ریڈ لائن کراس کرنے پر عمران کو بھیانک نتیجہ بھگتنا پڑ سکتا ہے

سینئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ دو بڑی جماعتوں کو ناکام قرار دینے کے بعد عمران خان کی زیر قیادت جو تیسری جماعت اقتدار میں لائی گئی اس کا تبدیلی کا نعرہ بھی صرف ایک ڈھکوسلہ ہی ثابت ہوا، اور اس نے نااہلی اور ناکامی کی ایک نئی تاریخ رقم کی، لیکن اب عوام کو مزید ماموں بنانے کے لیے تبدیلی کی بجائے ’حقیقی آزادی‘ کا نیا نعرہ بلند کیا جا رہا ہے، جسکے موجد خان صاحب فوج پر حملہ آور ہو کر ریڈ لائن کراس کر رہے ہیں، تاہم اس غیر ذمہ دارانہ رویے کا بھیانک نتیجہ سامنے آ سکتا ہے۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں مظہر عباس کہتے ہیں کہ پچھلے پانچ ماہ سے عمران مقبولیت کے عروج پر ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا اقتدار حاصل کرنے کے لیے محض عوامی طاقت ہی کافی ہوتی ہے؟ مظہر عباس کہتے ہیں کہ خان صاحب ایسا خواب نہ دیکھیں جس کی تعبیر بھیانک ہو۔ ہم اب خوابوں کی دنیا سے باہر نکل کر دیکھیں، قوم سیلاب میں ڈوبی ہوئی ہے اور لوگوں کے لیے اپنی جان بچانا مشکل ہو رہا ہے، ایسے میں کیسی آزادی اور کیسی حقیقی آزادی کی جنگ؟
مظہر عباس کہتے ہیں کہ کچھ ’خواب‘ ہمارے بزرگوں نے دیکھے تھے ،ہماری نسل نے آنکھ کھولی تو اندازہ ہوا ’خواب اور حقیقت‘ میں کتنا فرق ہے۔ ویسے تو خواب خود ایک حقیقت ہے مگر ضروری نہیں اس کی تعبیر بھی ویسی ہی نکلے جو آپ نے سوچی ہو۔ آج بھی 75 سال بعد یہ نعرہ ہی بلند ہوتا ہے کہ ’’ہم بنائیں گے اقبال اور جناح کا پاکستان‘‘. لیکن سوال یہ یے کہ وہ پاکستان ہو گا کیسا؟ بنیادی اختلاف اسی سوال پر رہا ورنہ تو جناح نے 11 اگست 1947 کو آئین ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بنیادی نکات تو بتا ہی دیئے تھے۔ اس سے اختلاف رکھنے والوں نے نہ تو اس ملک میں آئین کی حکمرانی قائم کرنے دی نہ قانون کی بالادستی اور نہ ہی آزاد میڈیا کا تصور نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سارے ’خواب‘ جو ان نسلوں نے مذہبی، سیاسی اور معاشی آزادی کے دیکھے تھے، وہ ’خواب‘ ہی رہے۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ ویسے تو انگریزوں کے خلاف 1857 کی جنگِ آزادی بھی ایک خواب تھی جو سب نے متحد ہو کر لڑی پھر تضادات سامنے آئے تو برسوں بعد ایک آزاد ملک کا خواب دیکھا۔ بات حقوق سے تقسیم تک پہنچ گئی مگر پاکستان بنا تو ووٹ کی قوت سے۔ لاکھوں افراد اپنا گھر بار، زمینیں چھوڑ کر اپنے خوابوں کی تعبیر دیکھنے چلے آئے، نہ جانے کتنے گھرانے لٹ گئے تعداد لاکھوں میں ہے۔ ’خواب‘ تھا ایک فلاحی ریاست کا جہاں مذہبی، سیاسی اور معاشی آزادی ہو، تعلیم ہو، صحت کی بہتر سہولتیں ہوں اور کچھ نہیں تو پینے کا صاف پانی ہو مگر ہوا کیا، دو فی صد مراعات یافتہ طبقہ ایک طرف اور 98 فیصد دوسری طرف۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ یقین نہ آئے تو موجودہ سیلاب کی تباہ کاریاں دیکھ لیں۔ ہماری نسل نے ان ناانصافیوں کے خلاف لڑنے کا خواب دیکھا، آئین، قانون کی حکمرانی اور آزاد میڈیا کے لئے جدوجہد کی تو بس ’غدار‘ کہہ کر کبھی روسی ایجنٹ تو کبھی بھارتی ایجنٹ کہہ کر پابندِ سلاسل کر دیا اور اس سوچ پر ہی پابندی لگا دی۔ آج بھی یہ نکتہ بحث طلب ہے کہ ہم نے قیامِ پاکستان کے فوراً بعد انگریزوں کے تسلط سے نکل کر امریکہ کے تسلط میں جانے کا فیصلہ کیوں کیا؟ لیاقت علی خان کے دورۂ امریکہ کے بعد اور پہلے مارشل لا کے ساتھ ہی ہم ان کے اتحادی بن گئے۔ لہٰذا جب ہمارے آج کے ’قائدِ انقلاب‘ ایوب دور کی مثالیں دیتے تھکتے نہیں ہیں تو وہ ان حقیقتوں کو بھی سامنے رکھیں۔ ایوب دور کا خاتمہ ہوا تو انہوں نے اپنے ہی بنائے ہوئے ’دستور‘ کو ختم کر کے ملک کو ایک اور آمر جنرل یحییٰ خان کے سپرد کر دیا اور ایک بار پھر ’خواب‘ بکھرنے لگے۔ کچھ امید اس وقت بندھی کہ شاید اس بار تعبیر اچھی ہو جب 1970کے الیکشن کا اعلان ہوا۔ عوامی لیگ پہلے نمبر پر اور پی پی پی دوسرے نمبر پر آئی مگر ایک بار پھر بنگالیوں کے ساتھ وہی ہوا جو 50کی دہائی میں جگتو فرنٹ کے ساتھ ہوا۔ اس صورتحال کے ذمہ دار جنرل یحییٰ بھی تھے اور بھٹو بھی۔ پھر ایک نیا خواب دکھایا گیا روٹی، کپڑا اور مکان کا مگر وہ خواب بھی شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا۔ اس کے باوجود بھی لاکھوں لوگوں کو بیرون ملک نوکری کی سہولتوں کیلئے پاسپورٹ کی قیمت آدھی کر دی گئی۔ ہمارہ خارجہ پالیسی بھی غیر جانبدار رہی اور ملک کو متفقہ آئین کی صورت میں ایک سمت بھی ملی لیکن پھر ضیا نے مارشل لا نافذ کردیا اور بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔

عمران نے اگلے پچھلے تمام آرمی چیفس کو متنازعہ کیسے بنا دیا؟

مظہر عباس یاد دلاتے ہیں کہ 11 سال بدترین آمریت رہی اور بھٹو کے عدالتی قتل نے نفرتوں کو مزید ہوا دی۔ جنرل ضیاء کی آمریت کا خاتمہ ہوا تو لوگوں نے ایک نئے ’خواب‘ سے امید باندھ لی۔ ابھی جمہوریت کا سفر شروع ہی ہوا تھا کہ محلاتی سازشوں اور سیاست دانوں کی نااہلی نے ان امیدوں پر بھی پانی پھیر دیا۔ فوج کے ایما پر صدر کے ہاتھوں توڑی جانے والی نواز شریف اور بےنظیر بھٹو کی حکومتیں اچھی مثالیں قائم نہ کر سکیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان حکومتوں کا خاتمہ عوام کی قوت سے نہیں سازشوں سے ہوا۔ اس کے بعد 9 سال کیلئے ایک اور فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف اقتدار میں آیا اور ان دونوں کو ملک سے باہر کر کے انکی جماعتوں کو تقسیم کر دیا۔ اسی دوران اپنے زمانے کے کرکٹ ہیرو عمران خان کو عملی سیاست کے میدان میں اتارا گیا اور تحریک انصاف وجود میں آگئی۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی بظاہر ایک ردِعمل ہے دو جماعتوں کی ناکامی اور نااہلی کا۔ 2018 کے متنازع الیکشن کے بعد عمران خان کی تحریک انصاف کو اقتدار میں لایا گیا اور ’تبدیلی‘ کے نعرے پر عملدرآمد کے سہانے خواب دکھائے گئے۔ لیکن افسوس کہ پی ٹی آئی کا پونے چار سالہ دور حکومت ناکامیوں اور نااہلیوں سے عبارت رہا اور بالآخر خان صاحب اقتدار سے بے دخل ہو گا۔ مظہر عباس کہتے ہیں کہ اب عمران خان ایک دفعہ پھر میدان میں ہیں اور ان کا نیا نعرہ ’حقیقی آزادی‘ کا حصول ہے، لیکن یہ نعرہ بلند کرتے ہوئے وہ فوج کے خلاف جو ریڈ لائن کراس کر رہے ہیں اس کا بھیانک نتیجہ سامنے آ سکتا ہے۔

Back to top button