کیا PTI اور جے یو آئی (ف) کے مابین دیرپا سیاسی اتحاد ممکن ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے درمیان ممکنہ سیاسی تعاون کی قیاس آرائیاں ایک بار پھر زور پکڑ گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی 5 اگست کو بانی چیئرمین عمران خان کی قید کے تین سال مکمل ہونے پر مجوزہ احتجاجی تحریک میں جے یو آئی (ف) کو بھی شامل کرنا چاہتی ہے، جس کے لیے دونوں جماعتوں کے درمیان مختلف سطحوں پر رابطے اور مشاورت جاری ہے۔ تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ کیا ماضی کی شدید سیاسی تلخیوں، نظریاتی اختلافات اور باہمی عدم اعتماد کے باوجود دونوں جماعتیں کسی دیرپا سیاسی اتحاد پر متفق ہو سکتی ہیں یا یہ قربت صرف موجودہ سیاسی حالات تک محدود رہے گی۔

مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کے تعلقات گزشتہ کئی برسوں سے کشیدہ رہے ہیں۔ 2018 کے عام انتخابات، حکومت سازی، اپوزیشن کی سیاست، تحریک عدم اعتماد اور خیبرپختونخوا کی سیاست میں دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی سخت مخالف رہی ہیں۔ دونوں کی قیادت ایک دوسرے پر شدید تنقید کرتی رہی ہے، جس کی وجہ سے ممکنہ اتحاد کی خبریں سیاسی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔

دوسری جانب پی ٹی آئی نے جے یو آئی (ف) سے رابطوں کی تصدیق بھی کر دی ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات اور پی ٹی آئی رہنما شفیع جان کے مطابق پارٹی مختلف سیاسی شخصیات سے مشاورت کر رہی ہے اور مولانا فضل الرحمان سے بھی رابطے جاری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پانچ اگست کے تناظر میں مختلف سیاسی قوتوں سے بات چیت کی جا رہی ہے تاکہ آئندہ کی حکمت عملی طے کی جا سکے۔

جے یو آئی (ف) کے رہنما کامران مرتضیٰ نے بھی مذاکرات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ مختلف مراحل میں دونوں جماعتوں کے درمیان رابطے ہوئے، تاہم کئی مواقع پر مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔ ان کے مطابق ایک مرحلے پر انہیں بتایا گیا کہ مذاکرات کے نوٹس گم ہو گئے ہیں، جبکہ بعد میں بھی رابطوں میں وقفے آتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تیسرے مرحلے میں انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ اب "چین آف کمانڈ” مضبوط ہے اور آئندہ رابطوں میں تعطل نہیں آئے گا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگرچہ دونوں جماعتوں کے درمیان رابطے موجود ہیں، تاہم مستقل سیاسی اتحاد کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔ سینیئر تجزیہ کار انصار عباسی کے مطابق پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کا اصل سیاسی مقابلہ خیبرپختونخوا میں ہے، اس لیے دونوں کے لیے طویل المدتی اتحاد آسان نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق پاکستان کی سیاست میں حالات بدلنے پر غیر متوقع اتحاد ممکن ہوتے ہیں، تاہم موجودہ صورتحال میں زیادہ امکان یہی ہے کہ دونوں جماعتیں کسی ایک مشترکہ معاملے پر وقتی تعاون کریں گی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نظریاتی اختلافات رکھنے والی جماعتیں بھی مشترکہ سیاسی مقاصد کے لیے اکٹھی ہوتی رہی ہیں۔ انہوں نے جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)، قومی اتحاد اور بے نظیر بھٹو و نواز شریف کے درمیان ہونے والے سیاسی تعاون کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کے درمیان تعاون کو مکمل طور پر خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم ان کے مطابق دونوں جماعتوں کی سیاسی ساخت، قیادت کا انداز اور تنظیمی مزاج ایک دوسرے سے مختلف ہے، جبکہ عمران خان کی قید کے باعث پارٹی کی فیصلہ سازی بھی متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے ایسے اتحاد کو طویل عرصے تک برقرار رکھنا آسان نہیں ہوگا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دونوں جماعتیں کسی مشترکہ مقصد کے لیے اکٹھی بھی ہو جائیں تو یہ نظریاتی یا فطری اتحاد نہیں ہوگا بلکہ کسی مخصوص سیاسی مقصد یا احتجاجی حکمت عملی تک محدود تعاون ہوگا۔ ان کے مطابق دونوں جماعتوں کا ووٹ بینک، خصوصاً خیبرپختونخوا میں، ایک دوسرے سے متصادم ہے اور مستقبل کے انتخابات میں انہیں دوبارہ ایک دوسرے کے مقابل آنا ہوگا، اس لیے مستقل اتحاد کے امکانات بہت کم جبکہ محدود مدت کے لیے تعاون کے امکانات زیادہ ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز، خصوصاً 5 اگست کے احتجاج سے متعلق پیش رفت، اس بات کا تعین کرے گی کہ دونوں جماعتوں کے درمیان جاری رابطے صرف مشاورت تک محدود رہتے ہیں یا وہ کسی مشترکہ سیاسی حکمت عملی پر بھی متفق ہو جاتی ہیں۔ مجموعی طور پر تجزیہ کاروں کی رائے یہی ہے کہ موجودہ حالات میں وقتی سیاسی تعاون ممکن ہے، تاہم ماضی کی تلخیاں، خیبرپختونخوا میں براہِ راست سیاسی مقابلہ، نظریاتی اختلافات اور تنظیمی فرق کسی بھی دیرپا اتحاد کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔

Back to top button