فاسٹ بولر محمد آصف کا سب سے بڑا پچھتاوا کیا ہے
سابق فاسٹ بولر محمد آصف نے کہا ہے کہ جس طریقے سے پابندی لگنے کے بعد انکا کرکٹ کیرئیر ختم ہوا اسکا افسوس اور پچھتاوا انہیں زندگی بھر رہے گا۔ ان خیالات کا اظہار محمد آصف نے ٹوئٹر پر اپنے مداحوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کیا۔
یاد رہے کہ پاکستان کے لیے 2005 میں ڈیبیو کرنے والے محمد آصف کا شمار اپنے وقت کے بہترین فاسٹ بولرز میں ہوتا تھا۔ ایخ زمانے میں جنوبی افریقہ کے سابق کپتان اے بی ڈیویلیرز نے محمد آصف کو دنیا کے پانچ بہترین بولرز میں سے ایک قرار دیا تھا۔ اسی طرح ڈیویلیرز کے ساتھی ہاشم آملہ آصف کو ’جادوگر‘ بولر کہا کرتے تھے۔ لیکن 2010 میں اس بولر کا جادو تب ختم ہو گیا ا جب انگلینڈ کے دورے پر محمد آصف، محمد عامر اور سلمان بٹ پر سپاٹ فکسنگ کے الزامات لگے۔ آصف پر پانچ سالہ پابندی لگی۔ بعد ازاں انہوں نے 2016 میں دوبارہ ڈومیسٹک کرکٹ شروع کی لیکن دوبارہ کبھی پاکستان کی نمائندگی نہ کر سکے۔ ان کے ایک مداح نے جب ان کا کیریئر ختم ہونے پر افسوس کا اظہار کیا تو آصف نے کہا ’آپ سب کو جتنا افسوس ہے اس سے 100 مرتبہ زیادہ افسوس مجھے ہے۔ جس طریقے سے میرا کرکٹ کیریئر ختم ہوا اس کا افسوس مجھے زندگی بھر رہے گا‘۔
چوہدری اختر گجر نامی صارف نے سابق پاکستانی فاسٹ بولر کے سامنے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ایک دفعہ پھر سے آپ کو انٹرنیشنل کرکٹ میں دیکھنا چاہتے ہیں، کیا ایسا ہونا ممکن ہے گجر صاحب؟‘ اس پر محمد آصف نے انہیں جواب دیا کہ ’اب وقت گزرگیا گجر صاحب۔‘ یاد رہے کہ سابق فاسٹ بولر نے 23 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی اور 106 وکٹیں حاصل کیں۔ ایک روزہ میچوں میں انہوں نے 38 میچوں میں 46 وکٹیں لیں جبکہ 11 ٹی20 میچوں میں انہوں 13 وکٹیں حاصل کیں۔
یہ بھی پڑھیں: باقر شوکت ڈاکٹرائن اور غربت کی ٹوپی
ٹوئٹر پر اپنے مداحوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے آصف کا کہنا تھا کہ وہ 150 کلو میٹر کی سپیڈ سے بولنگ کرنے والے بولر پر اس بولر کو فوقیت دیں گے جو 135 کی سپیڈ کے ساتھ ان سوئنگ اور آؤٹ سوئنگ دونوں طرح کی بولنگ کر سکے۔ انکا کہنا تھا ’کرکٹ بہٹ تیز ہے، صرف تیز بولنگ آپ کو نہیں بچا سکتی۔ ایک صارف نے ان سے سوال کیا کہ کون سا بیٹمسین ہے جن کو بولنگ کرواتے وقت انہیں مشکل لگتا تھا؟ جواب میں انہوں نے کہا کہ انڈیا کے وی وی ایس لکشمن اور راہل ڈراوڈ جیسے بیٹسمین ان کو ’ٹف‘ لگتے تھے اور ’آسان صرف میرا دوست کیون پیٹرسن تھا۔‘ یاد رہے انگلینڈ کے لیجنڈری بیٹسمین کیون پیٹرسن خود یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ اپنے کیریئر میں انہوں نے جتنے بولرز کا سامنا کیا ان میں سب سے بہترین بولر آصف تھے۔ گزشتہ برس انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ’میرے خیال میں دنیا بھر میں بہت سارے بیٹسمین ہوں گے جو آصف پر پابندی لگنے کے فیصلے پر خوش ہوں گے۔ آج تک جن بولرز کا میں نے سامنا کیا، ان میں آصف سب سے بہترین تھے۔‘
