آزاد کشمیر میں انتخابات سے پہلے پرتشدداحتجاج اور ہلاکتیں کیوں؟

آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل سیاسی کشیدگی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ پرتشدد احتجاج، سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان خونریز جھڑپیں، انٹرنیٹ کی طویل بندش، انتخابی مہم پر پابندیوں جیسے حالات اور درجنوں ہلاکتوں نے انتخابی عمل کی شفافیت اور ساکھ پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں پر جاری تنازع ہے، جس نے عوامی احتجاج کو ایک بڑے سیاسی بحران میں تبدیل کر دیا۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ کئی ماہ سے ان 12 مخصوص نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے، جو ان افراد کے لیے مختص ہیں جو کئی دہائیاں قبل انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے پاکستان منتقل ہوئے تھے۔ کمیٹی کا مؤقف ہے کہ ان نشستوں پر ایسے افراد منتخب ہوتے ہیں جو آزاد کشمیر میں مقیم نہیں، جس کے باعث مقامی آبادی کی حقیقی نمائندگی متاثر ہوتی ہے اور قانون ساز اسمبلی میں عوام کے مینڈیٹ کی عکاسی نہیں ہوتی۔ حکومت کا مؤقف اس کے برعکس ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نشستیں تاریخی، آئینی اور قانونی بنیادوں پر قائم کی گئی تھیں تاکہ مہاجرینِ کشمیر کی نمائندگی بھی اسمبلی میں برقرار رہے، اس لیے انہیں ختم نہیں کیا جا سکتا۔
اسی اختلاف کے باعث جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے لانگ مارچ، دھرنوں اور احتجاجی تحریک کا آغاز کیا، جس کے بعد حکومت نے انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت کمیٹی پر پابندی عائد کر دی اور متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیں۔ اس دوران راولاکوٹ، مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں کم از کم 40 افراد جان سے گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں 34 مظاہرین جبکہ چھ پولیس اور نیم فوجی اہلکار شامل تھے۔ راولاکوٹ سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ رہا، جہاں متعدد افراد گولی لگنے سے جاں بحق ہوئے۔ ان میں محکمہ تعلیم کے ملازم نقاش زرداد بھی شامل تھے، جو اپنے فارم پر موجود تھے اور جھڑپوں کے دوران گولی لگنے سے جان کی بازی ہار گئے۔
صورتحال مزید کشیدہ ہونے پر حکومت نے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک آزاد کشمیر کے بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ سروس معطل رکھی، جس سے نہ صرف معمولاتِ زندگی بلکہ انتخابی مہم بھی شدید متاثر ہوئی۔ 23 جولائی سے میرپور ڈویژن میں جزوی طور پر انٹرنیٹ بحال کیا گیا تاکہ پہلے مرحلے کے انتخابات کا انعقاد ممکن بنایا جا سکے، تاہم دیگر علاقوں میں بندش برقرار رہنے پر سیاسی جماعتوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
آزاد کشمیر کی 53 رکنی قانون ساز اسمبلی میں 33 نشستوں پر براہ راست انتخابات ہوتے ہیں، جبکہ آٹھ مخصوص نشستیں خواتین اور دیگر طبقات کے لیے مختص ہیں۔ اس کے علاوہ 12 نشستیں مہاجرینِ جموں و کشمیر کے لیے مخصوص ہیں، جنہیں ختم کرنے کا مطالبہ اس وقت تحریک کا مرکزی نکتہ بن چکا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کے مطابق انتخابات تین مراحل میں منعقد کیے جا رہے ہیں۔ 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دو اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی 12 نشستوں جبکہ 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی، اور نتائج بھی مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔
کشیدہ ماحول کے باعث اس مرتبہ انتخابی مہم گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں انتہائی محدود رہی۔ متعدد امیدواروں نے بڑے جلسوں کے بجائے گھر گھر جا کر انتخابی مہم چلانے کو ترجیح دی، جبکہ کئی مقامات پر امیدواروں کی گاڑیوں اور دیگر املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ بعض امیدواروں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر وہ کھلے عام جلسے کریں گے تو احتجاج یا تشدد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ ایکشن کمیٹی کے حامیوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کا خوف لاحق رہا۔
سیاسی جماعتوں نے بھی موجودہ صورتحال پر مختلف مؤقف اختیار کیا۔ مسلم لیگ (ن) کی امیدوار نورین عارف نے عوامی جلسوں کے بجائے محدود رابطہ مہم چلائی، جبکہ پیپلز پارٹی کے رہنما سردار مختار خان نے اعتراف کیا کہ نوجوانوں میں عوامی ایکشن کمیٹی کو خاصی مقبولیت حاصل ہے، اس لیے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے طرزِ مہم میں تبدیلی لانا پڑی۔ وفاقی وزیر امور کشمیر امیر مقام کا کہنا ہے کہ تمام مشکلات کے باوجود انتخابات کا انعقاد ہی عوام کو نمائندگی دینے کا آئینی اور جمہوری راستہ ہے، جبکہ سابق سرکاری عہدیدار زاہد امین سمیت بعض مبصرین کے مطابق موجودہ حالات میں ہونے والے انتخابات کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے بھی موجودہ صورتحال پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انتخابات کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا، جبکہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انٹرنیٹ بندش اور سیاسی ماحول کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب عوام 40 روز تک فون اور انٹرنیٹ سے محروم رہیں تو آزادانہ انتخابی مہم کیسے چلائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ آزاد کشمیر میں "ٹروتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن کمیشن” قائم کیا جائے تاکہ تمام فریقین کے تحفظات دور کیے جا سکیں اور عوام کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
صورتحال پر بین الاقوامی ردعمل بھی سامنے آیا۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے تمام ہلاکتوں کی فوری، جامع اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خواہ متاثرین مظاہرین ہوں یا سکیورٹی اہلکار، ہر واقعے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت پابندی اور اجتماعات پر عائد سخت پابندیوں پر بھی تشویش ظاہر کی اور انہیں اظہارِ رائے اور پرامن احتجاج کے حقوق سے متعلق سنگین مسئلہ قرار دیا۔
دوسری جانب بھارت نے اس صورتحال کو کشمیریوں کے بنیادی حقوق سے جوڑتے ہوئے پاکستان پر تنقید کی، جبکہ پاکستان نے بھارتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں تمام معاملات آئینی اور جمہوری فریم ورک کے تحت حل کیے جا رہے ہیں اور بھارت اپنے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ بحران صرف 12 نشستوں کے تنازع تک محدود نہیں بلکہ یہ آزاد کشمیر میں سیاسی نمائندگی، حکمرانی، عوامی اعتماد، ریاستی ردعمل اور جمہوری عمل سے جڑے وسیع تر سوالات کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ ان کے نزدیک پائیدار حل صرف انتخابات کے انعقاد سے نہیں بلکہ سیاسی مکالمے، عوامی اعتماد کی بحالی، شفاف تحقیقات، قانون کی حکمرانی اور تمام فریقوں کے درمیان مفاہمت کے ذریعے ہی ممکن ہوگا، تاکہ خطہ دوبارہ سیاسی استحکام اور معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکے۔
