عمران نے فوج مخالف مہم چلانے کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا؟


سینئر صحافی اور تجزیہ کار جاوید چودھری نے کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے چلائی گئی فوج مخالف مہم کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہیں کسی نے اس غلط فہمی میں مبتلا کر دیا تھا کہ اوپر والے ہمارے خلاف ہیں جب کہ نچلے ہمارے ساتھ ہیں۔ خان صاحب کو وہ تمام لوگ اور ان کے عہدے تک بتائے گئے تھے جن کے خاندان پارٹی کے جلسوں میں شریک ہوتے ہیں لہٰذا فیصلہ ہوا کہ اس تفریق سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جائے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ میں جب اپنے دائیں اور بائیں دیکھتا ہوں تو مجھے ایک نہیں بلکہ دو پاکستان نظر آتے ہیں‘ ایک پاکستان عمران خان کا ہے جس میں کنفیوژن‘ بحران‘ سیاسی افراتفری‘ دیوالیہ پن اور فساد کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ جب کہ دوسرا پاکستان ہمدردی‘ محبت اور خدمت سے لبریز پاکستان ہے جو دن رات ترقی کر رہا ہے۔ لیکن ہم پہلے عمران خان کے پاکستان کا تجزیہ کرتے ہیں۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ عمران خان فاسٹ باؤلر بن کر ملک کی تمام وکٹیں گرانا چاہتے ہیں‘ اگست کے شروع میں جب بارشیں اور سیلاب ملک کی طرف بڑھ رہے تھے تو عین اس وقت پی ٹی آئی کی قیادت اگلے دو ماہ کی سیاسی حکمت عملی طے کر رہی تھی‘ عمران کو کسی نے اس غلط فہمی میں مبتلا کر دیا تھا فوج کے سینئر نیوٹرلز ہمارے خلاف ہیں جب کہ دوسرے اور تیسرے درجے کے جوان ہمارے ساتھ ہیں۔ خان صاحب کو وہ تمام لوگ اور ان کے عہدے تک بتائے گئے تھے جن کے خاندان پارٹی کے جلسوں میں شریک ہوتے ہیں لہٰذا فیصلہ ہوا ہم شروع میں پہلی اور دوسری فہرست کے درمیان فاصلہ بڑھائیں گے‘ پھر جلسوں کے ذریعے میدان گرم کریں گے‘ پھر اپنی صوبائی حکومتوں کے ذریعے وفاق پر عدم اعتماد کریں گے اور پھر صدر عارف علوی وزیراعظم سے اعتماد کے ووٹ کا مطالبہ کر دیں گے۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ آپ یہ حکمت عملی پڑھ کر یقیناً سوچ رہے ہوں گے عمران خان اس سے کیا فائدہ حاصل کرنا چاہتے تھے؟ بات سیدھی ہے‘ عمران کی اطلاعات تھیں کہ ستمبر کے آخر تک نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے لیے سمری وفاقی حکومت کو بھجوا دی جائے گی‘ حکومت سمری آنے کے بعد معاملے کو اکتوبر کے آخر تک کھینچ کر لے جائے گی‘ نئے آرمی چیف کا فیصلہ اکتوبر کے آخری دنوں یا نومبر کے شروع میں ہو گا۔ گویا فوج ستمبر سے نومبر تک کمانڈ کی تبدیلی میں مصروف ہو جائے گی۔

یوں حکومت اکیلی رہ جائے گی لہٰذا یہ حکومت پر حملے کا بہترین وقت ہو گا‘ دوسرا حکومت اگر آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کو ایکسٹینشن دینے کی کوشش کرتی ہے تو بھی کنفیوژن شروع ہو جائے گی جس کا نقصان بھی حکومت کو ہو گا‘ اور اس کی سپورٹ عملاً ختم ہو جائے گی۔ ایسے میں اگر صدر علوی وزیر اعظم شہباز شریف سے اعتماد کا ووٹ مانگ لیتے ہیں تو حکومتی اتحادیوں کو کون اکٹھا کرے گا‘ اور اعتماد کے ووٹ کا بندوبست کون کرے گا، چنانچہ حکومت گر جائے گی۔

جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ منصوبہ ٹھیک لگ رہا تھا مگر اس میں تین خدشات تھے۔ پہلا خدشہ یہ تھا کہ ملک سیلاب کے دہانے پر کھڑا تھا، ایسے میں حکومت اور فوج ملک کو حالات کے رحم و کرم پر کیسے چھوڑ سکتی تھی؟ دوسرا فوج ریاست کی ریڈ لائین ہے اور کوئی ادارہ یا شخصیت کسی کو یہ ریڈ لائین کراس کرنے کا موقع کیوں دے گی اور تیسرا خدشہ اگر فوج اور حکومت کی طرف سے ردعمل آگیا تو پارٹی کا پلان بی کیا ہوگا؟ لیکن چونکہ عمران اگر‘ مگر اور چونکہ چنانچہ سے بالاتر ہیں لہٰذا وہ ان تینوں خدشات کو مسترد کر کے آگے چل پڑے اور آج حالت یہ ہے ملک کا ایک تہائی حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔۔سوات کے 36 دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں‘ کالام میں 25 ہوٹل ختم ہو گئے ہیں اور جنوبی پنجاب‘ سندھ اور بلوچستان پانی میں غوطے کھا رہا ہے‘ بلوچستان کی تاریخ میں کبھی اتنا سیلاب نہیں آیا‘ سندھ اور جنوبی پنجاب نے بھی کبھی ایسی تباہی نہیں دیکھی‘ پانی جنوبی پنجاب اور سندھ کے چار سو دیہات بہا لے گیا‘ وہاں اب گارے اور نعشوں کے سوا کچھ نہیں بچا‘ فوج اور حکومت دونوں سیلاب زدگان کی مدد کر رہے ہیں۔

ایسے میں لوگوں کو پانی سے نکالنا‘ انھیں خوراک‘ کپڑے اور خیمے پہنچانا اور ان کا علاج کرنا اور پھر انھیں ان کے گھروں میں آباد کرنا یہ آسان کام نہیں۔ اسلئے ریاست اس وقت اس غم میں مبتلا ہے جب کہ عمران ریاست کی پشت پر مسلسل باؤنسر مارتے چلے جا رہے ہیں۔ وہ ریاست اور حکومت دونوں کو کھائی کی طرف دھکیلتے جا رہے ہیں‘ یہ پہلا پاکستان ہے‘ آپ اب دوسرا پاکستان بھی دیکھیے۔

جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ ہمارا دوسرا پاکستان بے لوث کام کرنے والے فلاحی اداروں پر مشتمل ہے جو نہایت خاموشی سے سیلاب زدہ علاقوں میں کمال کرتے چلے جا رہے ہیں۔ یہ خدمت کرتے ہوئے دوسرے ہاتھ تک کو خبر نہیں ہونے دیتے‘ یہ پبلسٹی‘ شہرت اور پروپیگنڈے سے دور خاموشی سے کام کرتے رہتے ہیں۔ لاہور اور کراچی سے روزانہ ایسے اداروں کے ان گنت ٹرکوں کے قافلے چلتے ہیں‘ جہاں تک سڑک جاتی ہے یہ وہاں سامان پہنچاتے ہیں اور اس سے آگے نیوی اور ائیرفورس ان کی مدد کرتی ہے اور یہ ایک‘ ایک متاثرہ شخص تک اس کی ضرورت کا سامان پہنچاتے ہیں۔ یہ ہے دوسرا اور اصل پاکستان۔

Back to top button