عمران نے اپنا امریکی سازش اورامپورٹڈ حکومت کا بیانیہ کیسے ادھیڑا؟

امریکہ سے دوبارہ دوستی کی کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف سابق وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں موجودہ امریکی سفیر دونلڈ بلوم اور سابقہ امریکی سفیر رابن رافیل سے میل ملاپ کے بعد واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ان کی امریکہ سے کوئی دشمنی نہیں اور نہ ہی وہ امریکہ مخالف ہیں۔ یوں خان صاحب نے شہباز حکومت کا یہ موقف درست ثابت کردیا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے لیے کسی قسم کی کوئی امریکی سازش نہیں کی گئی تھی اور موجودہ حکومت بھی امپورٹڈ نہیں ہے۔ یاد رہے کہ عمران اپریل 2020 سے یہی ڈھول پیٹ رہے تھے کہ ان کی حکومت کو ایک امریکی سازش کے نتیجے میں گرایا گیا اور یہ کہ نئی حکومت امپورٹڈ ہے۔ پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ اور موجودہ حکومت نے بار بار اس الزام کی نفی کی تھی اور اب عمران خان نے خود بھی اپنے پرانے دعوے سے یو ٹرن لیتے ہوئے امریکہ سے پیار کی پینگیں بڑھانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ پچھلے ماہ عمران نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی رہائش گاہ سے ویڈیو لنک پر پاکستان میں امریکی سفیر دونلڈ بلوم سے تفصیلی بات چیت کی تھی اور گلے شکوے بھی کیے تھے۔ حالانکہ اس گفتگو کا ایجنڈا خفیہ رکھا گیا تھا لیکن عمومی تاثر یہی تھا کہ یہ رابطہ عمران خان کی خواہش پر ہوا تھا جس میں عمران نے باہمی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے پر زور دیا۔ اب یہ خبر سامنے آئی ہے کہ امریکی سی آئی اے کی تجزیہ کار، سابق سفارت کار اور لابئسٹ رابن رافیل نے اگلے روز عمران خان سے ان کی بنی گالہ رہائش گاہ پر تفصیلی ملاقات کی جسے خفیہ رکھا گیا۔ لیکن پچھلے ہفتے اسلام آباد میں امریکی ایمبیسی میں امریکی سفیر سے خفیہ ملاقات کرنے والے فواد چوہدری نے عمران کی رابن رافیل سے ملاقات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ میٹنگ تین برس پہلے ہوئی تھی جسے جیو ٹی وی نے حالیہ ملاقات قرار دے دیا ہے۔ دوسری جانب عمران خان نے کامران خان کو انٹرویو دیتے ہوئے فواد کو تب جھوٹا کر دیا جب انہوں نے رابن رافیل سے ملاقات کی تصدیق کی اور کہا کہ میں رابن کو پرانا جانتا ہوں، لیکن وہ امریکی حکومت کی نمائندہ نہیں بلکہ ایک تھنک ٹینک کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ عمران نے کہا کہ امریکا کے ساتھ ہمارے لازمی ٹھیک تعلقات ہونے چاہئیں، خان صاحب نے یہ بھی کہا کہ میری امریکا سے کوئی ٹینشن یا دشمنی نہیں، لیکن باہمی تعلقات میں مسائل آتے ہیں، اور حل ہو بھی جاتے ہیں، اسکا مطلب یہ نہیں کہ ہماری کُٹی ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے ماضی میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کیساتھ بہت اچھے تعلقات رہے ہیں اور میں آئندہ بھی امریکہ سے اچھے تعلقات رکھنا چاہوں گا۔
اس سے پہلے اپریل 2022 سے عمران خان اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک کو ’امریکی سازش‘ کا شاخسانہ قرار دیتے رہے حالانکہ قومی سلامتی کمیٹی اپنے آخری اجلاس میں کسی قسم کی سازش کی موجودگی کو یکسر مسترد کر چکی تھی۔تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے سے چند روز قبل یعنی 27 مارچ کو اسلام آباد میں ایک جلسہ عام میں ایک سازشی خط کو لہرانے کے بعد سے اب تک وہ اس حوالے سے نہایت جذباتی اور غصیلی تقریریں کرتے رہے ہیں۔ لیکن مختلف کیسز میں پھنس کر اپنی نااہلی کا شک پڑنے کے بعد عمران نے امریکہ اور فوجی قیادت دونوں سے تعلقات بہتر بنانے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان آرمی اور امریکی انتظامیہ ہمیشہ مل جل کر چلتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق عمران سے پاکستان میں سابقہ امریکی سفیر رابن رافیل کی ملاقات بنی گالا میں ہوئی جس میں سینیٹر شہزاد وسیم بھی موجود تھے۔ رابن رافیل اس وقت امریکی سی آئی اے کی تجزیہ کار اور لابئسٹ ہیں۔ وہ 1993 میں اسسٹنٹ امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ برائے جنوبی وسطی ایشیائی امور بھی رہ چکی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان ہنگامی بنیادوں پر امریکہ اور فوج کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور یہ ملاقات بھی انہی کوششوں کا حصہ تھی۔ باخبر ذرائع کے مطابق عمران خان کے قریبی ساتھی فواد چوہدری بھی 4 ستمبر کو موجودہ امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے ملاقات کر چکے ہیں۔
ان خفیہ ملاقاتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ خان صاحب پاکستانی عوام کو امریکی غلامی سے حقیقی آزادی دلوانے کے لیے اپنے جلسوں میں امریکہ پر حملہ کرتے ہیں لیکن تنہائی میں امریکیوں کو خوش کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ ظاہر ہے ان کے لیے ایسا کرنا جائز ہے کیونکہ وہ یوٹرن لینے کو عظیم لیڈر کی نشانی قرار دیتے ہیں۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ رابن رافیل محض سفارتکار ہی نہیں بلکہ انکی شخصیت کے کچھ متنازعہ پہلو بھی ہیں، یاد رہے کہ 80 کی دہائی میں پاکستان میں متعین امریکی سفیر آرنلڈ لوئیس رافیل کی بیوہ ہیں جو 17 اگست 1988 کو جنرل ضیاء الحق کے طیارے کو بہاول پور میں پیش آنے والے حادثے میں لقمہ اجل بن گئے تھے۔
سینئر سفارتکار کی حیثیت سے ان کی اہلیہ پاکستان کے امور کی ماہر سمجھی جاتی ہیں۔ وہ پاکستان کیلئے امریکہ کے غیر فوجی ترقیاتی پروگراموں کی رابطہ کار بھی رہ چکی ہیں اور پاکستان اور افغانستان میں امریکہ کے خصوصی نمائندے کیلئے پاکستانی امور کی مشیر بھی۔ تجزیہ کار عمران خان کی امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے ویڈیو کانفرنس اور رابن رافیل سے ملاقات کو ایک بڑا یوٹرن قرار دیتے ہیں جس نے ان کے امریکی سازش کے بیانیے کی بھی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں۔
