آزاد کشمیر الیکشن میں جیت کا اصل فیصلہ کون کرے گا؟

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 2026 میں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے، جبکہ استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی)، مسلم کانفرنس اور دیگر سیاسی جماعتیں بھی انتخابی میدان میں موجود ہیں۔ تاہم آزاد کشمیر کی سیاست میں جماعتی وابستگی سے زیادہ برادری، قبائلی اثر و رسوخ اور مقامی شخصیات کی اہمیت سمجھی جاتی ہے، جس کے باعث ہر انتخاب سے قبل متعدد سیاستدان اپنی سیاسی جماعتیں تبدیل کرتے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر میں ووٹر اکثر امیدوار کی ذاتی حیثیت، خاندان، برادری اور مقامی اثر و رسوخ کو جماعتی وابستگی پر ترجیح دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت بننے کے امکانات رکھنے والی جماعت کی طرف سیاسی رہنماؤں کی نقل و حرکت ایک معمول کی روایت بن چکی ہے، جس کا براہ راست اثر انتخابی نتائج پر بھی پڑتا ہے۔

سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس اس بار جماعت تبدیل کرنے والے نمایاں رہنماؤں میں شامل ہیں۔ وہ 2021 میں پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر وزیراعظم منتخب ہوئے، بعد ازاں استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہوئے، پھر پاکستان پیپلز پارٹی کا حصہ بنے اور اب دوبارہ آئی پی پی کے امیدوار کے طور پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔

کوٹلی کے حلقہ ایل اے 10 سے 2021 میں پی ٹی آئی کے امیدوار ملک یوسف بعد میں پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے، تاہم ٹکٹ نہ ملنے پر استحکام پاکستان پارٹی میں چلے گئے اور موجودہ انتخابات میں آئی پی پی کے امیدوار ہیں۔ اسی طرح میرپور کے حلقہ ایل اے ون ڈڈیال سے 2021 میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے چوہدری اظہر صادق اس مرتبہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ہیں، جہاں ان کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے چوہدری افسر شاہد سے ہوگا۔

بھمبر کے حلقہ ایل اے 6 سماہنی سے گزشتہ انتخابات میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے علی شان سونی اب استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار ہیں، جبکہ کوٹلی کے حلقہ ایل اے 8 راج محل میں مسلم لیگ (ن) سے اختلافات کے بعد ملک ذوالفقار علی نے آئی پی پی میں شمولیت اختیار کر لی اور اب اسی جماعت کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں۔

کوٹلی کے حلقہ ایل اے 13 کھوئی رٹہ سے 2021 میں پی ٹی آئی کے کامیاب امیدوار نثار انصر ابدالی بھی اب استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہو چکے ہیں، جبکہ باغ کے حلقہ ایل اے 16 سے منتخب ہونے والے سردار میر اکبر دوبارہ مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے قسمت آزما رہے ہیں۔ وہ 2016 میں بھی ن لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہو کر وزیر حکومت رہ چکے ہیں۔

مظفرآباد کے حلقہ ایل اے 31 کھاوڑہ سے سابق مسلم کانفرنس رہنما ثاقب مجید راجا اس مرتبہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ہیں اور ان کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے چوہدری لطیف اکبر سے ہوگا، جبکہ راجا مظہر قیوم نے بھی مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے متعدد رہنما اس بار پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر بھی انتخاب لڑ رہے ہیں۔ ان میں کوٹلی کے حلقہ ایل اے 11 سے ملک ظفر، میرپور سٹی کے یاسر سلطان، سہنسہ کے چوہدری اخلاق، لیپہ ویلی کے دیوان چغتائی اور مہاجرین کی نشست ایل اے 45 ویلی 6 سے عبدالماجد خان شامل ہیں۔

اسی طرح لیپہ ویلی کے حلقہ ایل اے 33 سے چوہدری رشید مختصر عرصے میں تین مختلف جماعتوں کا حصہ رہے۔ انہوں نے پہلے پی ٹی آئی، پھر پیپلز پارٹی اور بعد ازاں مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی اور اب ن لیگ کے امیدوار ہیں۔

دوسری جانب آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم چوہدری انوارالحق نے 2021 کا انتخاب پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر جیتا تھا، تاہم موجودہ انتخابات میں وہ کسی جماعت میں شامل ہونے کے بجائے آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اترے ہیں، حالانکہ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے انہیں شمولیت کی پیشکش بھی کی گئی تھی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آزاد کشمیر کے انتخابات میں برادریوں، قبائلی وابستگیوں اور مقامی شخصیات کا کردار اب بھی فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے، تاہم استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہونے والے سابق پی ٹی آئی رہنما اور دیگر جماعتیں تبدیل کرنے والے بااثر امیدوار کئی حلقوں میں انتخابی نتائج پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں، جس سے 2026 کے انتخابات گزشتہ ادوار کے مقابلے میں زیادہ دلچسپ اور غیر متوقع دکھائی دیتے ہیں۔

Back to top button