عمران کو بنانے والوں کو کیوں شرم سے ڈوب مرنا چاہئے؟

عمران دور حکومت میں ایک قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہونے والے سینئر صحافی ابصار عالم نے کہا ہے کہ عمران خان نے اپنی زبان درازی سے اس وقت ملک کے جو حالات کر دیئے ہیں، ان پر اسے بنانے اور اقتدار دلوانے والوں کو شرم سے چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہئے، انہوں نے کہا کہ اگر اسے بنانے والے یہی تبدیلی لانا چاہتے تھے تو پھر کھلے بازوؤں سے عمران خان کو قبول کریں۔
نیا دور ٹی وی کے پروگرام ’’خبر سے آگے‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ابصار عالم کا کہنا تھا کہ عمران خان نے پشاور کے جلسے میں ایک مرتبہ پھر فوج کا رگڑا نکالتے ہوئے یہ موقف اپنایا کہ فوج بھی ان کی اپنی ہے اور پاکستان بھی ان کا ہے لہٰذا وہ فوج پر مثبت تنقید کرتے رہیں گے لیکن سچ یہ ہے کہ عمران پس پردہ فوج کے بارے میں جو بات کرتے ہیں اور جس زبان میں بات کرتے ہیں وہ سب کو پتہ ہے، ان کا کہنا تھا کہ عمران جیسی حیثیت والے سیاسی رہنما کو دوغلا پن زیب نہیں دیتا۔ انہوں نے سوال کیا کہ عمران کی ذات کے یہ تضاد ججوں اور جرنیلوں کو کیوں نظر نہیں آتے؟
ابصار عالم کا کہنا تھا کہ آج عمران نے پشاور جلسے میں کہا ہے کہ وہ اس حکومت کو اگلا آرمی چیف تعینات نہیں کرنے دیں گے۔ اہم سوال یہ ہے کہ انہوں نے یہ دھمکی کس بنیاد پر اور کس حیثیت سے دی، کیا خان یہ دھمکی دیتے ہوئے اکیلا کھڑا ہے یا اس کے پیچھے اور لوگ بھی موجود ہیں؟ ابصار عالم نے کہا کہ عمران خان جب یہی زبان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس شوکت صدیقی کے بارے میں استعمال کرتا تھا تب تو فوجی بھائیوں کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی تھی لیکن اب جب ان کا اپنا تخلیق کردہ مونسٹر فوج کو کھانے پر تل گیا ہے تو چبھن ذیادہ ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے یہ آگ لگائی تھی اب یہ ان کے اپنے گھروں میں پہنچ رہی ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ الیکٹرانک میڈیا اور یوٹیوب بند کروانے سے یہ آگ بجھنے والی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں عمران خان نامی مسئلے کی جڑ پر بات کرنی چاہئے ورنہ وہ روزانہ کوئی نہ کوئی بکواس کرتا رہے گا اور ہم بھی ایسے ہی بحث کرتے رہیں گے۔

عمران کو بنانے والوں کو کیوں شرم سے ڈوب مرنا چاہئے؟

ابصار عالم نے کہا کہ جن افراد اور اداروں نے عمران خان نامی جن بوتل سے نکالا تھا انہیں سامنے آ کر معافی مانگنا ہوگی اور تسلیم کرنا ہوگا کہ ان سے ایک بہت بڑی غلطی ہوئی۔ عمران خان کی تقریر کی بندش کے بارے میں بات کرتے ہوئے ابصار عالم نے کہا کہ قانون کی خلاف ورزی کوئی بھی کرے اسکے خلاف ایکشن ہونا چاہئے لیکن عمران خان کی تقریر کو روکنے اور اے آر وائی کو بین کرنے کے لیے جو طریقہ کار اختیار کیا گیا وہ غلط تھا۔ جب اے آر وائی اور بول ٹی وی ہمیں غداری کے فتوے دے رہے تھے تب اے آر وائی کو ڈی ایچ اے کا پروجیکٹ کس نے دیا؟ کون جواب دے گا مجھے؟ کیا اس سوال کا جواب آرمی چیف دیں گے یا ڈی جی آئی ایس پی آر؟ یہ زہریلے سانپ آپ نے خود پالے اور اب یہ آپ ہی کو ڈسنے کو تیار ہیں۔
پی ڈی ایم کی حکومت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ چھ مہینے ہو گئے ہیں اس حکومت کو آئے ہوئے، لیکن اگر عمران خان نے کرپشن کی ہے تو پھر اس کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لے رہے؟ انہوں نے کہا کہ نئی حکومت نے نہ کوئی انویسٹی گیشن کی ہے نہ کوئی کیس تیار کیا ہے۔ جب آپ کیس نہیں بنا رہے تو پھر آپ مان لیں کہ آپ سب مل کر اگلے الیکشن کے لیے خان کی کمپین چلا رہے ہیں۔ پی ڈی ایم والے مان لیں کہ ہم صرف حکومت میں آنا چاہتے تھے، ہمیں صرف یہی لالچ تھا۔ ہم نے اس کے علاوہ کچھ نہیں کرنا تھا۔ یا تو پی ڈی ایم والے یہ مان لیں یا پھر عمران خان کی کرپشن کے خلاف کارروائی کریں۔
ابصارعالم کہتے ہیں کہ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچا لیا، لیکن جس طرح آپ نے آئی ایم ایف کی شرائط مان کر اور ہوشربا مہنگائی کر کے پاکستان بچایا ہے، ایسے تو کوئی بھی ملک بچا سکتا تھا۔ میرا سوال یہ ہے کہ آپ نے قیمتیں بڑھائیں، ٹیکس لگائے اور ملک کو ڈیفالٹ سے بچا لیا۔ لیکن آپ نے ڈیفنس بجٹ پر کیوں کٹ نہیں لگایا؟ ان کا کہنا تھا کہ ملک کا ڈی جی آئی ایس آئی کسی دوسرے ملک میں جا کر نوکری کر لے تو کوئی مسئلہ نہیں اور ہمارے جیسا کوئی عام آدمی ایک ٹویٹ کر دے تو بہت بڑا مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے۔

Back to top button