پنجاب کے ضمنی الیکشن لڑنے والے لیگی امیدوار پریشان کیوں ہیں؟

سابق وزیراعظم عمران خان کی بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت کے باعث اگلے چند ہفتوں میں پنجاب میں چھ نشستوں پر ہونے والے ضمنی الیکشن میں حصہ لینے والے مسلم لیگ ن کے امیدوار سخت پریشانی کا شکار ہیں کیونکہ ابھی تک مریم نواز شریف نے ان کے لیے انتخابی مہم کا آغاز نہیں کیا، پارٹی ذرائع کے مطابق لیگی امیدوار اس خوف میں مبتلا ہیں کہ اگر مریم نے ان کے حلقوں میں آ کر انتخابی جلسے نہ کیے تو پی ٹی آئی کے امیدواروں کو ہرانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہو جائے گا۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے اپنے جلسوں میں اپنائی گئی جارحانہ حکمت عملی کا فائدہ نہ صرف انہیں ہو رہا ہے بلکہ ضمنی الیکشن میں ان کے امیدواروں کو بھی ہو رہا ہے، ایسے میں مسلم لیگ (ن) کے پاس 6 قومی اور صوبائی نشستوں پر ضمنی انتخابات سے قبل انتخابی مہم کے لیے بظاہر اپنے قائد کی بیٹی اور پارٹی کی نائب صدر مریم نواز کی طرف رجوع کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں، یاد رہے کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 157 (ملتان) پر ضمنی انتخاب 11 ستمبر جبکہ این اے 108 (فیصل آباد) اور این اے 118 (ننکانہ صاحب) پر 25 ستمبر کو ہوگا، اسی طرح شیخوپورہ اور بہاولنگر کے صوبائی حلقوں میں 11 ستمبر کو ضمنی انتخابات ہوں گے، جبکہ پی پی 209 (خانیوال) میں پولنگ 2 اکتوبر کو ہوگی۔
خیال رہے کہ جولائی 2022 میں پنجاب اسمبلی کی 15 نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنے کے بعد نواز لیگ کو وزیراعلیٰ کے عہدے سے محروم ہونا پڑا جس کے باعث لیگی قیادت ان 6 حلقوں میں انتخابی مہم چلانے کے لیے بہت کم پرجوش دکھائی دیتی ہے۔ تب مریم نواز نے ان حلقوں میں جاکر جلسے کیے تھے اور لیگی امیدواروں کے لیے مہم چلائی تھی۔ چھ میں سے 5 نشستوں کے لیے انتخاب لڑنے والے ن لیگ کے امیدواروں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے حلقوں میں پارٹی کے کسی بڑے رہنما کی قیادت میں کوئی ‘عظیم الشان’ ریلی نہ کرنے پر قیادت سے ناخوش ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ عمران کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے ان کا پی ٹی آئی کے امیدواروں سے سخت مقابلہ ہونے جا رہا ہے لہٰذا انھیں اس وقت اپنی پارتی قیادت کی بھر پور حمایت کی ضرورت ہے۔
نواز لیگ کے اندرونی ذرائع نے بتایا کہ ‘امیدواروں کی شکایت پر، پارٹی کے قائد نواز شریف نے مریم نواز سے کہا ہے کہ وہ ضمنی انتخابات سے قبل کم از کم چند حلقوں میں جلسے ضرور کریں۔ یاد رہے کہ 17 جولائی کو پنجاب اسمبلی کی 20 نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے لیے متاثر کن ریلیوں اور جلسوں کا انعقاد کرنے والی مریم نواز نے ابھی تک اگلے چند ہفتوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں کسی دلچسپی کا اظہار نہیں کیا ہے۔ ذرائع نے کہا کہ اپنے والد کی ہدایت پر ان کا چند خاص حلقوں میں کچھ جلسے کرنے کا امکان ہے جبکہ سابق وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز بھی وطن واپس آ جانے کے باوجود منظر عام پر زیادہ متحرک نہیں۔
ریڈ لائن کراس کرنے پر عمران کو بھیانک نتیجہ بھگتنا پڑ سکتا ہے
پنجاب سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ ن کے ایک رہنما نے حیرت کا اظہار کیا کہ پارٹی قیادت نے ضمنی انتخابات بارے سنجیدگی کیوں نہیں دکھائی۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) یہ الیکشن ہارنے کی متحمل نہیں ہو سکتی کیونکہ اسکی شکست یہ ثابت کرے گی کہ عمران 13 جماعتی حکمران اتحاد سے زیادہ مضبوط اور مقبول ہے، انہوں نے کہا کہ تصور کریں، ایسے حالات میں، اگلے عام انتخابات میں پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ کون مانگے گا؟ اور قیادت پر زور دیا کہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں جیت کو یقینی بنانے میں صرف کریں۔
ذرائع نے یہ بھی کہا کہ پارٹی قیادت بظاہر مختلف مقدمات میں عدالتوں سے عمران کی نااہلی پر یقین رکھتی ہے، جس کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی کے دیگر امیدواروں پر بھی اثر پڑے گا۔ پنجاب میں قومی اسمبلی کی تین نشستوں پر معزول وزیر اعظم عمران ان دو (فیصل آباد اور ننکانہ صاحب) پر الیکشن لڑ رہے ہیں جو قومی اسمبلی کے اسپیکر کی جانب سے پی ٹی آئی کے ایم این ایز کے استعفوں کی منظوری کے بعد خالی ہوئی تھیں۔ این اے 157 ملتان سے پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے حکمران اتحاد کے امیدوار علی موسیٰ گیلانی کے مقابلے میں اپنی بیٹی مہر بانو قریشی کو میدان میں اتارا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ گیلانی خاندان چاہتا ہے کہ مریم نواز 11 ستمبر کے ضمنی انتخاب سے قبل اس حلقے میں جلسہ کریں حالانکہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے اس سلسلے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا ہے۔
