غیرقانونی افغانیوں کی وطن واپسی سے کونسے اہداف حاصل ہوئے؟

نگران حکومت نے پاکستان میں موجود افغانیوں کی وطن واپسی کیلئے مہم کا آغاز کیا تو سب سے بڑا ہدف غیرقانونی افغانیوں کی تعداد کے درست اعداد و شمار جمع کرنا تھا، افغانیوں کی وطن واپسی کیلئے یکم نومبر 2023 کی آخری تاریخ مقرر کی گئی تھی۔پاکستان میں غیر قانونی مقیم افغانوں کی کل تعداد 17 لاکھ سے زائد ہے جبکہ اب تک افغانستان واپس جانے والے افغانوں کی تعداد 5 لاکھ سے زائد ہے تو کیا ان مہاجرین کی واپسی سے پاکستان نے مطلوبہ اہداف حاصل کر لیے ہیں؟افغان کمشنریٹ کے کمشنر برائے افغان مہاجرین عباس خان نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ غیر قانونی مقیم افغان مہاجرین کی ملک سے بے دخلی کا ایک مقصد پاکستان نے کافی حد تک حاصل کر لیا ہے اور وہ تھا ان لوگوں کی رجسٹریشن۔ اب بے نام اور نامعلوم کا مسئلہ کسی حد تک حل ہو گیا ہے۔ اب ہمیں پتہ ہے کہ ہمارے ملک میں کون رہ رہا ہے۔عباس خان نے بتایا کہ افغانستان واپس جانے والے مہاجرین کی تعداد 5 لاکھ 35 ہزار سے 5 لاکھ 37 ہزار کے درمیان ہے۔ غیر قانونی مقیم غیرملکیوں کی واپسی کے پیچھے جو اصل وجہ تھی وہ یہی تھی کہ ہم نے ان لوگوں کی شناخت کرنا تھی۔ دوسرا اس آنے جانے کے عمل کو ایک ڈسپلن میں لے کر آنا تھا۔ ایک سوال کہ آیا افغان مہاجرین کے جانے سے ملکی معیشت پر کوئی اثرات مرتب ہوئے؟ کے جواب میں عباس خان نے کہا کہ 5 لاکھ ایک اتنی چھوٹی تعداد ہے کہ اتنے لوگ تو روز پاکستان میں پیدا ہوتے ہیں، ممکن ہے مہاجرین کے جانے سے شاید حیات آباد پشاور میں مکانوں کے کرایے کم ہو گئے ہوں لیکن بنیادی طور پر یہ مہاجرین ایک غیر روایتی معیشت کا حصہ تھے اور ان کے جانے سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا۔پاکستان کے سابق سفیر مسعود خالد نے ’’وی نیوز‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سب سے بڑا ہدف تو یہی تھا کہ ہم نے ان غیر قانونی مقیم افغانوں کو اپنے وطن واپس بھجوانا تھا، میں سمجھتا ہوں کہ 5 لاکھ سے زائد افغانوں کی وطن واپسی سے وہ ہدف کافی حد تک حاصل کر لیا گیا جوکہ ہمارے لیے ایک مثبت خبر ہے گوکہ اس حوالے سے پاکستان کو کافی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑا کہ وہاں کے حالات پہلے ہی بہت خراب ہیں اور ان لوگوں کو واپس نہ بھیجا جائے لیکن پاکستان نے ان لوگوں کو واپس بھیجا اور اپنے علاقوں کی سینیٹائزیشن کی اور دوسرا پاکستان میں ان کی آمد و رفت کے نظام کو ریگولرائز کیا۔سنٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور سابق سفیر علی سرور نقوی نے ’’وی نیوز‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا کہ پاکستان نے اپنے اہداف حاصل کیے ہیں یا نہیں ایک موضوعی بحث ہے لیکن اصولی طور پر یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں رہنے والے تمام افراد کو قانونی دستاویزات کے ساتھ پاکستان میں رہنا چاہئے، اس حوالے سے دیکھا جائے تو پاکستان کی پالیسی بالکل درست ہے۔ دہشت گردی کی وجوہات کچھ اور بھی ہیں لیکن بغیر قانونی دستاویزات کے ملک میں مقیم ہونا ان کے نزدیک درست عمل نہیں اور حکومت کی اس پالیسی اور اس سلسلے میں کیے جانے والے اقدامات سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا۔

Back to top button