گواہوں کے بعد عمران کا 190ملین پاؤنڈ کیس میں بچنا ناممکن

بانی پی ٹی آئی عمران خان کا 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بچنا نا ممکن دکھائی دیتا ہے۔ جہاں ایک طرف سابق وفاقی وزیر دفاع اور عمران خان کے دست راست پرویز خٹک نے قیدی نمبر 804 کیخلاف عدالت میں بیان ریکارڈ کروا دیا ہے وہیں دوسری جانب 190 ملین پاؤنڈ کیس کے حوالے سے نیب کے ہاتھ اہم شواہد لگ گئے ہیں۔ جس کے بعد عمران خان کا اس کیس سے بچنا محال نظر آتا ہے۔ سینئر صحافی انصار عباسی کی ایک رپورٹ کے مطابق قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحریہ ٹائون کے دفاتر پر حالیہ چھاپے کے دوران مختلف کیسز کے حوالے سے بے حد اہم شواہد برآمد کیے ہیں جن میں عمران خان کیخلاف 190 ملین پاؤنڈز کے این سی اے سیٹلمنٹ اسکینڈل سے متعلق شواہد بھی شامل ہیں۔

 ذرائع کے مطابق نیب نے چھاپے کے دوران جو شواہد اکٹھے کیے ہیں وہ بےحد اہم ہیں اور ان کا تعلق برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی سے جڑے معاملے سمیت مختلف کیسز سے ہے۔ بیورو اس وقت بحریہ ٹائون کے دفاتر سے جمع کردہ ثبوتوں کےمختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ کچھ دستاویزات کی مختلف پہلوئوں سے جانچ پڑتال کی جا رہی ہے، مختلف افراد کیخلاف مختلف مقدمات میں ان شواہد کی مطابقت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا عمران خان کیخلاف 190 ملین پائونڈز کے اسکینڈل کے حوالے سے جمع کردہ شواہد القادر ٹرسٹ کیس میں احتساب عدالت میں پیش کیے جائیں گے تو ذرائع کا کہنا تھا کہ فی الحال اس سلسلے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ استغاثہ کی طرف سے عمران خان، بشریٰ بی بی اور دیگر کیخلاف القادر ٹرسٹ کیس یا 190؍ ملین پائونڈز کرپشن ریفرنس میں مختلف ٹھوس ثبوت احتساب عدالت میں پہلے ہی پیش کیے جا چکے ہیں اور عدالت شواہد سے کافی مطمئن ہے۔

یاد رہے کہ چند ہفتے قبل نیب کی ایک ٹیم نے القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کیس اور 190 ملین پائونڈز کے این سی اے سیٹلمنٹ اسکینڈل کے سلسلے میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں واقع بحریہ ٹائون کے دفاتر پر چھاپہ مارا تھا اور کمپنی کا تمام ریکارڈ تحویل میں لے لیا تھا۔

چھاپے میں پنجاب پولیس اور ایلیٹ فورس کی ٹیموں نے بحریہ ٹائون کے دفاتر کا محاصرہ کئے رکھا جبکہ نیب ٹیم چھاپے کے دوران جمع کردہ دستاویزات اور ریکارڈ کی جانچ کر رہی تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نیب ٹیم نے دفتر میں ہائوسنگ سوسائٹی کے عملے سے القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے ریکارڈ اور 190 ملین پائونڈز کیس کے حوالے سے بھی پوچھ گچھ کی تھی۔ بعد ازاں نیب ٹیم نے کمپنی کے دفاتر کو سیل کر دیا۔ چھاپے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، بحریہ ٹائون کے چیئرمین ملک ریاض نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ’’ایکس‘‘ پر کہا تھا کہ وہ تمام مشکلات برداشت کریں گے اور ’’سلطانی گواہ‘‘ نہیں بنیں گے۔

خیال رہے کہ فی الوقت احتساب عدالت اس کیس میں اڈیالہ جیل میں استغاثہ کے گواہوں کے بیان ریکارڈ کر رہی ہے، جہاں عمران خان اور بشریٰ بی بی قید ہیں۔ بدھ کو احتساب عدالت نے اڈیالہ جیل میں سابق وزیر دفاع پرویز خٹک کا بیان قلمبند کیا۔

خیبر پختونخوا کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور سابق وزیرِ دفاع پرویز خٹک نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں اپنابیان سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی موجودگی میں ریکارڈ کروایا۔ پرویز خٹک نے 15 منٹ تک اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ اس دوران روسٹرم پر موجود عمران خان پرویز خٹک کے بیان کے دوران مسکراتے رہے۔

 پرویز خٹک نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں اپنے بیان میں کہا کہ سابق مشیرِ احتساب شہزاد اکبر نے کابینہ کو بتایا تھا کہ پاکستان سے غیر قانونی طور پر باہر بھجوائی گئی بڑی رقم برطانیہ میں پکڑی گئی ہے جسے پاکستان کو واپس کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کابینہ میں رقم کے حوالے سے کاغذات بند لفافے میں پیش کیے گئے۔یہ معاملہ کابینہ کے ایجنڈے پر نہیں تھا، میٹنگ میں اضافی ایجنڈے کے طور پر سامنے لایا گیا،  کابینہ میں رقم کے حوالے سے کاغذات بند لفافے میں پیش کیے گئے، اضافی ایجنڈے کی منظوری کابینہ سے لی گئی۔

سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنی کابینہ سے ایک لفافے میں بند کاغذ پر درج سمری کی منظوری لی تھی جس کے تحت برطانیہ سے پاکستان کو موصول ہونے والے 190 ملین پاؤنڈ کی رقم کو سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دیا گیا تھا۔پاکستان کو یہ رقم بحریہ ٹاؤن کے برطانیہ میں ایک تصفیے کے نتیجے میں منتقل کی گئی تھی۔ تاہم عمران خان اور اُن کی اہلیہ پر الزام ہے کہ اُنہوں نے اس رقم کو قانونی حیثیت دینے کے عوض ملک ریاض سے اربوں روپے مالیت کی اراضی حاصل کی تھی جہاں یونیورسٹی قائم کی جانی تھی۔ نیب نے اس الزام کی بنیاد پر عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف ریفرنس دائر کر رکھا ہے۔پرویز خٹک نے اپنے بیان میں کہا کہ ریفرنس کے تفتیشی افسر نے انہیں بتایا تھا پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض نے پاکستان سے رقم برطانیہ منتقل کی تھی۔

 خیال رہےکہ عمران خان کے دورِ حکومت میں ‘القادر ٹرسٹ’ کی بنیاد 2019 میں رکھی گئی تھی جس کے ٹرسٹی عمران خان، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور ان کی قریبی دوست فرح گوگی ہیں۔

واضح رہے کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں تقریباً 31 گواہان اپنا بیان قلمبند کرا چکے ہیں اور ان پر جرح بھی ہو چکی ہے۔مذکورہ کیس کے دیگر دو اہم گواہ سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان اور زبیدہ جلال عدالت کے روبرو پیش نہیں ہو سکے۔

Back to top button