فارن فنڈنگ کیس: اکبر ایس بابر کو قتل کرنے کی دھمکیاں

عمران خان کے سابقہ قریبی ساتھی اور فارن فنڈنگ کیس میں ان کے خلاف کیس دائر کرنے والے اکبر ایس بابر نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کو کیس سے پیچھے ہٹ جانے کے لئے قتل کی دھمکیاں دی جارہی ہیں لہذا الیکشن کمیشن آف پاکستان کو اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں تحفظ فراہم کرنا چاہیے۔
اکبر ایس بابر نے یہ الزام اس وقت عائد کیا جب 2 جون کے روز الیکشن کمیشن میں ان کی طرف سے عمران خان اور تحریک انصاف کے خلاف دائر فارن فنڈنگ کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان نے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس میں اسکرروٹنی کمیٹی کی حتمی رپورٹ 4 ہفتوں میں مکمل اور کمیٹی کے اسٹیس پر رپورٹ ایک ہفتے میں پیش کرنے کی ہدایت کردی۔ اسی دوران الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی پارٹی فنڈنگ کیس کے درخواست گزار اکبر ایس بابر کو جان سے مارنے کی دھمکیوں سے متعلق کیس کی سماعت بھی ہوئی جس میں ان کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ان کے مؤکل کو حکمران جماعت کی جانب سے کیس واپس لینے کے لیے ہراساں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کے رحم و کرم پر ہیں، کسی کی آزادی اور زندگی کو خطرہ نہیں ہونا چاہیے، الیکشن کمیشن ہمیں تحفظ دے۔ وکیل کا مزید کہنا تھا کہ میں عدالتی احکامات کی مثالیں پیش کرسکتا ہوں کہ جس عدالت میں کیس دائر ہو وہ عدالت درخواست گزار کوتحفظ دے۔ دورانِ سماعت اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ دباؤ میں لانے کے لئے مجھ پر جھوٹے مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔ وکیل نے کہا کہ اکبر ایس بابر واحد ایسے پارٹی رکن ہیں جو شفافیت کے لیے فنڈنگ کی تحقیقات کرانا چاہتے ہیں۔ اس پر الیکشن کمیشن کے رکنِ پنجاب نے درخواست گزار نے کہا کہ آپ 249 اے کا سہارا لے سکتے ہیں، آپ کو دھمکیوں کے معاملے پر متعلقہ فورمز سے رابطہ کرنا چاہیئے۔ جس پر وکیل نے کہا کہ ہم نے متعلقہ فورمز سے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ہمیں تحفظ فراہم کرنے کے لیے کوئی تیار نہیں۔
الیکشن کمیشن کے رکن پنجاب کا کہنا تھا کہ ہمیں کیا پتا کے آپ لوگوں کے باہر پی ٹی آئی سے کیا معاملات ہیں، آپ کے دلائل دیکھ کر فیصلہ کرینگے، آپ اس معاملے سے متعلق اور کیا کہنا چاہتے ہیں۔ سماعت میں پی ٹی آئی کے وکیل خاور شاہ نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی کے ٹی او آرز کے مطابق چل رہے ہیں اور کمیٹی میں اپنے دلائل مکمل کرچکے ہیں۔ وکیل پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ اب تو ہمارے دلائل پر درخواست گزار نے جواب جمع کروانا ہے، ہمارے پارٹی اکاؤنٹس کی تفصیلات کے ساتھ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کے سرٹیفکیٹ موجود ہیں۔ وکیل خاور نے سماعت میں موقف اختیار کیا کہ اسکروٹنی کمیٹی ٹی او آرز کے مطابق اپنی سکروٹنی کررہی ہے، کمیٹی درخواست گزار کی خواہشات پر اپنے دائرہ اختیار سے باہر تو نہیں جاسکتی۔ اس پر ڈائریکٹر جنرل لا نے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی کی کارروائی کے موجودہ اسٹیٹس کے حوالے سے رپورٹ ایک ہفتے میں مکمل کر لیں گے، انہوں نے کمیشن کو آگاہ کیا کہ کمیٹی کے اراکین گھر سے کام کر رہے ہیں۔ چیف الیکشن کمیشن نے ڈی جی لا نے دریافت کیا کہ اسکروٹنی کمیٹی کی حتمی رپورٹ کب تک دیں گے؟ جس کے جواب میں ڈی جی لا کا کہنا تھا کہ ابھی تو بینک اکاؤنٹس کا آڈٹ کرنا ہے، اسٹیٹ بینک کے مہیا کردہ اکاونٹ کا جائزہ لینا ہے۔ جس پر چیف الیکشن کمشنر نے ہدایت کی کہ اسکروٹنی کمیٹی کے اسٹیٹس رپورٹ ایک ہفتے کے اندر پیش کریں۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی کی حتمی رپورٹ کے حوالے سے 4 ہفتے بعد دوبارہ جائزہ لیں گے امید ہے 4 ہفتے میں آپ کام مکمل کر چکے ہوں گے۔ خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس نومبر 2014 سے زیر التوا ہے جو اس پارٹی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے دائر کیا تھا۔ کیس میں الزام لگایا گیا تھا کہ غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے ‘ہنڈی’ کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔ ان کا یہ بھی الزام تھا کہ جو فنڈز بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس حاصل کرتے تھے، اسے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پوشیدہ رکھا گیا۔ بعد ازاں ایک سال سے زائد عرصے تک اس کیس کی سماعت ای سی پی میں تاخیر کا شکار رہی تھی کیونکہ پی ٹی آئی کی جانب سے اکتوبر 2015 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی کہ اس کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال سے ای سی پی کو روکا جائے۔
جس کے بعد فروری 2017 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے دائرہ اختیار پر جائزہ لینے کے لیے کیس کو دوبارہ ای سی پی کو بھیج دیا تھا، اسی سال 8 مئی کو ای سی پی کے فل بینچ نے اس کیس پر اپنے مکمل اختیار کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی اس طرح کے ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی کہ درخواست گزار کو پارٹی سے نکال دیا گیا اور وہ پی ٹی آئی اکاؤنٹس پر سوالات اٹھانے کا حق کھو بیٹھے۔ علاوہ ازیں مارچ 2018 میں پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ اکاؤنٹس کے معاملات کو دیکھنے کے لیے ایک اسکروٹنی کمیٹی قائم کی گئی تھی جو اب تک فارن فنڈنگ کی تحقیقات کررہی ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فارن فنڈنگ کیس میں اکبر ایس بابر کی طرف سے لگائے گئے الزامات ثابت ہوگئے تو وزیراعظم عمران خان نااہل ہو سکتے ہیں اور ان کی تحریک انصاف پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔
