عمران کو بیرون ملک بھجوانا ایک سکیورٹی رسک کیوں؟

کپتان نے عدم اعتماد سے ہٹنے کے بعد ایک ایٹمی طاقت کی فوج سے متھا لگائے رکھا ہے۔ بھائی بالکل سیدھی ٹکریں پورا سال مارتا رہا ۔ فوج کو ہر طرح کے اشارے  کر رہا تھا کہ مجھے دوبارہ اسی منجی پر بٹھاؤ جس پر ہم اکٹھے لیٹے ہوئے تھے ۔ 9مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد جو کچھ ہوا اس نے کپتان کی مقبولیت اور سیاست دونوں کو گولہ مار دیا۔ بہت محتاط رہ کر بھی یہ بتایا جا سکتا ہے دنیا بھر کے دارالحکومتوں سے بیانات جو مرضی آئیں۔ کپتان کے لیے مدد نہیں آئے گی۔ کپتان کو پاکستان سے باہر جانے کی اجازت بھی نہیں ملے گی۔ اس کی وجہ وہی ہے کہ بے تکان بولنا، بار بار موقف تبدیل کرنا اور اپنی بات پر قائم نہ رہنا۔ موقع اور جگہ دیکھے بغیر کچھ بھی کہہ دینا۔ تو عمران کو بیرون ملک بھیجنے کا رسک نہیں لیا جائے گا ۔ نیوز ویب سائیٹ ” وی نیوز” کی ایک تحریر میں کہا گیا  ہے کہ فارمیشن کمانڈر کانفرنس کا اعلامیہ دو ٹوک ہے۔ 9مئی کو نہیں بھولیں گے، ماسٹر مائنڈ، منصوبہ بندی کرنے والوں اور جلاؤ  گھیراؤ کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ اس حوالے سے ہر رکاوٹ اور دباؤ بے اثر کر دیا جائے گا۔ یہ بے اثر کرنے والی لائن پی ٹی آئی عدلیہ ونگ کو بار بار پڑھنی چاہیے ۔ دباؤ کی تشریح البتہ زیادہ وسیع البنیاد ہے۔ لابنگ فرم، پی ٹی آئی کے حمایتی بیرون ملک مقیم  پاکستانی اور ان کی بات سننے والے بااثر غیر ملکی اعلیٰ عہدیدار اس تشریح میں آتے ہیں۔

آرمی چیف جنرل عاصم منیر اپنا ہوم ورک کر چکے ہیں۔ 9مئی کے دن وہ عمان اور قطر کے دورے پر تھے۔ دورہ انہوں نے مکمل کیا۔ یہ بھی اعتماد کا اظہار تھا ان کا خود پر اور اپنے ادارے پر۔ اس سے پہلے وہ چین جا چکے ہیں۔ چین کے دورے کے بعد پاک، افغان اور چین، سہ فریقی مذاکرات ہوئے۔ اب ایران پاکستان چین مذاکرات کی خبر آ گئی ہے۔

طانوی فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل پیٹرک  پاکستان کا  5 روزہ تفصیلی دورہ کر گئے ہیں۔ اس سال فروری میں جنرل عاصم منیر برطانیہ کا 5 روزہ دورہ کر کے  آئے تھے۔ جب جنرل پیٹرک پاکستان آئے تو لارڈ طارق احمد دہلی لینڈ کر گئے تھے۔ لارڈ طارق احمد برطانیہ کے مڈل ایسٹ اور جنوبی ایشیا کے لیے منسٹر آف اسٹیٹ ہیں۔

اب ذرا اسلام آباد میں ہوئے چین، افغانستان اور پاکستان کے مابین مذاکرات کو دھیان میں لائیں، پھر ایران پاکستان اور چین کے بیجنگ مذاکرات پر غور کری۔ ایک اشارے پر مزید غور کریں۔ افغانستان میں مولوی عبدالکبیر  نئے نگران وزیر اعظم ہیں۔ ان کا تعلق اسی زدران قبیلے سے ہے، جس سے سراج حقانی کا تعلق ہے ۔ نئے وزیر اعظم کے آنے پر جو سب سے بڑی خبر آئی ہے وہ یہ ہے کہ پاکستانی مہاجرین کو بارڈر سے افغانستان کے اندر غیر پختون علاقوں میں منتقل کر دیا جائے گا ۔ ایسا کرنے کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ پاکستان کی ٹینشن ختم ہو کہ باڈر پر رہنے والے یہ پاکستانی مہاجرین دہشت گردی میں ملوث ہیں۔

تھامس ویسٹ افغانستان کے لیے یو ایس کے خصوصی نمائندے ہیں۔ انہوں نے افغانستان میں پوست کی کاشت میں اسی فیصد کمی کا کھلے دل سے اعتراف کیا ہے۔ یعنی امارت اسلامی افغانستان کی تعریف کی ہے۔اب آجائیں پاکستان ۔ ہمارے ریجن میں جہاں اتنا کچھ چل رہا ہے۔  اس سب کا تعلق سیکیورٹی اور فوج سے ہے۔ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے۔ پانچویں، چھٹی ساتویں، اٹھویں جو مرضی سمجھیں لیکن ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں۔ کپتان نے عدم اعتماد سے ہٹنے کے بعد اس فوج سے متھا لگائے رکھا ہے۔ بھائی بالکل سیدھی ٹکریں پورا سال مارتا رہا ہے۔ سیاستدانوں سے وہ مذاکرات کرنے کو تیار نہیں تھا کہ وہ کرپٹ ہیں، چور ہیں، غدار ہیں۔ فوج کو ہر طرح کے اشارے  کر رہا تھا کچھ اشارے تو گندے گندے بھی تھے کہ مجھے دوبارہ اسی منجی پر بٹھاؤ جس پر ہم اکٹھے لیٹے ہوئے تھے۔

آج کپتان کی گرفتاری کا امکان ہے زمان پارک پہنچیں۔ یہ میسج کپتان کے مداحوں کی دوڑیں لگوا دیتا تھا۔ 9مئی کو گرفتاری کے بعد جو کچھ ہوا اس نے کپتان کی مقبولیت اور سیاست دونوں کو گولہ مار دیا۔آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے اپنا پورا وقت لیا ہے۔ صورتحال کو  سمجھا ہے، دوست ملکوں کے دورے کیے ہیں۔ کور کمانڈر اجلاس کیے ہیں۔ جب یکسو ہو گئے ہیں تو فارمیشن کمانڈر کی وسیع البنیاد مشاورت میں جو نتیجہ نکلا اس کا اعلامیہ سامنے آ گیا ہے۔

کپتان کے لیے اچھا ہوتا کہ وہ سول رِٹ کی بات کرتا۔ پارلیمنٹ کے سپریم ہونے پر اصرار کرتا۔ قانون کی حکمرانی سب کے لیے ایک سی مانگتا۔ عدالتوں میں پیش ہوتا رہتا، جیسے پہلے سیاسی قیادت پیش ہوتی رہی ہے۔ بات چیت کے لیے پنڈی کو آوازیں دینے کی بجائے سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کی کھڑکی کھولتا۔ نہ صوبائی اسمبلیاں توڑتا نہ قومی اسمبلی سے استعفے دیتا۔ مگر اسے ٹکر مارنی تھی سو مار بیٹھا ہے۔ اب بھگت بھی سب سے زیادہ خود ہی رہا ہے۔ پارٹی ممبران تو کٹی پتنگوں کی طرح اِدھر اُدھر ڈولتے گرتے پھر رہے ہیں۔

Back to top button