نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کے پہلے سربراہ جنرل عامر رضا کی تقرری اتنی اہم کیوں؟

ملکی عسکری کمانڈ نظام میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وزیراعظم شہباز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر ملک کی نئی قائم ہونے والی نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کا پہلا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد وجود میں آنے والا یہ عہدہ پاکستان کے جوہری اور تزویراتی اثاثوں کی نگرانی اور کمان کا ذمہ دار ہوگا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ تقرری نہ صرف عسکری ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے بلکہ مستقبل کی دفاعی حکمت عملی اور جدید جنگی تقاضوں کے تناظر میں بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان کے دفاعی اور عسکری نظام میں ایک بڑی انتظامی تبدیلی کے تحت وزیراعظم شہباز شریف نے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ مقرر کر دیا ہے۔ وہ اس نئے منصب پر تعینات ہونے والے پہلے جنرل ہیں، جسے گزشتہ سال 27ویں آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ میں تبدیلیوں کے بعد متعارف کرایا گیا تھا۔

وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم نے جنرل عامر رضا کو نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ نئی قانون سازی کے تحت سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کرکے اس کی جگہ نیشنل سٹریٹجک کمانڈ قائم کی گئی، جسے پاکستان کے جوہری اور تزویراتی اثاثوں کی نگرانی اور کمان کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

قانون کے مطابق کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کی تقرری وزیراعظم، چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر تین سال کے لیے کریں گے، جبکہ قومی سلامتی کے تقاضوں کے تحت اس مدت میں مزید تین سال کی توسیع بھی دی جا سکتی ہے۔ اس تقرری یا توسیع کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا، جبکہ اس عہدے پر تعینات جنرل پر ریٹائرمنٹ کی عمومی عمر کی پابندیاں بھی لاگو نہیں ہوں گی۔

خیال رہے کہ آرمرڈ کور سے تعلق رکھنے والے جنرل عامر رضا پاکستانی فوج میں مختلف اہم کمانڈ، انتظامی اور دفاعی مناصب پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ چیف آف جنرل اسٹاف، ڈائریکٹر جنرل ویپنز اینڈ ایکوپمنٹ، چیئرمین ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا اور کھاریاں انفنٹری ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ بھی رہ چکے ہیں۔ اپریل 2020 میں انہوں نے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کی قیادت سنبھالی، جبکہ اکتوبر 2022 میں انہیں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔

جنرل عامر رضا کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے گریجویٹ ہیں، جبکہ برطانیہ سے ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کر چکے ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ خدمات کے اعتراف میں انہیں ہلالِ امتیاز (ملٹری) اور ستارۂ بسالت سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق جنرل عامر رضا ان بارہ میجر جنرلز میں شامل تھے جنہیں 2022 میں سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی تھی۔ بعد ازاں نو مئی کے واقعات کے بعد انہیں لاہور کور کمانڈر کی اہم ذمہ داری بھی سونپی گئی۔ ان کا تعلق بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی طرح آفیسر ٹریننگ اسکول منگلا سے بتایا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کا قیام پاکستان کے دفاعی ڈھانچے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد ملک کے جوہری اور تزویراتی اثاثوں کی مؤثر نگرانی، دفاعی منصوبہ بندی اور جدید جنگی تقاضوں کے مطابق عسکری صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ پہلے یہ ذمہ داریاں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے پاس تھیں، تاہم نئے نظام کے تحت انہیں الگ کمان کے سپرد کر دیا گیا ہے۔دفاعی مبصرین کے مطابق جنرل عامر رضا کی تقرری سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان مستقبل کی سکیورٹی ضروریات، جدید دفاعی حکمت عملی اور اسٹریٹجک اثاثوں کے تحفظ کے لیے اپنے عسکری کمانڈ ڈھانچے کو مزید مؤثر اور مربوط بنانے کی جانب پیش رفت کر رہا ہے۔

Back to top button