عمران کا اصل مسئلہ اپنی مرضی کا آرمی چیف لگوانا ہے

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ عمران خان کا اصل جھگڑا اپنی مرضی کا آرمی چیف لگوانے کیلئے ہے کیونکہ وہ اپنے دور حکومت میں چوکیدار کو چوکیداری کی بجائے اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کیلئے استعمال کرتے رہے ہیں اور آگے بھی ایسا ہی کرنا چاہتے ہیں، جیو نیوز پر شاہزیب خانزادہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ عمران کے لانگ مارچ کا بنیادی مقصد اپنی مرضی کے آرمی چیف کی تقرری کے لیے دباؤ ڈالنا ہے کیونکہ ان کا سارا سیاسی کیریئر فوجی حمایت کا مرہون منت رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج عمران اپنے جلسوں میں سوال کرتے ہیں کہ کیا چوکیدار کو نیوٹرل رہنے کی اجازت ہونی چاہئے، لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ اپنے دور اقتدار میں موصوف چوکیدار کو اپنی سیاسی میٹنگز میں لے جاتے تھے اور مزاحمت کے باوجود اصرار کرتے تھے کہ آپ میرے میڈیا ترجمانوں کو سیاسی لائن دیں۔ حامد میر کے بقول پی ٹی آئی کے ایک ترجمان نے مجھے بتایا کہ عمران خان ایک فوجی افسر کو زبردستی ترجمانوں کے اجلاس میں لاتے اور اصرار کر کے خطاب کرواتے تھے۔
حامد میر نے کہا کہ عمران اپنے دور میں چوکیدار کو چوکیداری نہیں کرنے دے رہے تھے بلکہ مسلسل سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کر رہے تھے، عمران خان نے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹینینٹ جنرل ندیم انجم کو اپوزیشن کو اندر کرنے کیلئے کہا، لیکن جب جنرل ندیم نے کہا کہ مجھے لکھ کر احکامات جاری کریں تو بھاگ گئے کہ لکھ کر نہیں دوں گا، پھر عمران نے جنرل باجوہ کو کہا کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ والے سب چور ڈاکو ہیں لہذا ان کو اندر کروا دیں، اس پر آرمی چیف نے جواب دیا کہ یہ میرا کام نہیں ہے لیکن پھر بھی اگر آپ یہ کام مجھ سے کروانا چاہتے ہیں تو وزیر اعظم کی کرسی پر مجھے بٹھا دیں۔
حامد میر کہتے ہیں کہ چنانچہ اس کے بعد عمران نے فیصلہ کرلیا کہ جنرل باجوہ کو بطور آرمی چیف مدت پوری نہیں کرنے دیں گے، عمران نے آرمی چیف کو اتنا زچ کیا کہ انہوں نے خود اپنا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا، لیکن جب جنرل باجوہ نے وزیراعظم ہاؤس کو اپنے ارادے سے آگاہ کیا تو عمران نے بالآخر تب کے ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے تبادلے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جو انہوں نے کم از کم پانچ ہفتے روکے رکھا۔
حامد میر نے ایک اور واقعہ بتاتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے صحافیوں سے ملاقات میں کہا میری حکومت کو بلا تنقید چھ مہینے دیدیں، اس کے بعد آپ لوگ تنقید کریں، لیکن میں نے عمران کی بات نہیں مانی اور کچھ سوالات اٹھا دیئے، بعد ازاں مجھے ایک سینئر فوجی افسر نے کہا کہ ہمیں خان صاحب نے آپکو سمجھانے کیلئے کہا ہے، پلیز آپ انہیں چھ ماہ دیدیں اور تنقید نہ کریں۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ اب جبکہ فوج خود کہہ رہی ہے کہ ہمیں سیاست سے دور رکھیں تو سیاستدانوں کو بھی انہیں سیاست میں گھسیٹنے سے گریز کرنا چاہئے۔ ایک سوال کے جواب میں حامد میر نے کہا کہ عمران خان لانگ مارچ طویل کر کے اسلام آباد میں بیٹھے لوگوں کو تھکارہے ہیں، عمران جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ کرنے کی پوری کوشش بھی کریں گے، اللہ کرے کہ لانگ مارچ میں تشدد نہ ہو اور یہ خونریزی سے بچا رہے، لیکن مجھے ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شاہزیب خانزادہ نے کہا کہ عمران خونی لانگ مارچ کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں اور ساتھ میں اسٹیبلشمنٹ کو اللہ کے واسطے بھی دے رہے ہیں کہ ان کی بات سنی جائے۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کو خبردار بھی کر رہے ہیں کہ چوروں کے ساتھ کھڑی نہ ہو اور ساتھ میں یہ الزام بھی لگا رہے ہیں کہ سزا اور جزا کے فیصلے عدالتیں نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ بند کمروں میں کر کے قوم پر مسلط کر دیتی ہے۔
