فارن فنڈنگ کیس: ای سی پی کے دائرہ اختیار کے خلاف عمران خان کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے اکبر ایس بابر کو پی ٹی آئی کا حصہ قرار دینے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان کی درخواست سماعت کےلیے مقرر کردی۔
جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل بینچ نے درخواست پر ابتدائی سماعت کرتے ہوئے فارن فنڈنگ کیس کے درخواست گزر اکبر ایس بابر کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کرلیا۔ عمران خان کی پیروی کرنے والے وکیل انور منصور نے مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی پر کوئی اعتراض نہیں، کیس کرنے سے قبل اکبر ایس بابر پی ٹی آئی سے نکالے جا چکے تھے۔ انور منصور کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو اختیار نہیں تھا کہ اکبر ایس بابر کو پارٹی رکن قرار دے جب کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا۔ وکیل پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ کون پارٹی کا رکن ہے کون نہیں یہ تعین کرنا سول کورٹ کا اختیار ہے، الیکشن کمیشن کوئی عدالت ہے نہ ہی ٹربیونل، ہمیں اکبر ایس بابر کے اسکروٹنی کمیٹی کی کارروائی میں شرکت پر اعتراض ہے۔ وکیل انور منصور نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس کی تحقیقات کرنے والی اسکروٹنی کمیٹی اپنا کام کر رہی ہے اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن اسکروٹنی کمیٹی کی کارروائی اِن کیمرا ہونی چاہیے۔ جسٹس مشیر عالم نے دریافت کیا کہ اکبر ایس بابر کو پارٹی سے کب نکالا گیا؟ جس پر عمران خان کے وکیل نے بتایا کہ اکبر ایس بابر کو 26 ستمبر 2011 کو پی ٹی آئی سے نکال دیا گیا تھا۔ اکبر ایس بابر کی جانب سے پیش ہوئے وکیل نے کہا کہ پارٹی سے نکالے جانے کا نوٹس کسی فورم پر پیش نہیں کیا گیا۔ جسٹس یحیٰ آفریدی نے کہا کہ آپ کو نوٹس کر رہے ہیں تحریری جواب جمع کرائیں، بعدازاں عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔ خیال رہے کہ عدالت عظمیٰ میں عمران خان کی جانب سے بطور چیئرمین پی ٹی آئی دائر کی گئی درخواست میں فارن فنڈنگ کیس کے مختلف پہلوؤں پر سوالات اٹھائے گئے تھے جس میں اکبر ایس بابر کو پی ٹی آئی کا حصہ قرار دینے کا اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی شامل ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ اکبر ایس بابر کا 2011 سے تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں، انہوں نے پی ٹی آئی چھوڑنے کی ای میل کی، جو ریکارڈ پر موجود ہے۔ اس میں مزید کہا گیا کہ ہائی کورٹ آرٹیکل 199 کا اختیار استعمال کرتے ہوئے متنازع حقائق پر فیصلہ نہیں دے سکتی۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ اکبر ایس بابر متاثرہ فریق نہیں اس لیے الیکشن کمیشن کو کیس سننے کا اختیار نہیں ہے، ساتھ ہی اکبر ایس بابر کی پی ٹی آئی رکنیت کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منحرف بانی رکن اکبر ایس بابر اور دیگر کی جانب سے پی ٹی آئی کی غیر ملکی فنڈنگ کے ذرائع کی جانچ پڑتال سے متعلق کیس 2014 سے زیرِ التوا ہے۔ کیس میں الزام لگایا گیا تھا کہ غیر ملکی فنڈز میں سے تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے سے ‘ہنڈی’ کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔ ان کا یہ بھی الزام تھا کہ جو فنڈز بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس حاصل کرتے تھے، اسے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پوشیدہ رکھا گیا۔ بعد ازاں ایک سال سے زائد عرصے تک اس کیس کی سماعت ای سی پی میں تاخیر کا شکار رہی تھی کیوں کہ پی ٹی آئی کی جانب سے اکتوبر 2015 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی کہ اس کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال سے ای سی پی کو روکا جائے۔ فروری 2017 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے دائرہ اختیار پر جائزہ لینے کےلیے کیس کو دوبارہ ای سی پی کو بھیج دیا تھا، اسی سال 8 مئی کو ای سی پی کے فل بینچ نے اس کیس پر اپنے مکمل اختیار کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی اس طرح کے ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی کہ درخواست گزار کو پارٹی سے نکال دیا گیا اور وہ پی ٹی آئی اکاؤنٹس پر سوالات اٹھانے کا حق کھو بیٹھے۔ علاوہ ازیں مارچ 2018 میں پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ اکاؤنٹس کے معاملات کو دیکھنے کےلیے ایک اسکروٹنی کمیٹی قائم کی گئی تھی جو اب تک فارن فنڈنگ کی تحقیقات کررہی تھی۔ اگست 2020 میں اسکرٹنی کمیٹی نے فنڈنگ سے متعلق الیکشن کمیشن میں اپنی رپورٹ جمع کروائی جسے ای سی پی نے مسترد کرکے تازہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔
