کے قتل سے سلسلہ شروع ہوا اور تیمور عباس، بخشش الٰہی سے ہوتا ہوا ہارون خان پر اختتام پذیر ہوا۔ اسکے بعد مارچ 2018 میں انجم منیر اور عابد حسین قتل ہوئے۔پھر عمران خان کا دور شروع ہوا جس میں یہ سلسلہ تیز ہوگیا۔ ان کے دور حکومت میں سہیل خان اور نورالحسن قتل ہوئے۔2019 میں ملک امان اللہ، علی شیر راجپر، مرزا وسیم بیگ اور عروج اقبال قتل ہوئے۔ 2020 میں عزیز میمن، جاوید اللہ خان، ذوالفقار مندرانی، انور جان اور ایک خاتون صحافی شاہینہ شاہین زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔
2021ء میں اجے لاوانی، کاشف انور انصاری، شاہد نظیر اور محمد زادہ آگرہ قتل ہوئے۔ 2022ء میں ضیا الرحمان فارقی، افتخار احمد، اور محمد یونس قتل کئے گئے اور اب ارشد شریف شہید اس قافلے میں شامل ہوگئے ہیں۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ صحافیوں کو دھمکیاں دینے، انہیں چینلوں اور اخبارات سے نکالنے اور نامعلوم افراد کی کالوں کا سلسلہ عمران خان کے دور حکومت میں زوروں پر رہا۔ اس دوران مطیع اللہ جان کو اغوا اور اسد طور کو زودکوب کیا گیا۔ ابصار عالم پر گولیاں چلیں۔ کئی صحافی گرفتار ہوئے، میرے گھر پر حملہ ہوا۔ جبکہ مرد تو کیا خواتین اینکرز سے بھی سرکاری سرپرستی میں گالم گلوچ کا سلسلہ زوروں پر رہا۔

جتنے لوگوں کا میں نے ذکر کیا ہے ان میں سے صرف دو صحافیوں یعنی عبدالرزاق جوہڑہ اور ولی خان بابر کے قاتلوں کا پتہ چل سکا۔ سب سے ہائی پروفائل کیس حامد میر پر 2014 میں کراچی میں ہونے والے قاتلانہ حملے کا تھا جس کا الزام تب کے آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام پر عائد کیا گیا تھا۔ اس حملے کی عدالتی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے دو ججز پر مشتمل ہائی پروفائل کمیشن بنایا گیا تھا لیکن آج تک اس کمیشن کی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔اسی طرح 2011 میں شہید کیے جانے والے صحافی سلیم شہزاد کے قاتلوں کا بھی سراغ نہ لگ سکا جنہیں اسلام آباد سے اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا تھا اور اور الزام تب کے آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا پر عائد کیا گیا تھا۔

سلیم صافی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحافی مرتے رہے لیکن حکمران خاموش رہے عمران نے نہ تو کبھی شہید ہونے والے صحافیوں کی تصویریں اٹھائیں اور نہ ہی کوئی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لانے کی ہمت کرسکے۔یہ ہمت اہنے دور حکومت میں نواز شریف بھی نہ کرسکے۔ اللہ کرے کہ ارشد شریف شہید کا معاملہ منطقی انجام تک پہنچے لیکن ماضی کا سبق یہی ہے کہ چند روز تک ان کی لاش پر سیاست ہو گی اور پھر انہیں اسی طرح بھلا دیا جائیگا جس طرح ماضی میں مارے جانے والوں کو بھلا دیا گیا ہے۔

Back to top button