عمرا ن خان پاکستانی معیشت کو تباہ کرنے پر کیوں تلے ہوئے ہیں؟

پاکستان کی معیشت مشکل حالات سے گزرنے کے باوجود 2024 میں بحالی کے چند حوصلہ افزا اشاریے دکھا رہی ہے۔ ملک مسلسل معاشی استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ تاہم جیسے ہی معیشت کی سمت درست ہوتی نظر آئی اس کے ساتھ ہی بعینہٖ 2014 کی طرز پر تحریک انصاف کی ملک دشمن سرگرمیوں میں بھی تیزی آنا شروع ہو گئی ہے۔ امریکہ کے ایوان نمائندگان کی قرارداد کی ٹائمنگ ملاحظہ ہو کہ عین اس وقت پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی قرارداد منظور ہوئی جب معیشت بہتری کی طرف گامزن ہے اور سی پیک فیز 2 شروع ہو چکا ہے۔ تحریک انصاف کے اقدامات جن کا مقصد معیشت کو غیر مستحکم کرنا اور پاکستان میں افراتفری پھیلانا ہے، ناصرف ملکی ترقی کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ پاکستان کے دشمنوں کے مفادات کو بھی پورا کر رہے ہیں۔

ناقدین کے مطابق تحریک انصاف نے اعلیٰ عدلیہ میں جو سیاسی بھرتیاں کی تھیں وہ بھی ملک میں عدم استحکام کا باعث بن رہی ہیں۔ اور یہ پہلی دفعہ نہیں ہو رہا، اس سے پہلے بھی تحریک انصاف نے 6 فیصد کی شرح سے آگے بڑھتی معیشت کو اور 66 ارب ڈالر کے سی پیک کو اور آئی ایم ایف سے چھٹکارا پانے والی معیشت کو 2018 سے 2022 میں کامیابی سے ڈبویا ہے۔ سانحہ 9 مئی، جس میں انتشار اور ملک دشمنی کی نئی تاریخ رقم کی گئی، سی پیک کو بند کیا ہے اور طالبان کو افغانستان سے واپس بلا کر پاکستان میں دوبارہ آباد کیا ہے، دوبارہ سے ایک داخلی جنگ پاکستان پر مسلط کی جا رہی ہے۔ ناقدین کھ مطابق کیا اس وطن دشمنی کا حساب عمران خان سے نہیں ہونا چاہیے جنہوں نے طالبان کو دوبارہ ان علاقوں میں آباد کیا؟ کیا یہ نہیں پوچھا جانا چاہیے کہ تحریک انصاف کے لیے بیرونی امداد کون لوگ جمع کر رہے ہیں؟ کون لوگ اور کون کون سی ریاستیں ان کی پشت پناہی کر کے ان کو مالی امداد فراہم کر رہی ہیں؟ اور یہ ساری بیرونی امداد تحریک انصاف کن سرگرمیوں میں خرچ کر رہی ہے؟ اس کی تفصیلات قوم کو بتائی جائیں اور وہ جو فنڈز بیرون ملک سے اکٹھا کرتے ہیں ان کو پاکستان کے خلاف لابنگ فرمز کو ہائر کر کے کن مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے؟ یہ تفصیلات بھی اب قوم کے سامنے رکھنی چاہیے۔

دوسری جانب مبصرین کے مطابق عمران خان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس جو امریکہ سے آپریٹ ہو رہے ہیں ان سے جو پاکستان دشمنی کا زہریلا پروپیگنڈا شروع ہے اس کا بھی حساب ہونا چاہیے۔ معاشی استحکام میں خلل ڈال کر اور غیر یقینی صورت حال پیدا کر کے عمران خان اور تحریک انصاف ان قوتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں جو پاکستان کو کمزور کرنا اور اس کی خودمختاری کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ ان کا یہ عمل اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ انہیں قوم کی خدمت سے زیادہ اپنے اور اپنے فنانسرز اور سہولت کاروں کے مفادات کی تکمیل میں دلچسپی ہے۔ عدم استحکام کی سرگرمیوں میں ملوث ہو کر عمران خان اور تحریک انصاف دوسری بار ان دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل کر رہے ہیں جس میں پاکستان کی اقتصادی ترقی کو نقصان پہنچانا، سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا اور اس کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچانا شامل ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جمہوریت پر ایمان رکھنے والے طبقہ میں یہ تاثر کیوں جڑیں پکڑ رہا ہے کہ آمریت کے ہر دور میں مارشل لاء ایڈمنسٹیٹرز کو آئین کو روندنے کی اجازت دینے والی عدالتیں آج بھی آئین کے نام پرغیر جمہوری قوتوں کے پیچھے کھڑی دکھائی دیتی ہیں لیکن مورخ سوال کرے گا کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ عمران خان عزم استحکام نہیں عدم استحکام کے حامی ہونے کا اعلان کر چکے ہیں، کیا نظام عدل ملک کو ڈوبتے دیکھتا رہے گا؟ یا وہ کسی انجانے خوف کا شکار ہے؟حالانکہ ضیاءالحق کے طرز آمریت پر یقین رکھنے والے عمران خان اپنے دور آمریت میں مخالفین کےسیاسی کیرئر کو تباہ کرنے کے لئے لمبی سزائیں دلائی گئیں، اپنے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے "جرم” میں میاں نواز شریف کو تاحیات نااہلی کی سزا دی۔جنرل ضیاءالحق نے جہاں آئین اور عدل کے ضابطوں کو طاق میں رکھتے ہوئے نظریۂ آمریت کے زیر اثر "نظریۂ ضرورت” متعارف کرایا اور اس کی’’حفاظت‘‘ طاقت کے زور پر کی جبکہ عمران خان اسی نظریۂ ضرورت کو آئین کا حصہ تصور کرتے ہوئے عدالتوں سے مرضی کے فیصلے حاصل کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں یہاں تک کہ شروع میں ایوان عدل نے عمران خان کی خواہش پر جیل کی پوری بیرک جس میں آٹھ سیل تھے، انیکسی میں تبدیل کیا، عمران خان کی خواہش پر اس پر تعیش انیکسی میں ورزش کے لئے جدید جم کی سہولت مہیا کی،تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ریاست اور ریاستی اداروں کو تاراج کرنے اور فوج اور جی ایچ کیو اور کورکمانڈر ہاؤس پر منظم حملوں، فوج کو تقسیم کرنے اور سب سے زیادہ یہ کہ پاکستان دشمن ایجنڈے کے مطابق ملک کی اساس کو نقصان پہنچانے کے قومی جرائم میں ملوث اس ملزم کو اس قدر مراعات’’عطا‘‘ کرنے کا کیا مقصد ہے؟ کیا جیل میں ایسی شاہانہ سہولیات اور مراعات ذوالفقار علی بھٹو یا میاں نواز شریف کو بھی دی گئی تھیں؟ کیوں عمران خان کی خواہشات کے مطابق خصوصی ناشتے کے علاوہ دوپہر اور رات کے کھانوں کے لئے دیسی گھی اور مکھن میں بنی ہوئی دیسی مرغی اور بکرے کے گوشت کے پکوان مہیا کرنے کا حکم دیا گیا؟ اور اب’’جیل انیکسی‘‘ کو ملک اور ریاست کے خلاف سیاسی سازشوں کے ’’اکھاڑے‘‘ میں تبدیل کرنے کی ابتدا کردی گئی ہے۔ مبصرین کے مطابق قیدی نمبر 804 کی مشاورت سے پی ٹی آئی قیادت ایک اور سانحہ 9 مئی کی طرز کی شرپسندانہ کارروائی کی حکمت عملی میں مصروف ہے جو 9 مئی 2023 سے کہیں زیادہ قومی سلامتی کے لئے خطرناک ہوسکتی ہے کیونکہ اس مزاحمتی تحریک میں عمران خان کے دور حکومت میں وہ 42 ہزار شرپسند عناصربھی ہراول دستے کا کردار ادا کریں گے جنہیں ملک کی مختلف جیلوں سے نکال کر سرحدی علاقوں میں آباد کیا گیا۔یہ تحریک خانہ جنگی کی بنیاد ہوگی۔ملک کو خانہ جنگی کی آگ میں دھکیلنے کی سازش کا اعلان خود تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کرتی پھر رہی ہے اور اس کی خفیہ تیاریاں خیبر پختونخوا کی حکومت کی نگرانی میں جاری ہیں جس کا پرچار جلسوں اور کارنر میٹنگوں میں برملا کیا جارہا ہے۔سیاست پر گہری نظر رکھنے والے دانشوروں کا عندیہ ہے کہ تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے مزاحمتی سیاست کی تحریک بہت آگے جاسکتی ہے جو قومی معیشت اور سلامتی کے لئے تباہ کن ہوسکتا ہے۔

مبصرین کے مطابق عمران خان نے دنیا میں پاکستان کو بدنام کرنے اور خود کو معصوم ظاہر کرنے کے لئے جیل میں بھوک ہڑتال کا اشارہ دیا ہے جس کا مقصد بیرون ملک سے دباؤ ڈالنے کے لئے پاکستانی فوج کو نشانہ بناتے ہوئے عمران خان کی رہائی کے لئے عالمی رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے پاکستان اور ریاستی اداروں پر دباؤ بڑھایا جائے گا جبکہ دوسری جانب اندروں ملک بڑے اور چھوٹے شہروں میں دھرنوں اور بھوک ہڑتالوں کا سلسلہ شروع کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں، بھوک ہڑتال خانہ جنگی کی ابتدائی شکل ثابت ہوسکتی ہے۔

Back to top button