ایئرپورٹس پر موبائل فون چیکنگ: کیاواقعی FIAکو نئے اختیارات مل گئے؟

ایئرپورٹس پر مسافروں کے موبائل فون کی جانچ پڑتال سے متعلق ایک میڈیا رپورٹ کے بعد یہ تاثر سامنے آیا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو نئے اور غیر معمولی اختیارات دے دیے گئے ہیں۔ تاہم دستیاب معلومات کے مطابق ایسی کوئی باضابطہ قانون سازی یا سرکاری نوٹیفکیشن سامنے نہیں آیا جس سے یہ ثابت ہو کہ ایف آئی اے کو اس حوالے سے نئے اختیارات دیے گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایف آئی اے اہلکار اب مسافروں کے موبائل فون لے کر ان میں موجود کال ریکارڈ، پیغامات، واٹس ایپ ڈیٹا، سوشل میڈیا سرگرمی، تصاویر، ویڈیوز اور دیگر فائلوں کا جائزہ لے سکیں گے۔ مزید یہ بھی کہا گیا کہ اگر فون میں حکام کی نظر میں کوئی مشکوک مواد موجود ہو تو موبائل فون ضبط کیا جا سکتا ہے اور متعلقہ مسافر کو بورڈنگ سے روک کر آف لوڈ بھی کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اس اقدام کے بعد ایئرپورٹس پر نگرانی مزید سخت ہونے کا امکان ہے۔ اس سے قبل بھی متعدد ایسے واقعات سامنے آ چکے ہیں جن میں بعض مسافروں کو درست سفری دستاویزات اور ویزا ہونے کے باوجود مختلف وجوہات کی بنا پر آف لوڈ کیا گیا، جبکہ بعض افراد نے بعد میں متعلقہ فورمز یا سوشل میڈیا پر شکایت کرنے کے بعد سفر کی اجازت حاصل کی۔
تاہم فیکٹ چیک میں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ایف آئی اے کے پاس مسافروں کی اسکرونٹی، پروفائلنگ اور ضروری جانچ پڑتال کے اختیارات پہلے سے موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان اختیارات پر پہلے بھی کوئی پابندی نہیں تھی، اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ ادارے کو اس حوالے سے کوئی نئی قانونی طاقت دی گئی ہے۔
دستیاب معلومات کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب تک ایسا کوئی سرکاری نوٹیفکیشن یا قانونی ترمیم سامنے نہیں آئی جس سے ثابت ہو کہ ایف آئی اے کو ایئرپورٹس پر موبائل فون کی تلاشی کے نئے اختیارات دیے گئے ہیں۔ البتہ قومی سلامتی، امیگریشن یا قانون نافذ کرنے کے دائرہ کار میں ایف آئی اے پہلے سے موجود اختیارات کے تحت مسافروں کی جانچ پڑتال اور پروفائلنگ کر سکتا ہے۔
