ایران سے جنگ کے بعد خلیجی ممالک امریکہ سے بدظن کیوں ہو گئے؟

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور جنگ کے بعد خلیجی ممالک اور واشنگٹن کے تعلقات میں نمایاں تناؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر خلیجی ریاستیں امریکی سکیورٹی پالیسیوں سے نالاں ہیں اور اب چین کو ایک متبادل عالمی شراکت دار کے طور پر زیادہ سنجیدگی سے دیکھ رہی ہیں۔
ملائیشین ویب سائٹ سکیورٹی ڈیفنس ایشیا کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی جانب سے سکیورٹی اور سول نیوکلیئر تعاون کو سیاسی شرائط سے جوڑنے اور خطے میں جارحانہ حکمت عملی اختیار کرنے کے بعد خلیجی ممالک نے اپنی خارجہ اور معاشی پالیسیوں پر نظرثانی شروع کر دی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کو ایک غیر جانبدار، قابلِ اعتماد اور کم سیاسی شرائط رکھنے والے شراکت دار کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت کی جانب سے امریکی کمپنیوں کے ساتھ اربوں ڈالر مالیت کے شہری ترقی، توانائی، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے کئی طویل المدتی منصوبے غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ریاض اور ابوظہبی کے خودمختار سرمایہ کاری فنڈز نے امریکی تعمیراتی، ایرو اسپیس اور ایوی ایشن کمپنیوں کے ساتھ جاری کئی مذاکرات عارضی طور پر روک دیے ہیں، جبکہ سعودی عرب نے ویژن 2030، نیوم سٹی اور سول نیوکلیئر منصوبوں سے متعلق بعض امریکی کمپنیوں کے ساتھ حتمی معاہدوں کا عمل بھی مؤخر کر دیا ہے۔
اسی طرح متحدہ عرب امارات اور قطر کی فضائی کمپنیوں اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے امریکی دفاعی کمپنیوں، خصوصاً بوئنگ اور لاک ہیڈ مارٹن، کے ساتھ بعض طویل المدتی معاہدوں کی تجدید بھی روکنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کچھ سپلائی چین منصوبوں کو بھی یورپی اور چینی کمپنیوں کی جانب منتقل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ امریکی کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ بینکنگ اور ڈیٹا سینٹرز کے معاہدے بھی ازسرنو جائزے کے مرحلے میں ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین خطے میں کسی براہِ راست فوجی تصادم میں شامل ہوئے بغیر خاموش سفارت کاری کے ذریعے اپنا اثرورسوخ بڑھا رہا ہے۔ بیجنگ خلیجی ممالک کو سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی، جدید انفراسٹرکچر، سرمایہ کاری اور سکیورٹی تعاون کی پیشکش کر رہا ہے، جبکہ 2023 میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی میں اپنی ثالثی کو بھی اپنی سفارتی کامیابی کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کے دوران خطے کے اہم انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصانات کے بعد خلیجی قیادت نے امریکی پالیسیوں پر زیادہ کھل کر تنقید شروع کر دی ہے۔ اسی تناظر میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین نے امریکہ کو اپنی فضائی حدود اور فوجی اڈے ایران کے خلاف مزید حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا۔ خلیجی قیادت کا مؤقف ہے کہ وہ کسی بڑی طاقت کی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہتی اور اپنے قومی مفادات کو اولین ترجیح دے گی۔
رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی اور سول نیوکلیئر تعاون کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی، یعنی ابراہیمی معاہدوں، سے مشروط کرنے کی کوششوں کو خلیجی ممالک نے اپنے داخلی فیصلوں میں مداخلت قرار دیا۔ اسی پس منظر میں سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات نے چین، روس اور ایران کے ساتھ بیک چینل سفارت کاری میں بھی اضافہ کیا ہے۔
تاہم یہ بات اہم ہے کہ مذکورہ دعوے بنیادی طور پر ایک میڈیا رپورٹ پر مبنی ہیں۔ خلیجی ممالک اور امریکہ کے درمیان دفاع، تجارت، سرمایہ کاری اور سکیورٹی کے تعلقات اب بھی گہرے ہیں، اور کسی بڑے معاہدے کی منسوخی یا پالیسی میں بنیادی تبدیلی کی تصدیق متعلقہ حکومتوں کی جانب سے باضابطہ طور پر سامنے نہیں آئی۔ اس لیے ان دعوؤں کو حتمی پیش رفت کے بجائے جاری سفارتی اور تزویراتی تبدیلیوں کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔
