افغانستان میں طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل

افغانستان فریڈم فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان کے خلاف جاری مسلح مزاحمت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ یہ دعویٰ صوبہ بدخشاں کے ضلع زیبک میں طالبان اور مزاحمتی جنگجوؤں کے درمیان ہونے والی شدید جھڑپوں کے بعد سامنے آیا، جہاں دونوں فریق کئی گھنٹوں تک آمنے سامنے رہے۔
افغانستان فریڈم فرنٹ کے سیاسی سربراہ داؤد ناجی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ بدخشاں کے ضلع زیبک میں طالبان کے خلاف کارروائی ان کی تنظیم نے کی۔ ان کے مطابق آزادی کی فیصلہ کن جدوجہد اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور اس کا مقصد افغانستان کے عوام کو آزادی دلانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی کی مکمل تفصیلات جلد ایک باضابطہ بیان کے ذریعے جاری کی جائیں گی۔
مقامی ذرائع کے مطابق طالبان مخالف جنگجوؤں نے ضلع زیبک میں طالبان کی متعدد چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ جھڑپیں جمعرات کو شروع ہوئیں اور جمعے تک وقفے وقفے سے جاری رہیں، جس کے باعث علاقے میں کشیدگی برقرار رہی۔
طالبان حکام نے بھی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جھڑپوں میں کم از کم پانچ مزاحمتی جنگجو مارے گئے ہیں، تاہم طالبان نے اپنی جانب ہونے والے کسی جانی نقصان یا زخمیوں کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔
دوسری جانب بعض مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ لڑائی کے دوران طالبان کے تین مقامی کمانڈر بھی ہلاک ہوئے، تاہم اس دعوے کی طالبان نے تصدیق نہیں کی، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس کی توثیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ ہفتوں میں بدخشاں، تخار، قندوز، کاپیسا اور دیگر شمالی افغان صوبوں میں طالبان مخالف سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض علاقوں میں طالبان کو بڑھتے ہوئے مسلح چیلنجز کا سامنا ہے۔ تاہم ان دعوؤں اور ہلاکتوں کی تعداد کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، اس لیے فریقین کے بیانات کو احتیاط کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔
