عمران نے اگلے پچھلے تمام آرمی چیفس کو متنازعہ کیسے بنا دیا؟

عمران خان کی جانب سے نواز شریف اور آصف زرداری کو نیا آرمی چیف تعینات کرنے سے روکنے کے مطالبے پر سینئر صحافی سلیم صافی نے کہا ہے کہ اگر خان صاحب کے فرمودات کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر تو جنرل آصف نواز، جنرل وحید کاکڑ، جنرل جہانگیر کرامت، جنرل پرویز مشرف، جنرل اشفاق کیانی، جنرل راحیل شریف اور جنرل قمر باجوہ بھی غیر محب وطن جرنیل قرار پاتے ہیں کیونکہ ان سب کا تقرر بھی نوازشریف اور آصف زرداری نے ہی کیا تھا۔ ایسے میں کیا عمرانی کلیے کے مطابق یہ جرنیل غیر محبِ وطن یا کرپشن کی سرپرستی کرنے والے قرار پاتے ہیں؟
اپنے تازہ تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ اس وقت نصف پاکستان پانی میں ڈوبا ہوا ہے اور سیلاب سے متاثر ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے علاوہ پاکستانی فوج ریسکیو کے کاموں میں بھی مصروف ہے، اس آفت کے آغاز میں سدرن کمانڈ کے کمانڈر جنرل سرفراز کئی دیگر افسروں کے ساتھ سیلاب زدگان کے لیے امدادی سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرگئے۔
ہمارے اس عظیم کمانڈر کی شہادت کو جس طرح عمران خان نیازی نے غلیظ سیاسی پروپیگنڈے کی نذر کرنے کی کوشش کی اس پر سپاہی سے لے کر جنرل تک سب کے دل دُکھے۔ اب جب عمران ہر روز فوج سے متعلق کوئی نہ کوئی نیا تنازعہ کھڑا کرتے ہیں تو سیلاب زدگان کی مدد میں مصروف ان سپاہیوں اور افسروں کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہیں کیونکہ اس وقت ان باتوں کی کوئی ضرورت بھی نہیں۔ مثلاً آرمی چیف کی تقرری کا مرحلہ فی الحال تین ماہ دور ہے لیکن انتخابی جلسوں میں عمران ایسے بیان دے رہے ہیں کہ جنکی وجہ سے فوج کی موجودہ، سابقہ اور آنے والی قیادت بارے غیرضروری بحث شروع ہو گئی ہے۔ عمران کے ان غیر ضروری ریمارکس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ جیسے آزادیٔ اظہار کے حامی جج کو بھی مجبوراً یہ کہنا پڑا کہ عمران کے ان بیانات سے فوج کا مورال بھی گرتا ہے۔ دوسری طرف تمام افواج کی ترجمانی کرنے والے آئی ایس پی آر کو یہ بیان جاری کرنا پڑا کہ عمران کے بیان کی وجہ سے افواج پاکستان کی صفوں میں غم وغصہ پایا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ عمران خان نے اپنے فیصل آباد جلسے میں کہا تھا کہ نواز شریف اور آصف زرداری اپنی مرضی کا آرمی چیف لگانا چاہتے ہیں تاکہ وہ ان کی کرپشن اور چوریوں کا حساب نہ لے سکے۔ اس بارے صافی کہتے ہیں کہ عمران نے یہ تاثر دیا کہ آرمی چیف بننے کے اہل جرنیلوں میں کوئی غیر محبِ وطن بھی شامل ہوسکتا ہے۔ اسکے بعد خان صاحب نے پشاور کے جلسے میں واضح الفاظ میں یہ اعلان بھی کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں نواز شریف اور آصف زرداری کو نیا آرمی چیف نہیں لگانے دیں گے۔ دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ آصف زرداری، نواز شریف یا وزیراعظم شہباز شریف موجودہ سینئیر ترین تھری اسٹار جرنیلوں کے علاوہ کسی کو آرمی چیف نہیں بنا سکتے۔ اب یہ تو ظاہر ہے کہ آنے والے آرمی چیف کے لئے حسبِ روایت چند نام موجودہ آرمی چیف بھیجیں گے اور وزیراعظم ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں گے۔ یوں عمران نے موجودہ ہی نہیں بلکہ آنے والے آرمی چیف کو بھی متنازعہ بنانا شروع کر دیا ہے، حالانکہ تقرر کوئی بھی کرے لیکن تقرری کے بعد وہ فوج کا چیف ہوتا ہے۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ آئینی اور اصولی طور پر تو آرمی چیف کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے لیکن اگر عمرانی کلیے کو صحیح مان لیا جائے تو بھی ان کی گفتگو خرافات کے سوا کچھ نہیں۔ مثلاً جنرل ضیا کا تقرر بھٹو نے کیا اور پھران کے دور میں ہی ان کو ایک جھوٹے قتل کیس میں پھانسی ہوئی۔ جنرل مشرف کا تقرر نواز شریف نے کیا تھا اور اسی مشرف نے انہیں اقتدار سے باہر نکال کر مارشل لا لگا دیا۔ جنرل آصف نواز، جنرل وحید کاکڑ، جنرل جہانگیر کرامت، جنرل پرویز مشرف، جنرل اشفاق کیانی، جنرل راحیل شریف اور جنرل قمر باجوہ، یہ سب وہ آرمی چیفس ہیں جن کا تقرر مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی کے وزرائے اعظم نے کیا۔
لہٰذا ایسے میں کیا عمرانی کلیے کے مطابق یہ جرنیل غیرمحبِ وطن یا کرپشن کی سرپرستی کرنے والے تھے؟ حالانکہ آرمی چیف صرف اپنے فوج کا چیف ہوا کرتا ہے ۔ جنرل راحیل شریف کا انتخاب نواز شریف نے کیا تھا لیکن ان کے دور میں ان کی حکومت کے خلاف دھرنے ہوئے اور اسی دور میں آئی ایس آئی پی ٹی آئی کی سرپرستی کرتی رہی۔ اسی طرح جنرل قمر جاوید باجوہ کا انتخاب نواز شریف نے کیا تھا لیکن ان کے دور میں نواز شریف حکومت سے محروم ہوئے اور عمران نیازی نہ صرف وزیراعظم بنے بلکہ تاریخ کے وہ وزیراعظم رہے جن کی فوج نے سب سے زیادہ مدد کی۔ آخری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر پاکستانی خواہ وہ سویلین ہو یا فوجی، محبِ وطن ہے ۔ کسی فوجی کی حب الوطنی سے متعلق کوئی سوال اس لئے نہیں اٹھایا جاسکتا کیونکہ اس نے ملک کی خاطر جان قربان کرنے کی قسم کھائی ہوتی ہے۔ فوج میں جو لوگ ہر معیار پر بہترین قرار پاتے ہیں، وہ تھری اسٹار بنتے ہیں اور ہر تھری اسٹار آرمی چیف بننے کا اہل ہوتا ہے۔ یوں ان میں حب الوطنی اور کرپشن کی بنیاد پر تفریق کرنا قبیح ترین عمل ہے۔
فوج اگر سیاست، عدالت، صحافت یا حکومت کے معاملات میں نیوٹرل نہیں رہتی تو وہ اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتی ہے اور یہاں تنقید نہ صرف جائز بلکہ فرض بن جاتی ہے لیکن عمران خان کی تنقید کی بنیاد یہ ہے کہ فوج آئینی رول تک محدود ہوکر نیوٹرل کیوں بنی؟ انہوں نےجب فوجی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ ماضی کی طرح ان کے حق میں غیرآئینی کردار ادا کرے تو انہیں جواب ملا کہ وہ نیوٹرل رہیں گے۔ اب بھی انہوں نے کرپشن کے حوالے سے آرمی چیف کا ذکر کیا ہے حالانکہ ازروئے آئین کرپشن پر پکڑ کرنا فوج کا نہیں بلکہ نیب اور عدالتوں کا کام ہے۔ اس حوالے سے اگر فوج مداخلت کرتی ہے تو آئین شکنی کی مرتکب ہوتی ہے۔ اب بھی نیازی صاحب فوج کے ادارے پر تنقید اس لئے کررہے ہیں کہ وہ اپنے آئینی دائرے سے نکل کر ان کے حق میں غیر آئینی کردار ادا کرے جب کہ ہماری تنقید کی بنیاد یہ تھی کہ سیاست، صحافت اور پارلیمنٹ میں مداخلت فوج کا کام نہیں۔
