سہیل آفریدی کی احسن اقبال سے ملاقات،شکایات کے انبارلگادیئے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے وفاقی وزیر احسن اقبال کی سربراہی میں وفاقی مذاکراتی ٹیم نے ملاقات کی، وزیراعلیٰ نے وفاق کی خیبرپختوںخوا سے ناانصافیوں کی شکایات کے انبار لگادیے۔
ملاقات میں عمران خان سے مشاورت و ملاقات، قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس، صوبے کے مالی و آئینی حقوق، ضم شدہ اضلاع کے ترقیاتی فنڈز، توانائی، گندم کی فراہمی، پن بجلی منصوبوں اور دیگر اہم بین الحکومتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے وفاقی وفد پر واضح کیا کہ خیبرپختونخوا کے ساتھ مسلسل امتیازی اور غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا جا رہا ہے اور اگر صوبے کے جائز آئینی و مالی حقوق سے مسلسل انکار کا سلسلہ برقرار رہا تو این ای سی اجلاس میں شرکت مشکل ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ سے متعلق اہم فیصلوں اور قومی نوعیت کے معاملات پر مشاورت کے لیے عمران خان سے ملاقات ناگزیر ہے کیونکہ تمام سیاسی جماعتیں اہم فیصلوں سے قبل اپنی قیادت سے رجوع کرتی ہیں اور صوبائی حکومت بھی اسی جمہوری اور سیاسی اصول پر عمل پیرا ہے۔
سہیل آفریدی نے وفاقی نمائندوں کو بتایا کہ خیبرپختونخوا کے ترقیاتی اور مالی حقوق میں مسلسل کٹوتیوں کا سلسلہ تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ اے آئی پی کی مد میں مختص فنڈز 37 ارب روپے سے کم کرکے 27 ارب روپے کر دیے گئے ہیں جبکہ ضم شدہ اضلاع کے ترقیاتی بجٹ کو 66 ارب روپے سے کم کرکے 56 ارب روپے تک محدود کر دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پنجاب سے گندم کی فراہمی میں رکاوٹوں، صوبے کے گیس حقوق اور پن بجلی منصوبوں سے متعلق مسائل بھی بھرپور انداز میں اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا روزانہ 500 ایم ایم سی ایف ڈی سے زائد گیس پیدا کرتا ہے لیکن اس کے باوجود صوبے کے عوام کو گیس کی شدید قلت اور لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے، حالانکہ صوبے کی مجموعی کھپت تقریباً 150 ایم ایم سی ایف ڈی ہے۔
انہوں نے اس صورتحال کو آئینی تقاضوں اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ گیس پیدا کرنے والے صوبے کو اس کے جائز حصے سے محروم رکھنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
