پاکستان پر عائد 10فیصد امریکی ٹیرف کی اصل وجہ کیا؟

امریکہ نے پاکستان سمیت 60 اہم تجارتی شراکت دار ممالک پر "جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی روک تھام میں ناکامی” کو بنیاد بناتے ہوئے 10 فیصد سے 12.5 فیصد تک نئے درآمدی ٹیرف نافذ کر دیے ہیں، جن کا اطلاق 25 جولائی سے شروع ہو گیا ہے۔ ان ممالک میں پاکستان کے علاوہ بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، چین، برطانیہ، یورپی یونین، جاپان اور کینیڈا بھی شامل ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام ان ممالک پر دباؤ بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے جو جبری مشقت سے تیار شدہ اشیا کی درآمد روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے دفتر نے واضح کیا ہے کہ نئے ٹیرف 1974 کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نافذ کیے جا رہے ہیں، جس کا مقصد امریکی تجارت کو نقصان پہنچانے والی پالیسیوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ گریر کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کے مطابق امریکی کارکنوں کو ایسی مصنوعات سے مقابلہ نہیں کرنا چاہیے جو جبری مشقت کے ذریعے تیار کی گئی ہوں، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ اس اقدام کو انسانی حقوق کے تحفظ اور امریکی صنعت کے دفاع کا حصہ قرار دے رہی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب رواں برس فروری میں امریکی سپریم کورٹ صدر ٹرمپ کے سابقہ عالمی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کر چکی تھی۔ عدالت کے فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے "جبری مشقت” کو بنیاد بنا کر نئے ٹیرف نافذ کیے ہیں۔ اس سے قبل پاکستان پر عائد 29 فیصد ٹیرف کو کم کر کے 19 فیصد کیا گیا تھا، تاہم اب نئی 10 فیصد درآمدی ڈیوٹی نافذ کر دی گئی ہے۔
پاکستانی حکومت کا مؤقف ہے کہ ملکی برآمدی شعبہ بین الاقوامی لیبر معیارات پر عمل درآمد کر رہا ہے۔ وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت رانا احسان افضل کے مطابق وزارتِ تجارت اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے اور اس سلسلے میں اعلیٰ سطح کا اجلاس بھی طلب کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق نئی امریکی ڈیوٹی کا ایک قانونی پس منظر موجود ہے اور حکومت اس کے اثرات کا جائزہ لینے کے بعد آئندہ حکمت عملی طے کرے گی۔
دوسری جانب بین الاقوامی تجارت کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ ٹیرف پاکستان کی برآمدات کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔ تجارتی ماہر اقبال تابش کے مطابق امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، جبکہ پاکستانی صنعت پہلے ہی مہنگی بجلی، بلند شرح سود، بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اضافی 10 فیصد درآمدی ڈیوٹی پاکستانی برآمد کنندگان کی مسابقت مزید کم کر سکتی ہے، خصوصاً اس لیے کہ بھارت اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں پیداواری لاگت نسبتاً کم ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان نے امریکہ کو تقریباً 5 ارب 83 کروڑ ڈالر کی مصنوعات برآمد کیں، جبکہ امریکہ سے درآمدات کا حجم ایک ارب 74 کروڑ ڈالر رہا۔ اس طرح دوطرفہ تجارت میں پاکستان کو چار ارب ڈالر سے زائد کا تجارتی سرپلس حاصل رہا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ امریکی منڈی پاکستانی برآمدات کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
پاکستان کی امریکہ کو برآمد کی جانے والی مصنوعات میں تقریباً 90 فیصد حصہ ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کا ہے، جبکہ اس کے علاوہ چمڑے کی مصنوعات، کھیلوں کا سامان، فرنیچر، قالین، فٹ ویئر، پلاسٹک، نمک، سیمنٹ اور دیگر صنعتی مصنوعات بھی برآمد کی جاتی ہیں۔ دوسری جانب امریکہ سے پاکستان خام کپاس، لوہا و اسٹیل، مشینری، کیمیکلز، ادویات اور دیگر صنعتی خام مال درآمد کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان پر عائد نیا ٹیرف تمام برآمدات پر یکساں دباؤ ڈالے گا، تاہم سب سے زیادہ اثر ٹیکسٹائل صنعت پر پڑنے کا امکان ہے کیونکہ امریکی مارکیٹ میں پاکستان کی برآمدات کا بڑا انحصار اسی شعبے پر ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو امریکہ کے ساتھ حالیہ تجارتی روابط اور سفارتی تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے رعایت یا متبادل سہولتیں حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ ملکی برآمدات پر ممکنہ منفی اثرات کو کم کیا جا سکے۔
