عمران نے پرویز کو اسمبلی توڑنے پر کیسے مجبور کیا؟

وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کی جانب سے بالآخر پنجاب اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری بھجوانے پر راضی ہونے کی کہانی سامنے آگئی ہے۔ تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع نے بتایا ہے کہ عمران خان نے 11 جنوری کی دوپہر پرویزالٰہی کو زمان پارک میں ہونے والی ملاقات میں واضح کر دیا تھا کہ اگر وہ اگلے 24 گھنٹے میں پنجاب اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل نہیں کریں گے تو تحریک انصاف کے تمام اراکین اسمبلی  سےمستعفی ہو جائیں گے جس کے بعد ان کی حکومت ختم ہو جائے گی۔ عمران خان نے پرویز الٰہی سے کہا کہ میں ہر صورت انتخابات میں جانا چاہتا ہوں اس لیے اگر ہم نے فوری طور پر دونوں صوبائی اسمبلیاں نہ توڑیں تو الیکشن کا امکان ختم ہو جائے گا۔ جواب میں چوہدری پرویز الٰہی نے کپتان کو بتایا کہ قاف لیگ کے تمام اراکین اسمبلی ان کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن تحریک انصاف کے چھ ایم پی ایز آگے پیچھے ہو رہے ہیں لہٰذا وہ اعتماد کا ووٹ کیسے حاصل کریں؟

بتایا جاتا ہے کہ اس پر عمران خان نے باری باری ان چھ اراکین اسمبلی سے فون پر رابطہ کیا اور انہیں اگلے چند گھنٹوں میں پنجاب اسمبلی پہنچنے کا حکم دیا۔ اس کے باوجود چوہدری پرویز الٰہی نے ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے خان صاحب کو بتایا کہ تحریک انصاف اور قاف لیگ کے مابین اگلے الیکشن کے حوالے سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ فارمولا ابھی تک فائنل نہیں ہو پایا۔ انہوں نے یہ جاننے کی کوشش بھی کی کہ اگلے الیکشن کے بعد اگر تحریک انصاف حکومت بناتی ہے تو کیا ان کا وزیر اعلیٰ بننے کا کوئی چانس ہے یا نہیں۔ تاہم تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع بتاتے ہیں کہ عمران خان نے پرویز الٰہی کے ان دونوں سوالات کے گول مول جواب دیتے ہوئے کہا کہ وقت کم ہے اور مقابلہ سخت، اس لئے ان معاملات پر بعد میں بات کی جاسکتی ہے لیکن سب سے پہلے اعتماد کا ووٹ لیا جائے تاکہ اسمبلی توڑی جا سکے۔ دوسری صورت میں انہوں نے اپنی دھمکی دہرائی کے وہ اپنے اراکین اسمبلی سے استعفیٰ دلوا دیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے میں پرویزالٰہی کے پاس عمران خان کی بات ماننے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں بچا تھا چونکہ وہ پی ڈی ایم کے پاس جانے کی پوزیشن میں نہیں تھے اور عمران خان کی ناراضی کا مطلب یہ ہوتا کہ وہ دونوں اطراف سے فارغ ہو جاتے۔ لہذا انہوں نے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے پر آمادگی ظاہر کی اور آدھی رات کے وقت ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ بتایا جاتا ہے کہ اگلی صبح عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی دوبارہ طویل ملاقات ہوئی جس میں کچھ معاملات طے پائے لیکن پرویز الٰہی کی تسلی نہیں ہوئی۔ اس دوران پرویز الٰہی کا مونس الٰہی سے بھی رابطہ ہوا اور ان کی خان صاحب سے بھی بات ہوئی۔ پی ٹی آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز الٰہی اسمبلی تحلیل کرنے کے لئے کچھ روز مانگ رہے تھے لیکن عمران خان راضی نہ ہوئے جس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کو مجبوری کے عالم میں گورنر کے نام پنجاب اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری سائن کرنا پڑ گئی۔

Back to top button